براساس برچسب: آل سعود

بیانیه مجمع جهانی اهل بیت(ع) در واکنش به جنایات مداوم آل سعود در

بیانیه مجمع جهانی اهل بیت(ع) در واکنش به جنایات مداوم آل سعود در "العوامیة"

Saturday, 07 مرداد 1396

به گزارش خبرگزاری اهل‌بیت(ع) ـ ابنا ـ در واکنش به جنایات مداوم رژیم سفاک آل سعود در منطقه شیعه نشین "العوامیة" مجمع جهانی اهل بیت(ع) بیانیه ای صادر کرد.

متن کامل این بیانیه به شرح زیر است:

بسم الله الرحمن الرحیم

إِنَّ فِرعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِنهُم يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُم وَيَستَحيِي نِسَاءَهُم إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفسِدِين. (القصص: 4)

اخبار تأسف بار تداوم ظلم و جنایت رژیم دیکتاتور و سفاک آل سعود در حق مردم مسلمان وپیرو اهل بیت(ع) شهر "العوامیة" در شرق عربستان این روزها در هیاهوی رسانه های دنیا، مسکوت مانده و جوامع بین المللی وسازمانهای حقوق بشری در سایه تداوم سکوت و انفعال، این فرصت را به این رژیم خون­خوار داده تا بر تداوم و افزایش حملات نظامی و امنیتی خود علیه این مردم مظلوم و بی پناه افزایش دهد.

کشته شدن ده ها نفر از جوانان معترض که از حقوق مدنی خود دفاع کردند، ویران کردن منازل مردم با موشک وخمپاره و تخریب زیرساخت های مسکونی آنها، مساجد و حسینیه ها، بازارها و اماکن تجاری با استفاده از خودروهای زرهی و برقراری ممنوعیت رفت و آمد شبانه و دستگیری صدها نفر از مردم؛ نمونه هایی از ددمنشی این رژیم علیه شهروندان خود در شهر العوامیه می باشد.

برخی خبرگزاری­ها از وسعت تخریب های ناشی از وحشی­گری و خشونت آل سعود گزارش داده و آن را با حجم وسیع خرابی ها عوامل تکفیری و تروریسم در سوریه و یمن مقایسه می کنند؛ این مسئله نشان می دهد که این رژیم به بهانه دستگیری چند جوان مبارز؛ در صدد تسویه حساب قومی – مذهبی و سرکوب خواسته های به حق مردم این منطقه است.

مجمع جهانی اهل بیت(ع) ضمن محکوم کردن اقدامات سرکوب گرایانه وددمنشانه رژیم آل سعود وتجاوز آشکار به آزادی ها وحقوق مدنی ودینی شهروندان، از سیاستهای دوگانه حقوق بشری غرب در قبال این رژیم مستبد بشدت متأسف و گله مند است. زیرا این رژیم علاوه بر سرکوب ملت خود بیش از دو سال است که کشور یمن را آماج همه جانبه حملات قرار داده و علاوه بر بمباران تمامی زیر ساخت های اقتصادی، اقدام به کشتن و آوارگی هزاران نفر در این کشور نموده است. و از طرفی از گروههای ترویستی و تکفیری در سوریه و عراق حمایت تسلیحاتی و مالی می کند.

مجمع جهانی اهل بیت(ع) در این شرایط حساس و بحرانی، از همه علمای اعلام و خطبای مساجد وحقوقدانان وفرهیختگان جهان می خواهد نا نسبت به این حوادث دردناک و فاجعه آمیز واکنش مناسب نشان داده و اقداماتی جدی و موثر در افشا وجلوگیری از ادامه این جنایات توسط رژیم آل سعود و متحدانش برداشته و به هر وسیله مناسب سازمانهای بین المللی وحقوق بشری را نسبت به وظایف ومسئولیت­های خود آگاه نموده تا اقدامات حقوقی و قانونی را جهت محکوم کردن این جنایات ومجازات عاملان در دادگاههای بین المللی اتخاذ نمایند.

وَ سَیَعلَمُ الَّذینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُون. (الشعراء: 227)

مجمع جهانی اهل بیت علیهم السلام
7 مرداد 1396
مصادف با 5 ذوالعقده 1438

الشيخ أختري: آل سعود المجرمون يسعون لتطبيع العلاقات مع إسرائيل

الشيخ أختري: آل سعود المجرمون يسعون لتطبيع العلاقات مع إسرائيل

Saturday, 03 تیر 1396

وفقاً لما أفادته وكالة أهل البيت للأبناء - ابنا – شارك أهالي مدينة ري الإيرانية (جنوب العاصمة طهران) وبصورة حاشدة في يوم القدس العالمي، وهتفوا بشعارات "الموت لأمريكا، و"الموت لإسرائيل"، "الموت لضد ولاية الفقيه"، و"الموت للدواعش"، و"الموت لآل سعود الخونة"، وذلك لدعم الشعب الفسطيني المظلوم، والتبري من الاستكبار العالمي.

وقد رفعوا لافتات تحمل شعارات في الدفاع عن الشعب الفلسطيني المضطهد، وتضامن المسلمين ووحدتهم في مواجهة الكيان المحتل للقدس مؤكدين أن هذا الكيان هو العدو الأول للعالم الإسلامي.

واعلنوا خلال مسيراتهم عن تمام دعمهم للهجوم الصاروخي للثورة الإسلامية الإيرانية على الدواعش التكفيريين معتبرين إياهم جماعات إرهابيين أتوا كعنصر لنيسان القضية الفلسطينية ومبادئها، كما وأكدوا على وعي العالم الإسلامي من أجل مواجهة العدو المشترك لجميع المسلمين.

وكان الأمين العام للمجمع العالمي لأهل البيت (ع) من المشاركين في هذه المسيرات، وفي كلمته التي ألقاها في الحشود الصائمين صرح: إن إسرائيل وأميركا وحلفائهم في المنطقة بما فيهم النظام السعودي والخليفي، ضيقوا الخناق على المسلمين، وأضاف: إن آل سعود المجرمين وقفوا في الخط الأمامي لتنفيذ النوايا والسياسات الاستكبارية الغربية في المنطقة.

وقال حجة الإسلام والمسلمين "محمد حسن أختري": إن آل سعود يسعون مجدين لإيجاد شرعية للكيان المحتل للقدس، بغية تطبيع العلاقات مع هذا الكيان وإنهاء جميع مناضلات الفلسطينين.

وتابع: إن إسرائيل نجحت إلى حد ما ومع مساندة النظام السعودي ومرتزقة هذا الكيان في المنطقة أن تلهي المقاومة الإسلامية في سوريا ولبنان وسائر البلدان الإسلامية بعدو باسم "داعش"، لتلبي بذلك غايات الاستكبار، وهذا يتطلب وعي المسلمين وانتباهم أكثر مما مضى.

وقال سماحته: إن قائد الثورة الإسلامية المعظم اليوم قد رفع راية المحاربة ضد الكيان المحتل للقدس مرفرفة، وأن الشعوب البصيرة والعارفة بزمانها وعصرها تحذو حذوه أيضاً.

وفيما يرتبط بجهود المجمع العالمي لأهل البيت (ع) وما ينتمي إليها من جمعيات، لإيصال ودعم الشعب اليمني المظلوم وسائر دول المنطقة بدواء والغذاء قال سماحته: إن المؤمنين والمتبرعين لأتباع أهل البيت (ع) يقدمون مساعداتهم المالية عن طريق هذه المؤسسة لاستمرار هذا الدعم، مشاركين في ذلك الثواب لهذه المبادرة القيمة والثورية.

والجدير للذكر، ان الإمام الخميني عام  1979 م وبمبادرة ذكية أطلق على الجمعة الأخيرة لشهر رمضان اسم "يوم القدس العالمي"، وطلب من مسلمي العالم أن يشاركوا في مسيرات ليعلنوا عن دعمهم لشرعية حقوق الشعب الفلسطيني المسلم وتضامناً معهم.
......
انتهى / 278

مہدویت کے سلسلے میں سعودی شہزادے کے جاہلانہ اظہار خیال اور العوامیہ پر آل سعود کی یلغار کیخلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا ردعمل

مہدویت کے سلسلے میں سعودی شہزادے کے جاہلانہ اظہار خیال اور العوامیہ پر آل سعود کی یلغار کیخلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا ردعمل

Tuesday, 26 ارديبهشت 1396

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے اپنے بیان میں شیعہ اکثریتی شہر العوامیہ کے محلہ "المسورہ" کے انہدام کی غرض سے اس پر آل سعود کے گماشتوں کی یلغار کی مذمت کی اور اس محلے کے خلاف تمام فرقہ وارانہ سعودی اقدامات کی ذمہ داری عالمی برادری پر عائد کردی / عقیدۂ مہدویت کے خلاف محمد بن سلمان آل سعود کی ہرزہ سرائیوں کی شدید مذمت۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا مکمل متن:
بسم الله الرحمن الرحیم

"إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعاً يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ"؛ (سورہ قصص، آیت 4)
ترجمہ:
بلاشبہ فرعون نے گھمنڈ کیا اور اس میں رہنے والوں کو متفرق جماعتوں میں تقسیم کردیا، یوں کہ ایک گروہ کو وہ کمزور [اور بےبس] بناتا تھا اور ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھ لیتا تھا، یقینا وہ [روئے زمین پر] فساد [اور خرابی] پھیلانے والوں می سے تھا۔
مشرقی جزیرۃ العرب میں واقع شیعہ آبادی کے شہر العوامیہ کے عوام اور مساجد سے توپخانے، ٹینکوں، بکتربند گاڑیوں اور جنگی گولوں سے وحشیانہ حملہ، درحقیقت جاہل سعودی شہزادے محمد بن سلمان کے عقیدے کا عملی نفاذ ہے جس نے حال ہی میں اپنے ایک ٹیلی ویژن مکالمے میں مہدویت کے بارے میں مسلمانوں کے عقیدے کی بدگوئی کی اور وہابی تفکر کے سائے میں منافرت انگیز دہشت گردی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو اپنی زہرافشانی کا نشانہ بنایا۔
شیعہ آبادی کے شہر العوامیہ کے محلے المسورہ پر آل سعود کے حملے کے لئے اس خاص وقت کا تعین حادثانی نہ تھا بلکہ یہ حملہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے سلسلے میں مسلمانوں کے محافل جشن کے موقع پر انجام پایا، جس وقت لوگ ظلم سے نجات اور فراخی و آسائش کے انتظار [انتظارِ فَرَج] کے سلسلے میں منقولہ احادیث سننے کے لئے اجتماع کرتے ہیں۔ لیکن آل سعود کا کہنا ہے کہ "یہ نجات محال اور ناممکن ہے اور ان کی گولیوں کی صدا نصف شعبان کے جشنوں کی صدا سے کہیں زیادہ اونچی ہے!
العوامیہ کا شہر ـ جس کے گلی کوچے ابھی تک "شہید شیخ نمر" کی سانسوں سے بھرے ہوئے ہیں ـ یہ شجرہ ملعونہ [آل سعود] کے لئے ایک مشکل مسئلے میں بدل چکا ہے؛ اس شہر کا محلے "المسورہ" کو اس وقت پےدرپے حملوں کا سامنا ہے اور اب تک ایک بچے سمیت 4 افراد شہید ہوچکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جس طرح کہ سید مقاومت "سید حسن نصر اللہ" نے حزب اللہ کے کمانڈر شہید مصطفی بدرالدین [شہید ذوالفقار] کی شہادت کی برسی کے موقع پر اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ "محمد بن سلمان نے در حقیقت جزیرہ نما کے اکابرین علماء کی انجمن نیز سعودی حکمرانوں کی رائے کی ترجمانی کی ہے" اور کہا کہ "ایران کے ساتھ سعودیوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی امام مہدی علیہ السلام کے منتظر ہیں، حالانکہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اجماع پایا جاتا ہے اور یہ ایسا موضوع نہیں ہے جو صرف شیعہ مکتب تک محدود ہو، اور تمام مسلمانان عالم جانتے ہیں کہ امام(ع) مکہ سے ـ نہ کہ تہران اور دمشق اور بیروت سے ـ اٹھیں گے"۔
جیسا کہ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا: "امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اہل سنت کے مصادر اور کتب میں دسوں متواتر روایات اور احادیث نقل ہوئی ہیں"؛ منجملہ ان احادیث کا حوالہ دیا جاسکتا ہے:
1۔ ابو سعید خدری سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: میری امت کے آخری زمانے میں مہدی قیام کریں گے اور خداوند متعال انہیں باران رحمت سے سیراب کریں گے، اور زمین اپنی تمام اگنے والی چیزوں کو خارج کرے گی، اور وہ مال کو صحیح انداز سے عطا کریں گے اور امت ان کے زمانے میں قابل تکریم و تعظیم ہوگی، اور وہ سات یا آٹھ سال حکومت کریں گے۔
2۔ احمد بن حنبل نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: قیامت بپا نہیں ہوگی، مگر یہ کہ زمین ظلم و جارحیت سے بھر جائے، اور اس اثناء میں میرے خاندان یا عترت سے ایک مرد ظہور کرے گا اور زمین میں ظلم و جور کے عام ہونے کے بعد، اس کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔
3۔ ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: مہدی مجھ سے ہیں، کشادہ پیشانی اور اونچی ناک کے مالک ہیں، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جب کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔
4۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم فکرمند ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد کوئی واقعہ رونما ہو، چنانچہ بعداز آں میں نے آنحضرت(ص) سے پوچھا تو آپ(ص) نے فرمایا: بلاشبہ میری امت میں مہدی خروج کریں کے، اور زندگی بسر کریں گے پانچ سال، سات سال یا نو سال تک، [برسوں کے عدد میں تردد راوی (زید) کی طرف سے ہے] تو ہم نے عرض کیا: یہ واقعہ کب ہوگا؟ تو حضور اکرم(ص) نے فرمایا: بہت سال بعد؛ پس آئے گا ان کے پاس ایک مرد اور کہے گا اے مہدی! مجھے کچھ عطا کیجئے! اور اس کے لباس میں اس قدر [مال] بھریں گے، کہ وہ وہ مرد اسے اٹھا نہیں سکے گا۔
5۔ امام علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت سے ہیں، خداوند ان کے امر کو ایک شب میں سدھارے گا۔
6۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: مہدی میری ذریت سے ہیں، فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی اولاد سے۔
7۔ ابن مسعود سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: اگر دہر کی عمر میں صرف ایک دن رہتا ہو، بلاشبہ خداوند اس دن کو اس قدر طویل فرمائے گا کہ میرے اہل بیت کا ایک مرد کو مبعوث فرمائےگا تا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے پر کردے جس طرح کہ یہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہوگی۔
اور متعدد دیگر احادیث، جنہیں اس نادان شہزادے کو سمجھانے کا کام دیوان سلطانی کو اپنے ذمے لینا چاہئے۔
ہم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں شہر العوامیہ کے محلے المسورہ پر سعودی فوج کی یلغار کی مذمت کرتے ہیں اور ذیل کے نکات پر تاکید کرتے ہیں:
1۔ ایک محلے پر اس شدت کے ساتھ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے، اس قدر وسیع عسکری حملہ ایک مذموم عمل ہے۔ ہم سعودی حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد اس حملے کو روک دیں، اور طبی عملے اور ڈاکٹروں کو اس حملے کے زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے دیں، بالخصوص یہ کہ المسورہ ایک قدیمی محلہ ہے جس کے گھر بھی پرانے ہیں جنہیں مکمل ویرانی اور انہدام کا خطرہ درپیش ہے اور یہ پرانے گھر اس قدر بڑی عسکری کاروائی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
2۔ عالمی برادری پر المسورہ میں رونما ہونے والے تمام واقعات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کو اس کاروائی کا سدباب اور العوامیہ شہر کے محاصرے کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات بجا لانا ہونگے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ العوامیہ پر ہونے والی یلغار کے سلسلے میں غیرجانبدارانہ تحقیق کے لئے فوری طور پر خودمختار بین الاقوامی تفتیش کار اس شہر میں روانہ کئے جائیں۔
3۔ سعودی حکومت کی عملداری میں جمہوریت اور سیاسی شراکت داری کا فقدان ان اہم ترین دلیلوں میں سے ایک ہے جن کی بنا پر سعودی حکمران اس ملک کے باشندوں کا سامنا کرنے کے لئے حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور بھاری ہتھیاروں، ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کے ذریعے شیعہ علاقوں پر حملے کرتے ہیں۔
4۔ ملک کے اندرونی سیاسی مسائل کے حل کے لئے افواج اور فوجی گاڑیوں کا استعمال تسلی بخش نتائج تک پہنچنے کا سبب نہیں بنتا؛ بلکہ مشکلات کو مزید پیچیدہ کردیتا ہے؛ چنانچہ ہم سعودی ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سیاسی راہ حل تلاش کرے۔
5۔ عوام کے خلاف کاروائی میں خیالی کامیابی کا حصول اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے لبنان، شام، عراق اور یمن میں سعودیوں کی بےثمر جنگوں میں ان کی ناکامیوں کے تسلسل کا چھپانا ہرگز ممکن نہيں ہے۔
"وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللّهَ غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأَبْصَارُ"۔ (سورہ ابراہیم، آیت 42)
ترجمہ: اور اللہ کو ہر گز بےخبر نہ سمجھنا ان اعمال سے جو ظالم انجام دیتے ہیں، وہ تو بس انہیں ڈھیل دیتا ہے اس دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی
16 شعبان المعظم 1438ھ ق
13 مئی 2017 عـ
23 اردیبہشت 1396ھ ش

بيانيه مجمع جهانی‌ اهل‌بیت(ع) به مناسبت دومين سالگرد تجاوز رژيم آل‌سعود به يمن

بيانيه مجمع جهانی‌ اهل‌بیت(ع) به مناسبت دومين سالگرد تجاوز رژيم آل‌سعود به يمن

Monday, 07 فروردين 1396

به گزارش خبرگزاری اهل‌بیت(ع) ـ ابنا ـ مجمع جهانی اهل‌بیت(ع) به مناسبت دومین سالگرد تجاوز رژیم آل سعود به کشور یمن بیانیه‌ای منتشر کرد.

در بخشی از این بیانیه با ارائه آماری از جنایات ائتلاف عربی به سرکردی رژیم سعودی طی دو سال تجاوز وحشیانه در یمن آمده است: این تجاوز و محاصره موجب شده است که نزدیک ۲۷ میلیون یمنی در معرض گرسنگی و قحطی بسر ببرند.

متن کامل بیانیه مجمع جهانی اهل بیت(ع) به شرح زیر است:

دومین سالگرد تجاوز ننگین عربستان – آمریکا علیه مردم مسلمان یمن درحالی به سرانجام رسید که واشنگتن طی یک شبانه روز با حمله به سرزمین یمن هر آنچه زیبا بود، مورد یورش وحشیانه خود قرارداد و هر جنبنده که زندگی می‌کرد به خاک و خون کشید. طی دو سال حتی بیمارستانها، مراکز آموزشی، بازارها، مراکز مواد غذایی و دارویی و خانه‌های شهروندان، مساجد و سالن‌های جشن و عزا را بمباران نمود.

جامعه بین المللی شاهد فجیع‌ترین جنایات و کشتارهای قرون وسطایی علیه مردم بی‌پناه بوده و جهانیان با سکوت شرم ‏آور شاهد این جنایات هستند و حتی سازمان ملل که خود را مدافع عدالت و حقوق بشر می‌داند واکنش مناسب از خود نشان نداده است. این تجاوز و محاصره موجب شده است که نزدیک ۲۷ میلیون یمنی در معرض گرسنگی و قحطی بسر ببرند.

وجدان‌های بیدار و سازمان‌های بین المللی را به آماری از جنایات آل سعود و امارات و دیگر کشورهای ائتلاف علیه یمن را به استناد مرکز قانونی حقوق و توسعه و نیز آمارهای وزارت بهداشت یمن که در تاریخ ۲۵ مارس ۲۰۱۷ (۵ فروردین ۹۶) منتشر گردیده معطوف می‌نماییم:

۱- کشته‌ها و مجروحین

۳۲۷۴۹ نفر شهید و مجروح
۲۶۴۶۰ نفر کودک شهید
۱۹۲۲ نفر زن شهید
۷۷۲۸ نفر مرد شهید ۱۹۶۳۱نفر زخمی شدگان
۲۷۲۳ نفر کودک زخمی
۲۱۸۱ نفر زخمی
۱۸۷۰نفر معلول

۲- تخریب زیرساخت‌های کشور یمن

۷۱۲ مسجد
۴۰۳۰۳۹ منزل ویران شده
۷۶۳ مدرسه و آموزشگاه
۲۲۳ مرکز جهانگردی
۲۰۶ جاذبه‌های تاریخی
۱۰۳ مراکز ورزشی
۱۱۳ مراکز دانشگاهی
۲۶ مرکز رسانه‌ای
۶۶۳ انبار غذا ۵۱۵ کامیون حمل غذا
۱۵ فرودگاه
۱۴بندرگاه
۱۶۱ ایستگاه تولید برق
۳۳۹ شبکه و ایستگاه
۳۰۷ منبع و شبکه های آب
۲۷۰ بیمارستان و درمانگاه
۲۱۳ مرغداری و گاوداری
۱۶۲۴ دوایر دولتی
۱۵۷۷ راه وپل
۲۵۷۴ وسائل نقلیه
۵۵۹۶ مرکز تجاری
۱۶۳۰مزرعه کشاورزی
۵۴۰ بازار تجاری
۲۷۷ کارخانه
۳۱۴ پمپ بنزین
۲۳۵ تانکر سوخت

مجمع جهانی اهل بیت (ع) بنابه وظایف دینی و انسانی خود بشدت این تجاوز و جنایات هولناک را که توسط کشورهای ائتلاف تجاوز علیه یمن مرتکب شده‌اند را محکوم می‌نماید و به جنایتکاران هشدار می‌دهد که دست از کشتار و خونریزی و ویران کردن یمن بردارند و نیز خود را از یوغ وابستگی و خدمت گذاری به استکبار آمریکا و صهیونیزم رها سازند زیرا ادامه این جنایات جز خسران و پشیمانی در دنیا و آخرت درپی نخواهد داشت.

هم‌چنین از همه علمای اعلام در کشورهای اسلامی درخواست می‌کنیم تابه وظایف شرعی و انسانی خود درقبال مردم مظلوم یمن عمل نموده و جنایات تجاوز گران را بر منابر وعظ و ارشاد بیان کرده و به مخاطبان خود اهداف و انگیزه‌های این تجاوز را تبیین کرده و نیز از همه وجدان‌های بیدار و سازمان‌های بین المللی مدافع حقوق انسان درخواست می‌گردد تا بطور جدی اقداماتی در جلوگیری از ادامه ارتکاب جنایات و کشتارهای روزانه خود انجام دهند و از کمک تسلیحاتی به کشورهای ائتلاف و متجاوزان دست برداشته و از سازمان‌های حقوق بشری نیز می‌خواهیم تا جنایتکاران را به دادگاه‌های بین المللی به دلیل استفاده از سلاح‌های کشتار جمعی ممنوعه از جمله بمب های خوشه‌ای طبق گزارش‌های مستند معرفی کنند.

مجمع جهانی اهل بیت (ع)
۲۶مارس۲۰۱۷
۲۷جمادی الثانی ۱۴۳۸
۱۳۹۶/۱/۶

 امین الحاکم: شیعیان و اهل سنت یمن در برابر تهاجم آل سعود متحد هستند

امین الحاکم: شیعیان و اهل سنت یمن در برابر تهاجم آل سعود متحد هستند

Monday, 29 آذر 1395

به گزارش خبرگزاری اهل بیت(ع) ـ ابنا ـ یک فعال رسانه ای یمنی گفت: امت اسلامی، خدا، پیامبر(ص) و کتاب آسمانی واحد دارد و جایز نیست که چنین امتی متفرق شود، کشورهای آمریکا و انگلیس به جریان اختلاف بین مذاهب اسلامی در عصر حاضر دامن می زنند.
 
"امین الحاکم" که با خبرنگار ابنا گفتگو می کرد، افزود: در عصر پیامبر(ص) و پس از آن، یهودیان نقش زیادی در تفرقه افکنی در امت اسلامی ایفا کردند، اکنون هم جریان صهیونیستم برای گسترش تفرقه در میان مسلمانان تلاش می کند.

وی ادامه داد: ما امت اسلامی باید تحت لوای قرآن کریم، یک امت واحد باشیم و اختلاف مذهبی بین خودمان را فراموش کنیم و همه را به قرآن کریم دعوت کنیم، زمانی که یک امت واحد باشیم، می توانیم به قضیه اساسی خودمان که فلسطین است، خدمت کنیم.

فعال رسانه ای یمنی با اشاره به تلاش استکبار جهانی برای معرفی اسلام های بدلی گفت: با پیروزی انقلاب اسلامی، اسلام حقیقی به دنیا معرفی شد، استکبار جهانی از آن زمان سعی کرده تا اسلام های بدلی همچون اسلام القاعده را به مردم دنیا معرفی کند تا اسلام حقیقی از چشم جهانیان پوشیده بماند.

امین الحاکم افزود: القاعده ساخته دست آمریکا و انگلیس بود، داعش هم توسط استکبار جهانی و در راس آن آمریکا ایجاد شده است تا به اسلام از داخل ضربه بزند، این گروه های تکفیری در حالی تشکیل شد که اسلام، دین دعوت مردم به ایمان و صلح است و اسلام هیچ گاه دعوت کننده به قتل و جنایت نبود.

وی ادامه داد: امروز مسلمانان به دست تروریست های تکفیری با فریاد تکبیر به شهادت می رسند، گروه های تکفیری با فعالیت خود به چهره اسلام در جهان ضربه زده اند و این گروه ها سعی در متنفر کردن جهانیان از اسلام هستند.

فعال رسانه ای یمن با اشاره به ضرورت برگزاری همایش های وحدت اسلامی اظهار کرد: باید با برگزاری چنین همایش هایی، اسلام حقیقی را به مردم جهان معرفی کنیم و بتوانیم رسالت خودمان را در این راستا انجام بدهیم

امین الحاکم در خصوص وحدت مردم یمن تصریح کرد: قشرهای مختلف مردم این کشور از جمله شیعه و سنی در یک جبهه در برابر آمریکا و رژیم سعودی می جنگند، در طول نزدیک به دو سال جنگ یمن با وجود جنایت های رژیم سعودی و سکوت جامعه جهانی، مردم یمن پیروزی های زیادی را کسب کردند.

وی در پایان خاطرنشان کرد: از رسانه های آزاد می خواهم که صدای مردم مظلوم یمن را به گوش جهانیان برسانند، طی دو سال اخیر جنایت های زیادی از سوی رژیم سعودی در حق مردم یمن صورت گرفت، اما این جنایت ها انعکاس چندانی در رسانه های جهان پیدا نکرد.

گفتنی است به همت "دانشگاه اراک" و با همکاری مجمع جهانی اهل بیت(ع) و نهادهای فرهنگی دیگر، "اولین کنفرانس ملی تقریب مذاهب اسلامی در اندیشه های امام خمینی و مقام معظم رهبری" با حضور اندیشمندان برجسته داخلی و خارجی، حوزوی و دانشگاهی امروز در اراک برگزار خواهد شد.

اعرافی: منافقین، آل سعود و ضد انقلاب برای ناامن کردن ایران ائتلاف کرده اند

اعرافی: منافقین، آل سعود و ضد انقلاب برای ناامن کردن ایران ائتلاف کرده اند

Friday, 29 مرداد 1395

به گزارش خبرگزاری اهل‌بیت(ع) ـ ابنا ـ آیت‌الله علیرضا اعرافی در خطبه‌های این هفته نماز جمعه قم با بیان اینکه ایثار در ابعاد مختلف زندگی دارای اهمیت است، گفت: انسانی که از مطامع شخصی خود برای سعادت دیگران می‌گذرد مشمول لطف و محبت خداوند متعال می‌شود و محبت خداوند برای ما قابل وصف نیست.

وی با بیان اینکه ایثار و فداکاری موجب گشایش‌های بسیاری در عالم قیامت می‌شود، خاطرنشان کرد: مقام‌هایی که برای ایثارگران در بهشت وجود دارد قابل تصور نیست.

امام جمعه قم اضافه کرد: مقوله ایثار دارای برکات فوق‌العاده‌ای در تعالی شخصیت انسان است و انسان ایثارگر از تعالی و عزت خاصی برخوردار است و برکات ایثار در عالم غیب تجلی پیدا می‌کند و ایثار در سایه سار این فضیلت اخلاقی به قله‌های بلند نائل می‌شود.

عضو شورای عالی مجمع جهانی اهل بیت(ع) تصریح کرد: وقتی که ایثار به فرهنگ عمومی تبدیل شود جامعه مسیر سلامت را طی می‌کند و در چنین جامعه‌ای روحیه فداکاری وجود دارد و این جامعه یک جامعه انسانی، الهی و ایمانی است. جامعه‌ای که به ایثار متخلق باشد جامعه دفاع مقدس می‌شود و ما در جبهه‌ها شاهد بودیم که روابط انسانی موج می‌زد.

اعرافی با اشاره به اینکه اگر مسؤولان و دستگاه‌ها قرار بر ایثار و گذشت داشته باشند جامعه سعادتمند می‌شود، اضافه کرد: اگر برخی مدیران تا حداکثری که امکان دارد می‌خواهند حقوق بگیرند چنین جامعه و اداره‌ای اسلامی نخواهد بود. نظام مدیریتی و سازمانی مبتنی بر سلامت و ایثار جامعه را در مسیر ترقی قرار می‌دهد. اگر انقلاب اسلامی قرار است الگوهای نو برای ساختن تمدن اسلامی به دنیا ارائه کند باید این اقدام از خانه‌ها، محیط‌های اداری و ادارات ما شروع شود.

وی اضافه کرد: باید ایثار در خانه‌ها، بازار و محیط‌های اجتماعی پیاده شود، زیرا امر مهمی است که بسیاری از ارزش‌ها بر آن پایه‌گذاری می‌شود.

قاچاق بنیان‌های اقتصاد را تهدید می‌کند
مدیر حوزه‌های علمیه تأکید کرد: ‌باید بپذیریم که با مقاومت، ایثار و فداکاری می‌توانیم جامعه را به سمت قله‌های سعادت نائل کرد.

عضو شورای عالی مجمع جهانی اهل بیت(ع) با بیان اینکه فقه ما سرچشمه انوار الهی و هدایت جامعه بشری است، بیان کرد: در تمدنی که اسلام آن را پایه‌ریزی می‌کند، علم، فلسفه و کلام اسلامی جایگاه برجسته داشته و فقه به عنوان تئوری زندگی بشر جایگاه مهمی دارد و در کنار اینها روحیه شهادت خواهی و از جان گذشتن برای ارزش‌های الهی منظومه کاملی را شکل داده است.

آیت‌الله اعرافی با گرامیداشت روز پزشک اظهار کرد: از همه خدمتگزاران به سلامت، بهداشت و درمان مردم تشکر کرده و همه را به رعایت اخلاق و آداب پزشکی و رعایت حال مستمندان توصیه می‌کنم.

وی با اشاره به فرا رسیدن هفته دولت گفت: از خدماتی که دولتمردان و مسؤولان به مردم ارائه می‌دهند تشکر می‌کنیم، به ویژه خدماتی که سربازان گم‌نام اسلام برای کشف عملیات‌های تروریستی انجام دادند قابل تقدیر است.

عضو شورای عالی مجمع جهانی اهل بیت(ع) خاطرنشان کرد: باید در هفته دولت سخن مردم را شنید و به رهنمودهای رهبر معظم انقلاب توجه کرده و دولتمردان ضمن بازبینی گذشته، نسبت به بنیان‌ریزی نظام اقتصادی سالم تلاش دوچندان داشته باشند.

وی با اشاره به ارائه برنامه ششم توسعه به مجلس گفت: انتظار است که در این برنامه اقتصاد مقاومتی، فرهنگ اصیل ایمانی و اسلامی، رشد و اعتلای علمی و دانشی کشور، ارتقاء امنیت و صنایع دفاعی بیشتر مورد توجه قرار گیرد.

امام جمعه قم با اشاره به امحای کالاهای قاچاق تاکید کرد: عمل انقلابی برای امحای کالاهای قاچاق ریشه‌های قرآنی دارد، زیرا قاچاق بنیان‌های اقتصاد را تهدید می‌کند.

اجرای طرح تفرقه مذهبی توسط آمریکا و صهیونیسم
عضو شورای عالی مجمع جهانی اهل بیت(ع) با اشاره به مسائل منطقه اضافه کرد: منافقان، آل‌سعود و داعشی‌ها و جریانات ریز و خرد که از انقلاب اسلامی دل خوش نداشته و ضربه‌های مقاومت را لمس کرده‌اند به صورت یک شبکه در کنار هم قرار گرفته‌اند و به رغم اختلافاتی که دارند طراحی می‌کنند و طرحی را برای ناامن کردن ایران امن اسلامی و انقلابی دنبال می‌کنند و طی روزهای اخیر شاهد کشف نمونه‌هایی بودیم.

اعرافی با تأکید بر اینکه پشت صحنه این جریانات توطئه‌های صهیونیستی و آمریکایی است تا دژ استوار ایران اسلامی را ناامن کنند، خاطرنشان کرد: ایران اسلامی هرگز در برابر این توطئه‌ها تسلیم نخواهد شد و ملت با انسجام و اقتدار و با تأسی به رهبری در برابر ایشان خواهد ایستاد و توطئه ناامن سازی ایران راه به جایی نخواهد برد.

وی با اشاره به اینکه طرح تفرقه مذهبی دنبال می‌شود، گفت: این طرح را آمریکایی و صهیونیستی می‌دانیم و اینها به اسم شیعه و سنی و اقوام و نژاد می‌خواهند امت اسلامی را به جان هم بیاندازند. دنیا بداند از ایران اسلامی، حوزه علمیه، دانشگاه‌ها و قم قهرمان جز ندای همبستگی اسلامی بلند نخواهد شد.

عضو شورای عالی مجمع جهانی اهل بیت(ع) با اشاره به اوضاع کشورهای بحرین، یمن، سوریه و دیگر ممالک اسلامی خاطرنشان کرد: ملت مسلمان ایران در کنار سران نهضت بحرین و سران دیگر نهضت‌های اسلامی حضور داشته و امیدواریم که نهادهای بین‌المللی از این افتضاحی که به آن مبتلا هستند فاصله بگیرند هرچند که به آنها امیدی نداریم و به فضل خداوند امت اسلام بر همه این توطئه‌های قالب خواهد شد.

 

خبرگزاری ابنا

مجمع جهانی اهل‌بیت (ع)

مجمع جهانی اهل‎بیت(علیهم‎السلام)، به عنوان یک تشکل جهانی و غیردولتی، از طرف گروهی از نخبگان جهان اسلام تشکیل شده است. اهل‎بیت(علیهم‎السلام) به این دلیل بعنوان محور فعالیت انتخاب شده‎اند که در معارف اسلامی در کنار قرآن، محوری مقدس را که مورد پذیرش عامه مسلمین باشد، تشکیل می‎دهند.
مجمع جهانی اهل‎بیت(علیهم‎السلام) دارای اساسنامه‎ای مشتمل بر هشت فصل و سی و سه ماده است.

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 88950827 (0098-21)
  • 88950882 (0098-21)

تماس با ما

موضوع
ایمیل
متن نامه
8+4=? کد امنیتی