اسمبلی کی خبریں

  • سید منذر حکیم: حضرت ابوطالب عالمی اور اتحادی شخصیت کے مالک تھے

    سید منذر حکیم: حضرت ابوطالب عالمی اور اتحادی شخصیت کے مالک تھے

    جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کی اکتالیسویں علمی نشست جو سنیچر کو منعقد ہوئی، اس میں "جناب ابوطالب کا کردار علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان کی نگاہ میں" کے عنوان سے گفتگو کی گئی۔
    اس نشست کے پہلے مقرر الذریۃ النبویۃ تحقیقاتی مرکز کے سربراہ تھے انہوں نے قرآن کریم کی آیات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ سورہ نساء کی آیت ۵۴، سورہ بقرہ کی آیت ۲۶۹، سورہ ابراہیم کی آیت ۲۴ اور سورہ اسراء کی آیت ۸۱ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جناب ابراہیم اور ان کی نسل کی نسبت دوسروں نے حسد سے کام کیا۔
    استاد منذر حکیم نے مزید کہا: سورہ بقرہ کی آیت ۲۶۹ میں «يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ»  میں جو خیر کثیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ خیر کثیر وہی کوثر ہے اور کوثر سے مراد انسانوں کی وہ کثیر تعداد ہے جو دشمنان اسلام کو شکست سے دوچار کر سکتے ہیں، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی نسل سے حضرت محمد مصطفیٰ ہیں، جناب ابوطالب ہیں اور ان کی اولاد ہیں امام علی اور حضرت زہرا کی اولاد ہیں کہ جو عالم بشریت میں زبردست اثرانداز واقع ہوئے ہیں۔
    انہوں نے جناب ابوطالب کی خدمات کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جناب ابوطالب ایک پورے منصوبے کے ساتھ بعثت کے زمانے سے ہی مظلوم واقع کئے گئے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں اس مظلومیت سے نکالیں۔
    منذر حکیم نے مزید کہا: دو کانفرنسیں ہمارے درپیش ہیں ایک جناب ابوطالب کے حوالے سے جو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام اگلے دنوں منعقد ہو رہی ہے اور دوسری "امناء الرسول" کانفرنس ہے جو انتہائی تاثیر گزار اور اسلامی نظام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
    حوزہ علمیہ قم کے استاد نے مزید کہا: صدام کی نابودی کے بعد استعماری طاقتوں کے مزدوروں نے عراق میں علمی ترقی کو روکنے کی کوشش کی اور حوزہ علمیہ قم اور نجف کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی اور انتھک کوشش کی کہ عالم تشیع کے ان دو بڑے علمی مراکز میں اختلاف افکنی کر کے اسلامی تہذیب کی حرکت کو روک سکیں۔ امناء الرسول کانفرنس انہیں سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے رکھی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں "علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان" کے بارے میں گفتگو کی جائے گی، علامہ خرسان ایک اتحادی شخصیت کے مالک تھے کہ جنہوں نے عبد اللہ بن عباس پر ۲۱ جلد انسائیکلوپیڈیا تحریر کیا۔
    سید منذر حکیم نے کہا: جناب ابوطالب ایک عالمی اور اتحادی شخصیت کے مالک تھے، استقامت، پائیداری، مدیریت اور وسعت نظری کو ان سے سیکھنا چاہیے۔ جناب ابوطالب کانفرنس تین روز تک ورچوئل طریقے سے منعقد ہو گی جس میں ملکی اور غیر ملکی شخصیات حصہ لیں گی جن میں شیعہ شخصیات کے علاوہ اہل سنت بلکہ عیسائیت سے تعلق رکھنے والی علمی شخصیات بھی اپنے نظریات پیش کریں گی۔

    خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

    سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

     

  • شفیعی نیا: جناب ابوطالب کی شخصیت نبوت و امامت کی دو نسلوں پر مشتمل ہے

    شفیعی نیا: جناب ابوطالب کی شخصیت نبوت و امامت کی دو نسلوں پر مشتمل ہے

     جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کی اکتالیسویں علمی نشست سنیچر کو فیزیکل اور ورچوئل طور پر منعقد ہوئی۔ یہ علمی نشست جو "الذریۃ النبویۃ تحقیقی سینٹر" اور " مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے تحقیقاتی ادارے" کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی اس میں "جناب ابوطالب (ع) علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان کی نگاہ میں" کے عنوان سے گفتگو کی گئی۔
    اسلامی اتحاد انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت کے استحکام میں جناب ابوطالب کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب (ع) ایک موثر اور ممتاز شخصیت کے مالک تھے انہوں نے نبوت اور امامت کی دو نسلوں کو پروان چڑھایا اگر یہ دو نسلیں نہ ہوتیں تو دین اسلام کی کشتی آگے نہ بڑھ پاتی۔
    حجۃ الاسلام و المسلمین احمد شفیعی نیا نے مزید کہا؛ رسول اکرم (ص) کے آباؤ و اجداد اور چچاؤں میں حتیٰ جناب عبد اللہ (ع) کا بھی وہ مقام نہیں ہے جو جناب ابوطالب کا مقام ہے۔ نسل سادات جو جناب سیدہ اور امیر المومنین علی علیہ السلام سے چلی ہے اور آج دنیا کے کونے کونے میں سادات موجود ہیں سب کا سلسلہ جناب ابوطالب سے جا کر ملتا ہے اور اگر آج یہ سادات سب جمع ہو جائیں تو جناب ابوطالب کے دشمنوں، اہل بیت(ع) کے دشمنوں بلکہ دین کے دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ خود جناب ابوطالب بھی ہاشمی سید تھے علوی سادات کا سلسلہ تو یقینا انہیں سے ہے۔
    انہوں نے کہا: عرف عام کی نگاہ کے برخلاف ہم امیر المومنین (ع) کی نسل کو رسول خدا (ص) کی طرف نسبت دیتے ہیں اور تمام سادات کے درمیان چاہے وہ امام علی کی نسل سے ہوں، یا حضرت زہرا (س) کی نسل سے ہوں یا جناب ابوطالب کے دوسرے بیٹوں کی نسل سے ہوں کوئی فرق نہیں ہے سب ہاشمی سید ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ وہ سادات جن کا سلسلہ نسب جناب ابوطالب پر ختم ہوتا ہے وہ فاطمی سادات سے زیادہ ہیں اور ان میں اکثریت اہل سنت ہیں۔ ہمیں اس نشست کی آواز کو ان سادات کے کانوں تک پہنچانا چاہیے جو جناب ابوطالب کی نسل سے ہیں اور ان کے جد بزرگوار جناب ابوطالب پر مشرک ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے اور وہ خاموش ہیں جبکہ جناب ابوطالب تنہا وہ شخص تھے جو رسول اکرم کے یار و مددگار تھے۔
    شفیعی نیا نے جناب ابوطالب کے حوالے سے بیان کئے جانے والے شبہات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جناب ابوطالب کی جانب سے ایسے حال میں شرک کی نسبت دی جاتی ہے کہ ان کی زندگی توحیدی آثار سے بھری ہوئی ہے۔ اگر آپ ان کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے اس مرد الہی کی زندگی کے گوشے گوشے میں ایمان اور توحید کے آثار نظر آتے ہیں۔  وہ جناب ابوطالب ہیں جنہوں نے کفار و مشرکین کے گڑھ میں پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت کو استحکام بخشا۔ وہ ایسا دور تھا جس میں رسول اکرم کے دشمن دوستوں سے کہیں زیادہ تھے، جناب خدیجۃ اور امام علی کے سوا پیغمبر اکرم کا کوئی یاور و مددگار نہیں تھا ایسے حالات میں جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی پشت پناہی کی اور انہیں دشمنوں کے گزند سے محفوظ رکھا۔
    انہوں نے مزید کہا: خداوند عالم نے سورہ ضحیٰ میں پیغمبر اکرم کو مخاطب کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ یتیم تھے ہم نے آپ کو پناہ دی اور آپ فقیر تھے ہم نے آپ کو غنی اور توانگر بنایا۔
    انہوں نے کہا: ان آیات میں جناب ابوطالب کی سرپرستی اور جناب خدیجہ کے مال کی طرف درحقیقت اشارہ ہے۔ جناب ابوطالب نے اپنے قصیدہ لامیہ میں کہا کہ خدا کی قسم ان کی یہ خام خیالی ہے کہ میں ابوطالب محمد کو رہا کر دوں میں اپنا سب کچھ پیغمبر پر نثار کرنے کے لیے تیار ہوں۔
    خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
    سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

  • ربانی: جناب ابوطالب (ع) کا مسلمانوں کی گردن پر بڑا احسان ہے

    ربانی: جناب ابوطالب (ع) کا مسلمانوں کی گردن پر بڑا احسان ہے

    جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس کی اکتالیسویں علمی نشست گزشتہ روز سنیچر کو فیزیکل اور ورچوئل طور پر منعقد ہوئی۔
    یہ علمی نشست جو "الذریۃ النبویۃ تحقیقاتی سینٹر" اور "مجمع جہانی تقریب مذاہب کے تحقیقاتی ادارے" کے اہتمام سے "جناب ابوطالب علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان کی نگاہ میں" کے  زیرعنوان منعقد ہوئی اس میں امناء الرسول علمی کانفرنس کے سیکرٹری نے دشمنوں کی جانب سے اہل تشیع اور تعلیمات اہل بیت(ع) پر لگائی گئی تہمتوں کو بیان کیا اور ان کے جوابات دینے کی کوشش کی۔
    حجۃ الاسلام و المسلمین محمد تقی ربانی نے علماء کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: روایات کی روشنی میں دشمنوں کے حملوں کے مدمقابل شیعہ عقائد کا دفاع کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔ اس راہ میں جن علماء نے زحمتیں اٹھائیں ان میں علامہ خرسان بھی شامل ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں موثر اقدامات ائھائے، چونکہ پیغمبر اکرم کے زمانے سے ہی اہل بیت(ع) کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیا جاتے تھے لہذا ہمارے علماء نے بعض کے جوابات دیئے اور بعض شکوک و شبہات نہ صرف شبہات کی حد تک تھے بلکہ اس سے بالاتر ایک موج کی صورت اختیار کر گئے تھے اور مسلمانوں کی کثیر تعداد کو وہ اس موج کے بہاؤ میں بہا لے گئے تھے۔
    انہوں نے مزید کہا: آیت اللہ خرسان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ دشمن کے شکوک و شبہات کی جنگ کے میدان میں موجود تھے وہ جہاں بھی ضرورت کا احساس کرتے تھے وہاں قلم فرسائی کرتے تھے مثال کے طور پر جناب محسن کی شہادت اور اذان کے سلسلے میں انہوں نے کتابیں لکھیں۔
    امناء الرسول کانفرنس کے سیکرٹری نے مزید کہا: علامہ خرسان شکوک و شبہات کا نہ صرف جواب دینے میں اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس مسئلے پر ایک دقیق نگاہ رکھتے تھے، آپ نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے منسلک شخصیات کے دفاع میں بھی قلم اٹھایا، ابن عباس کے سلسلے میں انہوں نے ۲۱ جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا لکھا۔
    انہوں نے مزید کہا: بنی امیہ کا ایک تزویراتی اقدام یہ تھا کہ وہ ہر اس شخص کو نشانہ بناتے تھے جو امیر المومنین علی علیہ السلام سے کسی نہ کسی حوالے سے جڑا ہوا تھا۔ جناب ابوطالب بھی اس وجہ سے بنی امیہ کی دشمنی کا شکار ہوئے۔
    ربانی نے مزید کہا: ہماری ایک کمزوری یہ ہے کہ ہم تقیہ کی زندگی کا ادراک نہیں کرتے اور تقیہ کے حوالے سے اپنے سلیقہ پر عمل کرتے ہیں، جناب ابوطالب کی زندگی اس سلسلے میں نمونہ عمل ہے آپ کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد دوسروں کے ساتھ برتاؤ اور تال میل کو سمجھ سکتے ہیں۔ جناب ابوطالب کا ہم مسلمانوں اور شیعوں کی زندگی پر بڑا احسان اور حق ہے اور افسوس کے ساتھ یہ حق ابھی تک ادا نہیں ہوا ہے۔
    خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
    سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

  • حضرت ابوطالب (ع) کی شان میں محفل مقاصدہ کا انعقاد

    حضرت ابوطالب (ع) کی شان میں محفل مقاصدہ کا انعقاد

    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور "خانہ کتاب و ادبیات ایران" کے باہمی تعاون سے حضرت ابوطالب (ع) کی شان میں ایک محفل مقاصدہ کا انعقاد کیا گیا۔
    تہران میں منعقد ہونے والی یہ محفل مقاصدہ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس کے زیر سایہ منعقد ہوئی، ایران، شام، عمان اور کویت سے شعراء نے اس محفل میں شرکت کی جبکہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی اور ثقافتی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین احمدی تبار بھی محفل مقاصدہ میں موجود تھے۔
    احسان رضایی نے اس محفل کی نظامت سنبھالی اور محفل کے دوران شعراء نے جناب ابوطالب کے پیغمبر اکرم اور اسلام کی شان میں کہے گئے اشعار پڑھے۔
    ایران سے محفل مقاصدہ میں شرکت کرنے والے شعراء میں عباس براتی پور، عبد الرحیم سعیدی راد، احمد علوی، عباس گرامی، مصطفیٰ محدثی خراسانی، رضا اسماعیلی، محمود حبیبی کسبی اور محمد جواد آسمان کا نام لیا جا سکتا ہے۔ شام سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے رکن اور حرم حضرت رقیہ (ع) کے متولی شیخ نبیل الحلباوی اور محمد عباس علی، عمان سے عقیل اللواتی اور کویت سے شیخ عبد الرسول الفراتی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے محفل مقاصدہ میں حصہ لیا۔
    یہ محفل بین الاقوامی ٹی وی چینل ثقلین سے براہ راست نشر ہونے کے علاوہ، عبرات انٹرنٹ چینل اور آپارات چینل سے بھی براہ راست نشر ہوئی۔
    جناب ابوطالب اسلام اور پیغمبر(ص) کے سب سے پہلے شاعر
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے محفل مقاصدہ میں گفتگو کرتے ہوئے شعراء کرام کو خیر مقدم پیش کیا اور کہا: جناب ابوطالب اسلام اور رسول خدا (ص) کے سب سے پہلے شاعر تھے کہ جنہوں نے اپنی تمام زندگی نبی مکرم کے دفاع میں گزار دی۔
    انہوں نے جناب ابوطالب کے بارے میں گفتگو کو تاریخ اسلام کے بارے میں گفتگو قرار دیتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب کا مقام اس قدر بلند و بالا ہے کہ پیغمبر اکرم نے اس سال کو عام الحزن کا نام دے دیا جس سال جناب ابوطالب کا انتقال ہوا۔
    خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
    سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
    جناب ابوطالب عالمی محفل مقاصدہ بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ تھی۔

  • آیت اللہ مکارم شیرازی: جناب ابوطالب (ع) کی یاد میں علمی سیمینار کا انعقاد عالم اسلام کی بڑی خدمت ہے

    آیت اللہ مکارم شیرازی: جناب ابوطالب (ع) کی یاد میں علمی سیمینار کا انعقاد عالم اسلام کی بڑی خدمت ہے

    جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے عہدیداران کی آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے ساتھ ہوئی ملاقات میں موصوف نے کانفرنس کے حوالے سے انجام دئے گئے امور اور علمی سرگرمیوں کی رپورٹ ملاحظہ کرنے کے بعد اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بحمد اللہ جناب ابوطالب علیہ السلام کے بارے میں ایک وسیع کام انجام پایا ہے اور یہ فعالیتیں باقیات الصالحات میں شمار ہوں گی اور ہمیشہ باقی رہیں گی اور فرصت طلب اور متعصب افراد کو بے ہتھیار کر دیں گی۔
    موصوف نے جناب ابوطالب کی مظلومیت کی طرف توجہ مبذول کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ جناب ابوطالب (ع) امیر المومنین علی علیہ السلام کی وجہ سے مظلوم واقع ہوئے، اور کہا: وہ افراد جو امیر المومنین علی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی رکھتے تھے وہ من گھڑت باتوں اور روایتوں کے ذریعے ہمیشہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ جناب ابوطالب (ع) کے چہرے کو داغدار کریں اور انہیں سوشلسٹ پہچنوائیں اور اس کی وجہ صرف علی علیہ السلام سے دشمنی تھی۔
    انہوں نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جناب ابوطالب کی شخصیت کو متعارف کروانا خصوصا نسل جوان کے لیے بہت ضروری ہے کہا: میڈیا کے ذریعے، ثقافتی اور ہنری امور کے ذریعے اور سینما اور ٹیلی ویژن کے ذریعے آپ کی شخصیت کو پہچنوانا ہماری ذمہ داری ہے۔
    حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے جناب ابوطالب کی یاد میں علمی تقریب کے انعقاد کو عالم اسلام خصوصا تشیع کے لیے ایک بڑی خدمت سے تعبیر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ آپ واقعی اور حقیقی معنیٰ میں مومن تھے، انہوں نے کہا: اس کانفرنس میں ہونے والی گفتگو اور انجام پانے والی تمام دیگر فعالیتیں مدلل اور معتبر منابع و مآخذ پر مبنی ہوں تاکہ متعصب اور بدنیت افراد کے بہانوں کا سد باب ہو سکے۔

ملحقہ مراکز اور ویب سائٹس

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
6-4=? سیکورٹی کوڈ