اسمبلی کی خبریں

  • آیت اللہ رمضانی: موجودہ زمانہ

    آیت اللہ رمضانی: موجودہ زمانہ "اداسی کا زمانہ" کا زمانہ ہے / آج کے انسان کو "توحیدی اخلاقیات" اور "خود سے مصالحت" کی ضرورت ہے

     کی رپورٹ کے مطابق سمپوزیم "اخلاق و عرفان علامہ طباطبائی کے افکار میں"، ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہؤا۔

    یہ بین الاقوامی سمپوزیم "نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز" کے زیر اہتمام اور "نئی دہلی کے ہیومینٹیز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ" کی شراکت سے منعقدہ ہؤا اور دہلی کے نامی گرامی دانشور، اور فلسفہ اور کلام کے سینئر اساتذہ نے اس سمپوزیم میں شرکت کی۔

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ اور طالبعلموں نے اس سمپوزیم کا زبردست خبر مقدم کیا اور بعض ہندوستانی اور ایرانی محققین اور دانشوروں نے مرحوم آیت اللہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی کے حالات زندگی اور افکار کو، اس عصر حاضر کے عظیم مفسر قرآن، فلاسفر، عارف اور اسلام شناس کے اخلاق و عرفان کے تناظر میں،

    اس سمپوزيم میں - جس کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ اور طلباء نے زبردست خیر مقدم کیا - ہندوستانی اور ایرانی محققین، علماء اور دانشوروں نے مفسر قرآن، فلسفی، عارف اور عصر حاضر کے عظیم اسلام شناس مرحوم آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائی کے طرز زندگی، اخلاقیات و عرفان کے نقطہ نظر سے ان کی زندگی اور افکار پر روشنی ڈالی۔

    * علامہ طباطبائی "شریعت"، "طریقت" اور "حقیقت" کی جہتوں کی حامل جامع شخصیت تھے

    اس سمپوزیم کے مہمان خصوصی اور مقرر خاص، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، آیت اللہ رضا رمضانی تھے جنہوں نے تین اخلاقی مکاتب فکر "مادی مکتب فکر، اخروی مکتب فکر اور توحیدی مکتب فکر" کی خصوصیات، مختلف پہلؤوں اور ان کے اثرات و ثمرات پر روشنی ڈالی۔

    انھوں نے ان تین اخلاقی مکاتب فکر کے ثمرات کے بارے میں کہا: مادی اخلاقی مکتب فکر، جو یونانی فلسفیوں کے ہاں زیر بحث رہا ہے، دنیاوی منفعتوں اور مفادات کو مطمع نظر قرار دیتا ہے، اخروی مکتب فکر جنت اور اخروی منفعت کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے۔ لیکن اخلاقیات کا توحیدی مکتب فکر "حق مطلق" اور "انتہائی کمال" کا حصول ہے۔ 

    جناب رمضانی نے مزید کہا: اول الذکر مکتب فکر میں "عقل معاش" کو ترقی دی جاتی ہے، یعنی انسانوں کو خوشحال زندگی فراہم ہوگی؛ دوسرے مکتب فکر میں "عقل معاد" کو ترقی ملتی ہے اور اس عمل میں انبیاء (علیہم السلام) بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور تیسرے مکتب فکر میں محور و مدار عشق اللہ اور حُبُّ الله ہے، جس میں انسان اپنے ہی اختیار سے، اللہ کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھتا۔  

    سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے کہا: علامہ طباطبائی کی فکر کی بنیاد تیسرا مکتب فکر یعنی "توحیدی اخلاقیات" کا مکتب ہے۔ یہ اصول "علامہ طباطبائی کا علم الوجود (ontology)" ہے جو انھوں نے قرآن کریم سے اخذ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا: توحیدی اخلاقیات حب اللہ پر استوار ہے۔ اس معرفت میں اللہ سے مدد لینا چاہئے اور ہر چیز میں اللہ کو دیکھنا چاہئے اور ہر چیز کا ارادہ اللہ کے ارادے پر منحصر، سمجھنا چاہئے۔

    استاد رمضانی نے علامہ طباطبائی کو ایک جامع شخصیت قرار دیا جو شریعت، طریقت اور حقیقت جیسی جہتوں پر مشتمل ہے۔ انھوں نے کہا: علامہ طباطبائی ایک عظیم انسان تھے صاحب طریقت تھے اور شریعت کے ذریعت مرحلۂ حقیقت تک عروج کر گئے؛ ایک عقل پسند انسان تھے جنہوں نے اپنے نفس کو تربیت دی اور مرحلۂ شہود تک پہنچے۔

    عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: علامہ نے اپنی تر کوششوں کو اللہ کی صفات سے متصف ہونے، مقصد خلقت تک پہنچنے یعنی "اشرف مخلوقات" کے رتبے تک پہنچنے، پر مرکوز کیا؛ انھوں نے کہا: انسان توحیدی اخلاقیات کے بدولت، تمام معاملات میں ایک سکون اور ایک گہرا اطمینان حاصل کر لیتا ہے، وہی سکون و اطمینان جو آج کے انسانی معاشروں کی سب سے اہم اور بڑی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا: توحیدی اخلاقیات کا اہم ترین ثمرہ سکون و اطمینان ہے، جبکہ موجودہ زمانہ "دل مُردَگی اور اداسی کا زمانہ" ہے۔ بدقسمتی سے، آج بہت سے لوگوں نے خود سے، دوسروں سے اور خدا سے رشتہ ناطہ توڑ لیا ہے؛ اگر یہ رشتہ جوڑنا مقصود ہے، تو خود سے شروع کرنا پڑے گا اور علامہ طباطبائی "خود اور خدا کے درمیان صلح و آشتی" پر زور دیا کرتے تھے۔ 

    آیت اللہ رمضانی نے کہا: علامہ طباطبائی کا عرفانی مکتب تمام لوگوں کے لئے قابل عمل اور قابل متابعت ہے اور یہ مکتب مادہ پرستی کی دلدل میں پھنسی ہوئی آج کی اس دنیا دنیا میں، خدائے متعال تک پہنچنے کے لئے معنویت کا چراغ بن سکتا ہے۔

    انھوں نے علامہ طباطبائی کی سادہ اور چمک دمک سے عاری زندگی کی کچھ مثالیں بیان کرکے ان کی زندگی کو راہ حقیقت کے پیاسوں کے لئے خوبصورت نمونۂ عمل قرار دیا۔

    * ہندوستان کے تمام مذاہب میں معنوی، روحانی اور عرفانی رجحان پایا جاتا ہے

    ہندوستان میں رہبر معظم امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کے نمائندے حجت الاسلام و المسلمین مہدی مہدوی پور اس بین الاقوامی سمپوزیم کے مقررین میں سے ایک تھے جنہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہندوستان میں رائج تمام ادیان و مذاہب معنوی، روحانی اور عرفانی رجحانات کے حامل ہیں؛ ہندوستان اولیاء اللہ کی سرزمین ہے۔ اس سرزمین کے باشندے سب زاہدانہ اور عارفانہ زندگی کے درپے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ علامہ طباطبائی جیسی شخصیت اور ان کی فکر کو اس ملک میں متعارف کرایا جائے۔

    ان کا کہنا تھا: ہند ایک "عرفان دوست" ملک ہے جہاں مختلف عرفانی مکاتب رواج پا رہے ہیں۔

    جناب مہدی پور نے آیت اللہ طباطبائی کے سیر و سلوک اور عرفانی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: "علامہ کی جامعیت (Comprehensiveness)" ہندوستان کے مسلمانوں، ہندؤوں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لئے اہمیت رکھتی ہے۔

    * علامہ طباطبائی کے بارے میں مقالہ خوانی اور کتب کی رونمائی

    نئی دہلی کی جامعۂ ملیۂ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ جناب "اقتدار محمد خان" نے سمپوزیم کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آیت اللہ رمضانی اور جناب مہدوی پور کی آمد کو اپنے اور جامعہ کے لئے باعث فخر و اعزاز قرار دیا۔

    نیز کچھ ہندوستانی اساتذہ اور علمی شخصیات نے اس کانفرنس میں اپنے لکھے ہوئے مقالات پڑھ کر سنائے۔

    اس یک روزہ سمپوزیم کے آخر میں ان کتابوں کی تقریب رونمائی کی تقریب منعقد کی گئی جو "عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی - ہندوستان" کی مدد سے، علامہ طباطبائی کی شخصیت اور افکار کے بارے میں انگریزی، اردو اور ہندی زبانوں میں شائع کی گئی ہیں۔

    قابل ذکر ہے کہ عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی اور اسمبلی کے بین الاقوامی امور کے معاون ڈاکٹر عبد الرضا راشد" ہندوستان میں شیعہ اداروں اور سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے کے لئے بھارت کے دورے پر ہیں۔

  • اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کی آیت اللہ فیاض سے ملاقات + تصاویر

    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کی آیت اللہ فیاض سے ملاقات + تصاویر

     اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے عراق کے دورے کے دوران اور اربعین پیدل مارچ کے بعد نجف اشرف میں مراجع تقلید سے ملاقات کی۔
    آیت اللہ "رضا رمیزانی" نے نجف اشرف میں مقیم شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ "محمد اسحاق فیاض" کے دفتر میں حاضر ہو کر ان سے ملاقات اور گفتگو کی۔

    b283eadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg

    b583eadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg

    b783eadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg

  • اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کی آیت اللہ بشیر نجفی سے ملاقات + تصاویر

    اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کی آیت اللہ بشیر نجفی سے ملاقات + تصاویر

    اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے عراق کے دورے کے دوران اور اربعین کی پیدل مارچ کے بعد نجف اشرف میں عالم تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ بشیر نجفی سے ملاقات کی۔
    آیت اللہ "رضا رمضانی" نے نجف اشرف میں مقیم شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ "بشیر نجفی" کے دفتر میں حاضر ہو کر ان سے ملاقات اور گفتگو کی۔

    اس ملاقات میں اہل بیت(ع) اسمبلی عراق کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین "پہلوان زادہ بہبہانی"، اور "حسن خاکرند" بھی موجود تھے۔

    ce82eadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg

    d182eadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg

    d782eadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg

  • آیت اللہ رمضانی: اربعین حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے لیے ایک تاریخی اجتماع اور عمل ہے

    آیت اللہ رمضانی: اربعین حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے لیے ایک تاریخی اجتماع اور عمل ہے

    اہل بیت (ص) نیوز ایجنسی - ابنا - کے مطابق آیت اللہ "رضا رمضانی" نے ایام اربعین میں کربلا میں گیلان کے موکب نور الزہرا(س) میں موجود زائرین اربعین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اگر کوئی الہی رنگ میں رنگ جائے تو وہ دائمی اور ہمیشگی ہو جاتی ہے۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اربعین کی ثقافت پر کام اور تحقیق کی جانی چاہیے کہا: اس سال لوگوں کی پرجوش موجودگی کی وجہ سے ہم نے اربعین میں ایک بڑے ہجوم کا مشاہدہ کیا۔ اگر اس پیدل مارچ کا سلسلہ عاشور سے شروع ہو جائے اور اربعین تک چلتا رہے اور زائرین کربلا میں زیادہ دیر تک نہ رہیں تو بہت ساری مشکلات حل ہو جائیں گیں۔
    انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران اور عراق کے عہدیداروں کو عاشور کے بعد سے زائرین کی آمد و رفت کے لیے سہولیت مہیا کرنا چاہیے کہا: سب کو اس راہ میں کوشش کرنا چاہیے کہ اربعین کا یہ عظیم اجتماع ایک بہترین معنوی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی اجتماع میں بدل جائے۔
    آیت اللہ رمضانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دنیا میں اربعین حسینی کے اجتماع کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے کہا: اس کے باوجود ہم صہیونی میڈیا کی جانب سے اربعین نیوز کے بائیکاٹ کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جرمنی، انگلستان وغیرہ میں اگر 15 لوگ اکٹھے ہو جائیں تو یہ خبر پوری دنیا میں نشر ہو جائے گی، لیکن ہمیں بین الاقوامی میڈیا میں اس 20 ملین مارچ کی کوئی خبر یا رپورٹ نظر نہیں آتی۔
    اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اربعین کے روحانی اجتماع کے انسانی زندگی کی تاریخ میں بے مثال ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا: مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع حج میں بیس سے تیس لاکھ افراد تک محدود ہوتا ہے۔ لیکن اربعین میں کروڑوں کی تعداد میں یہ اجتماع ایک بڑا واقعہ ہے۔
    انہوں نے کہا: اربعین کا جغرافیائی دائرہ پوری دنیا پر محیط ہے اور متعدد ممالک کے زائرین کی موجودگی دنیا کے لیے ایک عظیم پیغام ہے۔
    آیت اللہ رمضانی نے مزید یہ بیان کیا کہ اربعین حسینی کی زیارت کو صحیح طریقے سے بیان کیا جائے: حضرت زینب (س) اور حضرت زین العابدین (س) نے دربار یزید میں مختصر مدت میں واقعہ عاشورا کی دقیق، گہری اور جامع عکاسی کر کے عظیم انقلاب برپا کیا۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے عظیم تاریخی واقعات کو بیان کرنے اور ان میں تحریف کو روکنے کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا: دفاع مقدس ایک عظیم واقعہ تھا جو ہم پر مسلط کیا گیا تھا لیکن اہم یہ ہے کہ ہم اس کو صحیح طریقے سے بیان کرنے پر قادر ہوں۔
    انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اربعین حسینی کے دوران عزاداروں کا ایک بہت بڑا سیلاب خاص طور پر نوجوان نسل کی جانب سے ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام سے عقیدت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے کہا: بعض اوقات اربعین کے اس ماحول میں صحیح طریقے سے رہنمائی نہیں کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں رہنمائی کرنے والے حلقوں کے سربراہان کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔
    آیت اللہ رمضانی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اربعین کی تقریب کے وقار کو سمجھنا چاہیے مزید کہا: یہ نہ کہا جائے کہ ہر شخص جیسے چاہے عزاداری کرے۔ خرافات کی روک تھام کی جانی چاہئے اور ہمیں امام حسین (ع) کی عزاداری کی مجالس میں غلط چیزوں کے رواج پیدا کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔
    انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مزاحمت کے رہنما حاج قاسم سلیمانی موجودہ دور میں اربعین حسینی کی عظیم تحریک کے بانی تھے، واضح کیا: ہمیں اربعین کی ظاہری شکل کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی معنوی شکل پر بھی کام کرنا چاہیے اور صحیح رہنمائی کرنا چاہیے۔
    آیت اللہ رمضانی نے عراقی عوام کی مہمان نوازی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے حکام کی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا: اربعین پیدل مارچ کی آمادگی اس طرح کی جانی چاہیے کہ زائرین کی عزت افزائی ہو۔
    اہل بیت (ع) عالمی مجلس کے سکریٹری جنرل نے اربعین کو حضرت مہدی (ع) کے ظہور کے لیے ایک تاریخی اجتماع اور واقعہ قرار دیا اور مزید کہا: اربعین کی طرح دینے، اربعین کی طرح بننے، عاشورا کی فکر، عاشورہ کی زندگی اور عاشورا کی موت حاصل ہونا چاہیے۔
    انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امام حسین (ع) کا نظام الہی نظام کو فروغ دے رہا ہے، واضح کیا: ہمیں امام حسین (ع) کی ولایت کو مکمل طور پر قبول کرنا چاہیے۔
    اہل بیت (ع) عالمی اسبملی کے سکریٹری جنرل نے مزید کہا: اگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ وہ حضرت مہدی (ع) کا انتظار کرنے والوں میں سے ہے تو اسے امام حسین (ع) کی محبت، معفرت اور اطاعت کا اندازہ لگانا چاہئے۔

  • 1444 ہجری کے اربعین میں

    1444 ہجری کے اربعین میں "اہل بیت (ع) اسمبلی عراق" کی سرگرمیوں کی رپورٹ

    عراق میں ہر سال کی طرح اس سال بھی دینی، تبلیغی، امدادی، صحت، خدمات اور سیکیورٹی کے مراکز اور ادارے لاکھوں زائرین کو ضروری خدمات فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔
    "اہل بیت (ع) اسمبلی عراق" اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی سے متعلق مقامی اسمبلیوں میں سے ایک ہے جو عراق میں ہر سال ملکی اور غیر ملکی زائرین کو ہر طرح کی خدمات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
    اس اسمبلی کے ڈائریکٹر نے اس سال کی سرگرمیوں کے بارے میں کہا: امام زمان علیہ السلام کی برکت سے ہم اس سال 1444 ہجری کے ایام اربعین میں زائرین کو ثقافتی اور خدماتی شعبوں میں سرگرمیاں انجام دینے میں کامیاب ہوئے۔

    ff1ceadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg


    حجۃ الاسلام والمسلمین "پہلوان زادہ بہبہانی" نے جو ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو کر رہے تھے، مزید کہا: "اس سال ہم نے نجف کربلا کے راستے ستون 833 پر اہل بیت(ع) اسمبلی عراق کا موکب قائم کیا۔
    انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اسمبلی کے موکب کے علاوہ ہم نے "عاشورا بین الاقوامی فاؤنڈیشن" کا موکب بھی لگایا۔
    " زیارت اربعین اور عاشورا کی تقسیم"، "مذہبی اور ثقافتی بروشرز کی تقسیم"، " اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی کتابوں کی نمائش"، "مرحوم آیت اللہ آصفی کی کتابیں"، "علماء کی تبلیغی سرگرمیاں" امام حسین (ع) کے قیام کا فلسفہ، مقاصد اور نتائج" اور "شبہات اور شرعی مسائل کے جوابات" ان ثقافتی خدمات میں سے تھے جو ان دونوں موکبوں میں زائرین کو پیش کیے گئے۔

    fa1ceadd-3698-435c-8cea-beda3a3d593b.jpg


    جناب بہبہانی نے ان دونوں موکبوں کی فلاحی خدمات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس سال مختلف ممالک سے لاکھوں زائرین کی موجودگی کی وجہ سے ایک "حقیقی بحران" پیدا ہوا اور وہ پینے کے پانی کی اشد ضرورت تھی۔ پچھلے سالوں میں موکبوں نے اپنی سرگرمیاں 8 اور 10 صفر کے درمیان شروع کی تھیں لیکن زائرین کی بڑی تعداد کے باعث اس سال پہلی صفر سے موکبوں نے اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ اس لیے پینے کے پانی کا مسئلہ بڑا بحران بن گیا۔ اس سلسلے میں، عاشورہ انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے تعاون سے، ہم نے بڑی مقدار میں پیک کیا ہوا سینیٹری واٹر خریدا، اور مختلف موکبوں میں اس کے کئی ہزار کارٹن تقسیم کئے۔
    انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: زائرین کے لیے طبی امداد، ضروری دوائیں اور مرہم پٹی وغیرہ عاشورا فاؤنڈیشن کے تعاون سے کربلا اہل بیت(ع) یونیورسٹی کی اربعین کلینک کی طرف فراہم کیا گیا ۔
    بہبہانی نے اسمبلی اور عاشورا فاؤنڈیشن کے دونوں موکبوں کے فعال خادمین کے بارے میں کہا: "حیات الزہرا (س) تہران" کے تقریباً ستر اراکین جناب "رضا الماسی" کی سرپرستی میں تمام مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود یہاں موجود رہے اور زائرین کو خدمات فراہم کیں۔
    اہل بیت (ع) اسمبلی عراق کے ڈائریکٹر نے نداء الاقصیٰ موکب کے ساتھ تعاون کا ذکر کیا اور کہا: ہمارے دونوں موکب "اہل بیت (ع) یونیورسٹی کربلا" کی مرکزی عمارت کے پاس قائم تھے۔ اس یونیورسٹی نے اربعین زائرین کا استقبال کرنے اور ایک کلینک قائم کرنے کے علاوہ، نداء الاقصیٰ موکب کی میزبانی کی۔ جس میں اہل سنت کے علماء اور کارکنان موجود تھے، جو فلسطین، لبنان اور شام سے اربعین کی زیارت میں اپنے شیعہ بھائیوں کی خدمت کے لیے آئے تھے۔


    حجۃ الاسلام والمسلمین بہبہانی نے مزید کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ "رمضانی"، سپریم کونسل کے سربراہ آیت اللہ "اختری" اور نائب سربراہ آیت اللہ "دری نجف آبادی" نے نداء الاقصیٰ موکب میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ملحقہ مراکز اور ویب سائٹس

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
4+2=? سیکورٹی کوڈ