اسمبلی کا تعارف
اسمبلی کا تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعارف

ہمیں فخر ہے اس بات پر کہ ہم ایسے مذہب کے ماننے والے ہیں جس کے بانی حکم خدا سے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب ہیں جو انسانیت کو غلامی کی تمام زنجیروں سے رہائی دلانے آئے تھے۔
ہمیں فخر ہے کہ ائمہ طاہرین؛ علی بن ابی طالب سے لے کر منجی عالم بشریت حضرت مہدی صاحب الزمان (عجل اللہ تعالی فرجہ) تک کہ جو حکم خدا سے زندہ اور حاضر و ناظر ہیں، سب ہمارے ائمہ ہیں۔
اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارا مذہب جعفری ہے اور ہماری فقہ جو ایک بیکراں سمندر ہے مذہب جعفری کا ایک حصہ ہے۔
اور ہم اپنے تمام ائمہ طاہرین (ع) پر فخر محسوس کرتے اور ان کی اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔

(امام خمینی (رہ) کے وصیت نامہ سے اقتباس)
--------------------------------------------------------------------------
آج عالم اسلام کو اہل بیت(ع) کے پیغام کی سخت ضرورت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی:
(اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب؛ اگست ۲۰۰۷)
------------------------------------------------------------------------

آج ہر دور سے زیادہ پوری دنیا میں اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کو آپسی ہمدلی، ہمدردی اور ہمفکری کی ضرورت ہے۔
اور یہ اسلامی اتحاد کے قیام کی راہ میں ایک موثر اقدام ہو گا۔
رہبر انقلاب اسلامی:
(اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب؛ اکتوبر ۲۰۰۳)

 

فہرست


مقدمہ
پہلی فصل؛ کلیات


اہداف و مقاصد
اسمبلی کی تنظیم و ارکان

 

دوسری فصل؛ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی بین الاقوامی میدان میں


سپریم کونسل
جنرل اسمبلی کے اجلاس
مقامی تنظیمیں اور دفاتر
دینی ادارے اور ثقافتی مراکز
خواتین اور گھرانے سے متعلق سرگرمیاں
سماجی سرگرمیاں اور ثقافتی حمایت
مساجد، امام بارگاہیں اور عام المنفعہ مراکز کی تعمیر و حمایت کمیٹی
بین الاقوامی اجلاس اور کانفرنسوں کا انعقاد اور تعاون
اہل بیت(ع) کے پیرو مسلمانوں کے حقوق کا دفاع
بین الاقوامی اہل البیت(ع) یوتھ فاؤنڈیشن
مقامی مبلغین کی حمایت
بین الاقوامی عاشورا فاؤنڈیشن
مقامی تنظیموں اور انجمنوں کی حمایت
دیگر شیعہ فرقوں کی حمایت
اسمبلی کا موقف اور بیانیہ
خصوصی مناسبتوں کی سرگرمیاں
ہمفکر اداروں کے ساتھ تعاون
قانونی تنظیمیں اور NGO

 

تیسری فصل؛ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ترجمہ و تحقیقات کے میدان میں


تحقیق
ترجمہ
طباعت، اشاعت اور تقسیم
کتب خانہ اور مرکز دستاویزات
جرائد
سوالات و شبہات کے جوابات
مصنفین، محققین اور مستبصرین کی حمایت
ایران میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

 

چوتھی فصل؛ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی تعلیم و تربیت کے میدان میں


اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی
تحت حمایت اسکول
یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون
آنلاین تعلیم
کتب خانوں کا قیام
علمی حمایت اور تعلیم کے لیے وظیفہ کا اہتمام
علمی و ثقافتی کورسز

 

پانچویں فصل؛ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی معیشتی اور حمایتی امور میں


مجاب ٹریڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (تجارت)
افریقہ میں حمایتی معاشی سرگرمیاں
محروم ممالک میں قرض الحسنہ صندوق کا اجراء
مجاب کوثر کوآپریٹو کمپنی
عراق میں اقتصادی دفتر (زیر افتتاح)
شیعہ خیّر افراد کی کمیٹی
غیر متوقع حادثات میں حمایت
مساجد کی تعمیر میں امداد رسانی

 

چھٹی فصل؛ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی فن و میڈیا کے میدان


اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
اہل البیت(ع) عظیم پورٹل
اہل البیت(ع) پورٹل کی بعض سیٹلائٹ ویب سائٹس
اہل بیت(ع) پورٹل کی منتخب سائٹس
اسلامی سافٹ ویئرز
پیغمبر اعظم(ع) عظیم انعام
عالمی یوم القدس بین الاقوامی کارٹون فیسٹیول
آرٹ اور فن پارے
اسلامی صوتی اور تصویری میڈیا کی حمایت

 

ساتویں فصل؛ مخاطبین کے ساتھ گفتگو


خالص محمدی اسلام کی نشر و اشاعت میں تعاون
فکری اور علمی تعاون
اسمبلی کے ساتھ رابطہ

.................................................................................

مقدمہ
بسم الله الرحمن الرحیم
قال رسول الله صلی الله علیه و آله: « إنی تارک فیکم الثقلین أحدهما أکبر من الآخر کتاب الله حبل ممدود من السماء إلی الأرض و عترتی اهل بیتی ؛ و إنهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض ». (۱)
مرسلِ اعظم، سرکارِ دوعالم حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے آخری فرمان میں امّت ِ مسلمہ کو قرآنِ کریم اور اہلِ بیت عصمت و طہارت( علیہم السّلام ) کی پیروی کی گرانقدر نصیحت فرمائی، اس وصیت کی رو سے ائمۂ طاہرین علیہم السلام دنیا کے تمام صاحبانِ دیانت کا محور اور مرجع ہیں جو قرآنِ ناطق کی طرح دینی اور دنیوی امور میں صاحبانِ ایمان کی منزلِ کمال کی طرف ہدایت اور رہنمائی کرتے ہیں۔
اگرچہ محبّان ِ اہلِ بیت علیہم السّلام نے اپنے پیشواؤں کو اپنا نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے تاریخ کے ہر دور میں دینِ اسلام، مسلمانوں اور خالص اسلامی ثقافت کے دفاع اور حفاظت کا قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہے اور اس سلسلہ میں کسی بھی کوشش اور قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے لیکن محبّان ِ اہل بیت علیہم السّلام کے درمیان تبادلۂ خیال کے سازگار ماحول کی فراہمی، ان کے مشترکہ مفادات کی حفاظت، عالم ِ اسلام کے معاشرتی اور ثقافتی مسائل کو حل کرنے کے لئے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت نیز امّتِ مسلمہ کے عظیم مادی اور معنوی وسائل سے استفادہ کے پیشِ نظر ایک ایسے جامع و ہمہ گیر ادارہ کا قیام ناگزیر تھا جو ان ذمّہ داریوں کا بیڑا اٹھائے ۔
اسی ضرورت کے تحت اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والے کچھ دانشوروں نے ولیٔ فقیہ اور عالمِ شیعت کی جلیل القدر مرجعیّت کی زیرنگرانی ایک غیرسرکاری اور عالمی ادارہ کے طور پر "اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی " کا سنگِ بنیاد رکھا تاکہ شیعیان ِ اہل بیت ِ عصمت و طہارت (ع) تک رسائی، ان میں ہم آہنگی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ان کی حمایت کی سنگین ذمّہ داری کا بیڑا اٹھا سکے ۔
موجودہ دنیا میں حالات کی برق رفتار تبدیلی، زمان و مکان کے فاصلوں کے خاتمہ، مواصلاتی انقلاب اور بین الاقوامی اداروں کےمؤثّر کردار نے بھی اس ادارہ کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے ۔
پروردگارِ عالم کے لطف و کرم کے طفیل اس عالمی ادارہ نے آج تک بہت سے شائستہ اقدامات کئے ہیں، یہ ادارہ اس عظیم ذمہّ داری کو جاری و ساری رکھنے کے لئے دنیا کے تمام مسلمانوں کی طرف صدق ِ دل سے اخوّت، دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھاتا ہے ۔

یہ تحریر اہل بیت اسمبلی کی مختصر تاریخ، اس کے اغراض و مقاصد، اس کی تنظیم اور اہم سرگرمیوں پر مشتمل ہے ۔

۱۔ صحیح مسلم، ج 7 ؛ سنن ترمذی، ج 2 ؛ مسند احمد بن حنبل؛ ج 3 ؛ مستدرک حاکم، ج 3 و ...

 

پہلی فصل؛ کلیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اغراض و مقاصد
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے قیام اور اس کی فعّالیت کے اہم ترین اغراض و مقاصد مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ محمّدی(ص) خالص اسلام کی ثقافت اور تعلیمات کا احیاء اور فروغ، قرآن کریم ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمۂ طاہرین علیہم السّلام کی سنّت کے حریم کی حفاظت۔
2۔ اسلام، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ، قرآن کریم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا دفاع
3۔ تمام فرزندانِ توحید بالخصوص اہل بیت علیہم السّلام کے پیروکاروں میں اتّحاد و بھائی چارہ کا جذبہ پیدا کرنا۔
4۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کے وجود اور محبّانِ اہل بیت علیہم السّلام کے حقوق کا دفاع اور ان کی حمایت۔
5۔ دنیا میں اہلِ بیت علیہم السّلام کے پیروکاروں کے مادی اور معنوی بنیادی ڈھانچہ کا فروغ و استحکام ۔
6۔ پوری دنیا کے شیعوں کی ثقافتی، سیاسی، معاشی اور سماجی پوزیشن کی اصلاح و ترقّی کے لئے مدد کرنا۔
7۔ شیعیانِ عالم کو میڈیا کی مظلومیت اور علمی و معاشی پسماندگی سے نجات دلانا۔
8۔ تمام عالم انسانیت اور اقوام عالم کے درمیان امن، دوستی، ہمدردی اور باہمی تعاون کی فضا قائم کرنے کی کوشش کرنا.


اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا ڈھانچہ اور ارکان
الف) جنرل اسمبلی
اس ادارہ کی جنرل اسمبلی پوری دنیا کے شیعوں کے اہم دانشوروں، مفکّروں اور ممتاز شخصیات پر مشتمل ہے۔
اس اسمبلی کے اراکین ہمیشہ ہی " اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی " سے رابطے میں رہتے ہیں اور ہر چار سال میں ایک مرتبہ پالیسیاں مرتب کرنے، مواقع سے فائدہ اٹھانے، چیلنجز کا حل نکالنے اور فعالیت کی راہیں تلاش کرنے کی غرض سے ایک مشترکہ اجلاس کی صورت میں جمع ہوتے ہیں۔

ب) سپریم کونسل
سپریم کونسل، جنرل اسمبلی کے بعض ممتاز اراکین پر مشتمل ہے جو اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی پالیسیوں، منصوبوں اور اس کے بجٹ کو منظوری دیتے ہیں اور اس کی فعّالیتوں پر نگرانی رکھتے ہیں۔

ج) سیکریٹری جنرل
سیکریٹری جنرل ،اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا سب سے اعلیٰ عہدیدار ہے جسے اس اسمبلی کو چلانے، اس کی پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ پر نگرانی کے لئے سپریم کونسل کی طرف سے منتخب کیا جاتا ہے ۔
اب تک اسمبلی کو چلانے کے لیے پانچ مرتبہ سکریٹری جنرل کا انتخاب کیا جا چکا ہے، منتخب شدہ افراد میں سے ہر ایک عالم اسلام کی برجستہ شخصیت رہا ہے:
۱: آیت اللہ محمد علی تسخیری؛ مئی ۱۹۹۰ سے اگست ۱۹۹۹ تک۔
۲: ڈاکٹر علی اکبر ولایتی؛ اگست ۱۹۹۹ سے اکتوبر ۲۰۰۲ تک۔
۳: آیت اللہ محمد مہدی آصفی؛ اکتوبر ۲۰۰۲ سے اپریل ۲۰۰۴ تک۔
۴: آیت اللہ محمد حسن اختری اپریل ۲۰۰۴ سے ستمبر ۲۰۱۹ تک۔
۵۔ آیت اللہ رضا رمضانی ستمبر ۲۰۱۹ سے اب تک۔

د) اسمبلی کے ذیلی شعبے
اس اسمبلی میں سرگرم ذیلی شعبے "بین الاقوامی شعبہ" ،"شعبۂ ثقافت" ،"انتظامی امور کا شعبہ"، " پارلیمانی اور قانونی شعبہ" اور "معاشی امور کا شعبہ" نیز "دفتر سیکریٹری جنرل" سے عبارت ہیں۔
یہ ذیلی شعبے درج ذیل امور میں فعالیت کرتے ہیں:
۔ جنرل اسمبلی کے اراکین، مقامی تنظیموں (NGO) اور عالم اسلام کی اہم شخصیتوں سے رابطہ رکھنا اور ان کی حمایت کرنا؛
۔ مختلف زبانوں میں اسلامی تعلیمات کے مواد پر مبنی کتابوں، رسائل ، سافٹ ویئرز اور ثقافتی مصنوعات کی تالیف اور اشاعت؛
۔ علاقائی، بین الاقوامی اور بین الاسلامی کانفرنسوں کا انعقاد؛
۔ اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کی مدد کی غرض سے فلاحی اور معاشی سرگرمیاں؛
۔ دینی اداروں اور اسلامی مراکز کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدے کرنا؛
۔ اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کی حوصلہ افزائی اور مذہبی تنظیموں اور ثقافتی اداروں کا قیام؛
۔ دینی فعال کارکنان اور مقامی مبلغین کی حمایت؛
۔ سامراجی میڈیا کے مقابلے میں درست اور مفید معلومات فراہم کرنا
۔ امام بارگاہوں، اسلامی مراکز، لائبریریوں، طبی مراکز اور عوامی فلاحی اداروں کا قیام؛
۔ ضرورتمندوں، غریبوں نیز قدرتی آفات اور دھشتگردی سے متاثر افراد کی مدد کرنا؛
۔ علمی ترقی اور تعلیمی پیشرفت کے لیے اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کی حمایت کرنا۔


اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی بین الاقوامی میدان میں
جنرل اسمبلی
مئی 1990 میں، تہران میں عالم اسلام کے 300 سے زیادہ دانشوروں اور مفکرین بالخصوص اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کی شرکت کے ساتھ ایک عالمی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر، شرکاء نے حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی خدمت میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی تشکیل کی اجازت پر مبنی درخواست پیش کی جسے آپ نے منظور کر لیا۔
ان افراد نے اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی پہلی جنرل اسمبلی کو تشکیل دیا۔
"جنرل اسمبلی" اب سیکڑوں بااثر شیعہ شخصیات کی موجودگی سے اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی ایک اہم ستون ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف کانفرنسوں کے انعقاد سے اسمبلی کے منظور شدہ پروگراموں کو انجام دیتی اور نئے کاموں کی تجویز پیش کرتی ہے۔  

سپریم کونسل
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی تمام سرگرمیاں سپریم کونسل کی طے شدہ پالیسیوں کی بنیاد پر انجام دی جاتی ہیں۔
یہ کونسل مختلف جغرافیائی علاقوں اور ان خطوں سے تعلق رکھنے والی شیعہ شخصیات اور نامور افراد پر مشتمل ہے جہاں اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کی قابل ذکر تعداد رہتی ہے۔ جیسے ایران ، عراق ، ہندوستان ، پاکستان ، افغانستان ، لبنان ، بحرین وغیرہ وغیرہ۔

سپریم کونسل کا اجلاس
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا اجلاس سال میں دو بار اپنے ایرانی اور غیر ایرانی ممبروں کی اکثریت کی موجودگی میں ہوتا ہے۔ سالانہ اجلاس کے علاوہ ، کبھی کبھار خصوصی موضوعات یا غیر متوقع واقعات پر ہنگامی میٹنگیں بلائی جاتی ہیں جن میں بعض ممبران شرکت کرتے ہیں۔

حقیقی ممبران
1990 میں اسمبلی کے قیام کے بعد سے آج تک ، عالم اسلام کے ممتاز علماء اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے حقیقی ممبران ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض وہ افراد جو شہادت یا انتقال کی وجہ سے رخصت ہو گئے اور بعض اس سے زیادہ اہم ذمہ داریوں کے پیش نظر اسمبلی کی رکنیت سے سبکدوش ہوگئے ان کے نام درج ذیل ہیں:
آیت اللہ ہاشمی شاہرودی(ایران)، آیت اللہ فضل اللہ (لبنان)، آیت اللہ حکیم و آیت اللہ آصفی (عراق)، آیت اللہ الفضلی (سعودی عرب)، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی (ایران)
 
مندرجہ ذیل افراد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے حقیقی ممبران ہیں:
ـ آیت اللہ محسن اراکی (از ایران)؛
ـ آیت اللہ محمدعلی تسخیری (از ایران)؛
ـ حجۃ الاسلام محمد علی محسن تقوی (از هندوستان)؛
ـ حجۃ الاسلام سید عمار الحکیم (از عراق)؛
ـ حجۃ الاسلام نبیل الحلباوی (از سوریه)؛
ـ آیت اللہ سید احمد خاتمی (از ایران)؛
ـ آیت اللہ قربانعلی دری نجف آبادی (از ایران)؛
ـ حجۃ الاسلام سید هاشم الشخص (از عربستان)؛
ـ آیت اللہ عیسی احمد قاسم (از بحرین)؛
ـ آیت اللہ محسن مجتهد شبستری (از ایران)؛
ـ آیت اللہ محمدآصف محسنی (از افغانستان)؛
ـ حجۃ الاسلام محمود محمدی عراقی (از ایران)؛
ـ حجۃ الاسلام سید مرتضی العاملی (از کنیا)؛
ـ حجۃ الاسلام حسین المعتوق (از کویت)؛
ـ حجۃ الاسلام سید حسن نصرالله (از لبنان)؛
ـ حجۃ الاسلام سید ساجد علی نقوی (از پاکستان)؛
ـ حجۃ الاسلام سید ابوالحسن نواب (از ایران)؛
ـ حجۃ الاسلام عباس واعظ طبسی (از ایران)؛
ـ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی (از ایران)؛
ـ آیت اللہ مهدی ہادوی تهرانی (از ایران).

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ترجمہ و تحقیقات کے میدان میں

کتاب کونسل
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل نے سن 2000 میں اسمبلی کے فرائض خصوصا تالیف، تحقیق ، ترجمہ وغیرہ کے میدان میں بہتر طور پر انجام دینے کے لئے،  ’کتاب کونسل‘ کے نام سے ایک علمی کونسل کا قیام عمل میں لایا۔

یہ کونسل جو اسمبلی کے مطبوعات کو مستحکم، معتبر اور متقن بنانے کی غرض سے تشکیل دی گئی، حوزات علمیہ اور یونیورسٹیوں کی اعلی تعلیم یافتہ شخصیات اور مجتہد افراد پر مشتمل ہے جو مختلف موضوعات کا جائزہ لینے کے بعد ان کی تدوین، تالیف اور نشر و اشاعت سے متعلق ضروری فیصلہ لیتی ہے۔
اس کونسل کے ممبران ، مخاطبین اور قارئین کی ضروریات کے مطابق کتابوں کے موضوعات کا انتخاب کرنے کے بعد ، کتابوں کی تالیف کے اختتامی مرحلے تک ان کے مواد پر نظارت رکھتے اور اصل اسلامی منابع سے مطالب حاصل کرنے کی رہنمائی کرتے ہیں۔

تحقیق
دنیا کے نت نئے تقاضوں کے لئے نئے تحقیقی کاموں کی ضرورت ہے جو اہل بیت (ع) کے ماننے والوں کی فکری اور ثقافتی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ اس ضرورت کی وجہ سے ، اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے تحقیقی شعبے نے حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے مصنفین اور محققین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے قیمتی آثار تحریر کروائے ہیں۔

یہ شعبہ درج ذیل امور میں خدمات انجام دیتا ہے:
الف) ریسرچ اور تحقیق کے متعلّق منصوبوں کی تیّاری اور انہیں پیش کرنا۔
ب) کتابوں کی تصحیح، تنقیح اور نشر و اشاعت۔
ج) اسمبلی کی سرگرمیوں سے متعلق کتابوں کے پوائنٹس کی خریداری۔
د) علمی گروہوں کی تشکیل (علوم قرآن، تفسیر ، تاریخ اور سیر اہل بیت علیہم السلام)۔
2015 کے موسم گرما تک، اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اور اس سے منسلک مقامی اسمبلیوں اور انجمنوں کے ذریعے تحریر اور شائع ہونے والی کتابوں کی کل تعداد قریب 1800 عناوین تک پہنچی تھی۔

اسمبلی کے سب سے اہم تحقیقی کاموں میں تاریخ کے میدان میں ’اعلام الھدایہ‘ پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی کا جائزہ، مختلف زبانوں میں سیرت اہل بیت(ع) اور تاریخی، عقیدتی اور فقہی شبہات کے جواب میں 46 جلدوں پر مشتمل ’فی رحاب اہل البیت(ع)‘ نامی کتب کا مجموعہ، قابل ذکر ہیں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی تعلیم و تربیت کے میدان میں
تعلیم و تربیت
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اپنے قیام کے بعد سے ہی ملک کے اندر اور باہر پیروان اہل بیت(ع) کو تعلیم دینے کی کوشش کرتی آ رہی ہے۔
اسمبلی کی جانب سے فراہم کردہ تعلیمی نظام کو مندرجہ ذیل صورت میں درج کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ رسمی اور اکیڈمک تعلیم
اسمبلی اپنے زیر احاطہ اسکولوں، اہل بیت (ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، اور دیگر یونیورسٹیوں میں اہل بیت کے پیرو طلباء کے لئے وظیفہ کا اہتمام کر کے شیعہ نوجوانوں کو باضابطہ تعلیم دینے کی کوشش کرتی ہے۔

۲. عملی تعلیم
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے اور اہل بیت اطہار (ع) کی ثقافت کو عام کرنے کی غرض سے مختلف ممالک کے طلباء اور علماء کو ضرورت کے مطابق عملی تعلیم و تربیت دینے کی کوشش کرتی ہے۔  

۳. شیعہ شناسی اور شبہات کے جوابات پر مبنی کورسز
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی پیروان اہل بیت(ع) کو دشمنوں کے منفی پروپیگنڈوں اور مذہب مخالف شبہات کے مقابلے میں مضبوط بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں شیعہ شناسی اور شبہات کے جوابات پر مبنی کورسز کا اہتمام کرتی ہے۔
یہ کورسز جو قم کے ساتھ ساتھ ملک کے سرحدی اور محروم علاقوں میں منعقد ہوتے ہیں ان میں اساتذہ، ہونہار طلاب اور اسٹوڈنٹس کو دعوت دی جاتی ہے اور مذہب تشیع کے اصول اور مبانی سے انہیں آشنا کرنے کے علاوہ دشمن کے پروپیگنڈوں سے باخبر کیا جاتا ہے۔

۴۔ یونیورسٹیوں میں شیعہ شناسی کے شعبہ جات قائم کروانا
حالیہ سالوں میں علمی مراکز کے اندر مذہب اہل بیت(ع) کی طرف توجہ کافی حد تک بڑھ چکی ہے اس بنا پر دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں شیعہ شناسی اور مذہب اہل بیت(ع) کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کی غرض سے خصوصی شعبہ قائم کروا کر مطالعے کی فضا فراہم کی جاتی ہے۔
اسمبلی نے ان علمی مراکز اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں اصلی منابع اور ماخذ فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔

۵۔ فاصلاتی تعلیم
یہ تعلیم سی ڈیز، اہل بیت(ع) پورٹل، پالٹاک اور تعلیمی کتابوں کے ارسال کے ذریعے پیروان اہل بیت(ع) کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی معیشتی اور حمایتی امور میں


اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو مالی طور پر مضبوط بنانے، معاشی کارکنوں اور کاروباری افراد کے مابین تعاون قائم کرنے اور عالمی معاشی منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ موجودگی کے اہتمام کے لئے اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے منظور شدہ قوانین کے مطابق ان کی حمایت کی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں، اور موجودہ سکریٹری جنرل اسمبلی کے دور میں اور دنیا کے مختلف خطوں خصوصا افریقہ میں اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کی مالی حمایت کے لیے ایک وفد کو ان علاقوں میں بھیجا گیا۔
نیز مالی اور معیشتی پروجیکٹس کی حمایت کی غرض سے اسمبلی میں ایک اسٹریٹجک کونسل تشکیل دی گئی ہے جو متعدد اجلاس کے انعقاد سے اچھے نتائج سامنے لا رہے ہیں۔
جو کچھ کہا گیا ہے اس کی بنیاد پر پچھلے کچھ سالوں میں اسمبلی کی سب سے اہم سرگرمیوں کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:

مجاب ٹریڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (تجارت)
یہ تجارتی کمپنی، درآمد اور برآمد کے امور میں سرگرم عمل ہے اور اس نے روس ، عراق ، تاجکستان ، کرغزستان ، ازبکستان ، ترکمنستان اور کینیا کے ساتھ کافی اچھا تجارتی تعاون کیا ہے۔
کمپنی مختلف ممالک میں مقامی سرمایہ کاری کے ساتھ باہمی تجارت کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔

افریقہ میں حمایتی معاشی سرگرمیاں
اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی محرومیت کو ختم کرنے کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی افریقہ میں کھیتی باڑی کے میدان میں خدمات انجام دینے کی غرض سے ایک کمپنی تشکیل دی گئی جس نے اتھوپیا، کینیا، کومرس، تنزانیہ، گھانا وغیرہ میں مقامی کمپنیوں کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی مفاہمت ناموں پر دستخط کئے ہیں۔

محروم ممالک میں قرض الحسنہ صندوق کا اجراء
چھوٹی صنعتوں کی مالی مضبوطی اور ان میں ترقی کی غرض سے محروم ممالک میں قرض الحسنہ کے صندوقوں کے اجراء کا عمل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے معاشی پروگراموں کا حصہ ہے۔

مجاب کوثر کوآپریٹو کمپنی
یہ کمپنی کوآپریٹو ڈویلپمنٹ بینک کے ذریعہ ایک مشترکہ کوآپریٹو کے طور پر پانچ ارب ریال کے ابتدائی سرمائے کے ساتھ حصص فروخت کرکے قائم کی گئی تھی ، جس کی اصل سرگرمی اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کی مالی مدد کرنا ہے جو اب تک اٹلی ، برونڈی، عراق اور عمان سمیت مختلف ممالک کو برآمد کرتی رہی ہے۔

عراق میں اقتصادی دفتر (زیر افتتاح)
معیشت ، زراعت ، طبی سیاحت ، تکنیکی انجینئرنگ خدمات ، تیل و گیس ، بنیادی ڈھانچوں کی خدمات نیز طب اور طبی سامان کے شعبوں میں دو ہمسایہ اور اہل بیت(ع) کے محب ملکوں کے مابین تعمیری تعاون اس دفتر کی سرگرمیوں میں سے ایک ہے۔  

شیعہ خیّر افراد کی کمیٹی
یہ کمیٹی اہلِ بیت(ع) کے چاہنے والے مالداروں، تاجروں اور دیگر قومی اور بین الاقوامی انسان دوست اداروں پر مشتمل ہے، یہ کمیٹی دنیا کے پسماندہ اور ترقّی پذیر ممالک میں  بسنے والے مسلمانوں اور شیعوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے.

غیر متوقع حادثات میں حمایت
اہل بیت(ع) کے پیروکار چونکہ اپنے معاشروں میں ایک مظلوم طبقہ شمار ہوتے ہیں اور غیر متوقع حادثات جیسے سیلاب، زلزلہ اور دیگر مشکلات میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی پیغمبرِ رحمت(ص) اور آپ کے اہل بیت علیہم السّلام کی سیرت کو نصب العین قرار دیتے ہوئے زلزلہ ، سیلاب ، جنگ اور دیگر مصائب و آلام میں مصیبت زدہ افراد کی ہر ممکن امداد کرتی ہے، ان کے مصائب و آلام کے ازالہ  اور کمی کے لئے  بھر پور تعاون کرتی ہے اور خیر افراد سے امدا اکٹھا کر کے ان تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔
مثال کے طور پر پاکستان کے سیلاب، غزہ کا محاصرہ توڑنے، بحرینی عوام کی حمایت اور صومالیہ کے قحط زدہ لوگوں کی مدد کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔
مساجد کی تعمیر میں امداد رسانی
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی مساجد، امام باڑوں، اور دینی رسومات کی ادائیگی کے لیے مراکز کی تعمیر میں مؤمنین کی مدد کرتی ہے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی فن اور میڈیا کے میدان میں


اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ’’ابنا‘‘ کا تعارف
ایران میں میڈیا کے سلسلہ میں ایک نئے زاویہ نگاہ اور خاص رجحان کے وجود میں آنےاور عمومی نیوز ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ خصوصی نیوز ایجنسیوں کی تشکیل کے بعداہل بیت نیوز ایجنسی ’’ابنا‘‘کی بنا رکھی گئی تاکہ مکتب تشیع سے متعلق خبروں نیز دنیا میں رونما ہونے والے ان واقعات کی خبروں کو عام کیا جائے کہ جن میں شیعوں کا بنیادی کردار ہوا کرتا ہے۔
تمہید
اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار اپنے مظلوم پیشواؤں کے مانند تاریخ میں ہمیشہ ظلم و ستم کا شکار رہے ہیں۔بنی امیہ ،بنی عباس اور نظام ہجری کی درمیانی صدیوں کے علاوہ دور حاضر کے ماڈرن اور پیشرفتہ دور میں بھی یہ ظلم و زیادتی کا سلسلہ اسی آب و تاب کے ساتھ باقی ہے۔
اس مظلومیت اور روز بروز اس میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ ’’شیعوں کی ایک دوسرے سے بے خبر ی‘‘ اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم سے ’’بین الاقوامی اداروں کی ناواقفیت‘‘ ہے۔اس لئے کہ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ ایسے حکام اور صاحبان قدرت کے قبضہ میں ہیں جو ’’خالص محمدی اسلام‘‘ کے خلاف مورچہ بنائے ہوئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں بھی متعدد نیوز ایجنسیوں،خبری ویب سائٹوں اور جرائد کے ہوتے ہوئے بھی ایک ایسی نیوز ایجنسی کی کمی کا احساس ہوا جو خصوصی طور پر مذہب تشیع اور اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں سے متعلق خبروں کو دنیا بھر میں عام کرے۔
اہل بیت عالمی اسمبلی کے حالیہ جنرل سیکریٹری حجۃ الاسلام والمسلمین جناب محمد حسن اختری کے دور میں اسمبلی کے ذمہ داران نے ان حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس خلا کو پُر کرنے کی غرض سے تین زبانوں میں ایک خبری ویب سائٹ کا قیام کیا۔
فضل خدا اور معصومین علیہم السلام کی عنایات کے زیر سایہ یہ ویب سائٹ آہستہ آہستہ اور معقول انداز میں ترقی کی منزلوں کو طے کرتی رہی اور اب اس وقت مستقل طور پر سرگرم عمل ایک نیوز ایجنسی کی صورت اختیار کر چکی ہےجس میں تجربہ کارایڈٰٹوریل بورڈ اور اندرونی اور بیرونی نامہ نگاراپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ نیوز ایجنسی جو دنیا کی بیس مختلف زندہ زبانوں پر مشتمل ایک نہایت مؤثر ویب سائٹ ہے چند مراحل سے گزری ہے:
پہلا مرحلہ؛پہلا قدم
اہل بیت نیوز ایجنسی [ابنا]’’شیعہ نیوز کی خبری اور تجزیاتی ویب سائٹ کی ترقی یافتہ شکل ہے جو ماضی میں www.shianews.ir اور www.shianews.org ڈومین کے تحت مصروف عمل ہوا کرتی تھی۔
یہ سائٹ۱۴ مارچ ۲۰۰۵ میں اہل بیت (ع)عالمی اسمبلی کے بین الاقوامی امورکے شعبہ سے وابستہ افراد کی جد و جہد کے نتیجہ میں منظر عام پر آئی اور اس نے تین زبانوں یعنی فارسی،عربی اور انگلش میں اپنا کام شروع کیا۔
دوسرا مرحلہ؛منتقلی
سنہ ۲۰۰۷ کے موسم گرما میں اس ویٹ سائٹ کی نئی انتظامیہ نے سائٹ کا ایک نیا خاکہ پیش کیا۔اس مرحلہ میں یہ ویب سائٹ ’’شیعوں کی خبریں‘‘عنوان کے تحت مصروف عمل ہوئی اور بعض دیگر موضوعات کا اس میں اضافہ کیا گیا۔
تیسرا مرحلہ:اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا
جس وقت مذکورہ ویب سائٹ نے خبری حلقوں میں اپنا مقام پا لیا اور ایران اور دنیا کی شیعہ برادری نے اس کا استقبال کیا تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس ویب سائٹ کو ایک نیوز ایجنسی کے طور پر کام کرنا چاہئے۔
سنہ۲۰۰۸میں اس نئے مرحلہ کا آغاز ہوا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے ہاتھوں اس ایجنسی کا باضابطہ طور پر اجرا عمل میں آیا اور اس خبری اورتجزیاتی ویب سائٹ نے www.abna.ir ڈومین کے تحت ’’اہل بیت (ع)نیوز ایجنسی۔ابنا‘‘ کے طور پر باقاعدہ اپنے کام کا آغاز کیا۔اس وقت ’’صادق رمضانی گل افزانی‘‘ چیف ایڈیٹر اور ’’سید علی رضا حسینی‘‘(عارف) اس کے ایڈیٹر تھے۔اس کے بعدسنہ ۲۰۱۰ میں حسینی عارف صاحب چیف ایڈیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ کے ایڈیٹر بھی قرار پائے۔
۱۷ ستمبر ۲۰۱۲ میں اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کو ایران کی وزارت برائے ثقافت و ہدایت سے قانونی طور پر لائیسنس حاصل کرنے میں بھی کامیابی ملی۔
ABNA در حقیقت Ahle Bait News Agency کا مخفف ہے جو اس وقت abna24.com ڈومن کے تحت کام کر رہی ہے اور فی الحال حجۃ الاسلام و المسلمین سید علی رضا حسینی عارف صاحب اس کے CEO ہیں۔اس ایجنسی کا پروپرائیٹر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی سے وابستہ ’’ابناء الرسول آرٹ اینڈ کلچر فاؤنڈیشن‘‘ ہے۔
اسلامی اتحاد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تشیع کا دفاع
اگرچہ اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کے وجود میں آنے کا بنیادی ہدف اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں پر سے غبار مظلومیت کا ازالہ تھا لیکن اس کے باوجود ہمیشہ اسلام کے بنیادی اصول و اہداف کا پاس و لحاظ رکھاہے۔ان اہداف میں سے ایک اہم ترین اصول و ہدف مختلف ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کا احترام اور اسلامی اتحاد کا تحفظ ہے۔
اہل بیت(ع)نیوز ایجنسی(ابنا) کی زبانیں

اس وقت ابنا نیوز ایجنسی دنیا کی ۲۰ زبانوں میں مصروف عمل ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:فارسی،انگلش،عربی، فرانسیسی،چینی، اسپینش،جرمن، روسی، استامبولی، ترکی،آذری ترکی(لاطینی اور سریلیک رسم الخط کے ساتھ)، اردو،بنگلا، مالایو، ہندی، انڈونیشین، سواحلی،ب وسنیائی، ہوسا اور میانماری۔
ثقافتی صفحات
’’ابنا ‘‘ ابتدا سے ہی اپنے بنیادی فرض یعنی خبروں سے با خبر کرنے کے ساتھ ساتھ ’’سبز صفحے‘‘ عنوان کے تحت کچھ دینی اور ثقافتی صفحات کو بھی اپنے مخاطبین اور ویزیٹرس کے خدمت میں پیش کرتی رہی ہے۔یہ صفحات خبروں کے برخلاف کسی خاص وقت سے مخصوص نہیں ہوتے۔
ان صفحات کے بعض عناوین مندرجہ ذیل ہیں:
قرآن،حدیث اور ان سے متعلق مسائل، پیغمبر اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت طیبہ،ولایت کے ہمراہ، مقالہ، تقاریر، انٹرویو، میں کیوں شیعہ ہوا؟، اہل بیت علیہم السلام کے ناصرین،مہدویت، پردہ اور خوبصورتی، وہابیت کی شناخت، صہیونیت کی شناخت، دیگر ادیان اور مکاتب فکر، شعر و ادب، مذہبی اس ام اس، ابنا اور قارئین۔
انعامات
اہل بیت (ع)نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ نے اپنی مختصر سی سرگرمیوں کے دوران مختلف بین الاقوامی،قومی اور علاقائی نمائشوں اور فیسٹیولوں میں شرکت کی جس میں اس نے تین انعامات حاصل کئے:
۱۔سنہ ۲۰۱۲ میں پریس اور نیوز ایجنسیوں کی انیسویں بین الاقوامی نمائش میں ’’ممتاز نیوز ایجنسی‘‘ کا انعام۔(نومبر ۲۰۱۲)
۲۔پہلے اشراق فلم فیسٹیول میں ’’ممتاز نیوز ایجنسی‘‘ کا انعام۔(جون ۲۰۱۲)
۳۔ڈیجیٹل میڈیا کے چھٹے بین الاقوامی فیسٹیول کی ’’منتخب نیوز ایجنسی‘‘۔(جنوری ۲۰۱۳)

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
2*9=? سیکورٹی کوڈ