خبریں

آیت اللہ اختری کی جانب سے شیعہ مرجعیت اور شہدائے مچھ کے اہل خانہ کی قدردانی

آیت اللہ اختری کی جانب سے شیعہ مرجعیت اور شہدائے مچھ کے اہل خانہ کی قدردانی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے قتل عام پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آیت اللہ محمد حسن اختری نے ایک تسلیتی اور مذمتی پیغام جاری کیا ہے۔
آیت اللہ اختری نے اپنے پیغام میں ہزارہ برادری کے گیارہ کان کنوں کی شہادت پر امام زمانہ (ع)، شہیدوں کے اہلخانہ اور تمام پیروان اہل بیت(ع) کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ کے عاملین کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ کے متن کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

d0e0d772a365b5c19ca050064bb7b953_667.jpg


بسم الله الرحمن الرحیم
﴿ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُون ﴾
(اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے آیات الٰھیہ کی یاد دلائی جائے اور پھر اس سے اعراض کرے تو ہم یقینا مجرمین سے انتقام لینے والے ہیں۔)
(قرآن مجید۔ سورہ سجدہ۔ آیت ۲۲)
انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ عالمی معاشرہ خصوصا امت اسلامی کئی دہائیوں سے انتہا پسند تکفیری گروہوں کی وحشتناک بربریت کی چکی میں پس رہی ہے اور آل سعود کی جرائم پیشہ رژیم اور اس کے مزدور وہابی مختلف ممالک خاص طور پر پاکستان میں مسلسل پیروان اہل بیت(ع) کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
تکفیری وہابیوں کے جرائم کا نہ تھمنے والا سلسلہ اور بے گناہ انسانوں کے مسلسل قتل عام پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذلت آمیز خاموشی انتہائی افسوس ناک ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ممالک کی حکومتیں، عدالتی، سکیورٹی اور عسکری ادارے بھی ان ٹولیوں کی شناخت میں یا ناکام رہے ہیں یا جان بوجھ کر انہیں سامنے نہیں لا رہے ہیں تاکہ انہیں سزا دیں یا ان کا قلع قمع کریں اور ہر آئے دن دھشتگردانہ کاروائیوں کے نتیجے میں دسیوں بے گناہ انسانوں کے دلسوز واقعات کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے "مچھ" میں حالیہ دردناک دھشتگرانہ کاروائی اور گیارہ بے گناہ کان کنوں اور زحمت کشوں کے بے دردی سے قتل نے تمام مسلمانوں اور پیروان اہل بیت (ع) کے دلوں کو غم و اندوہ سے بھر دیا۔
میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے اس دلسوز سانحے پر امام عصر حجت بن الحسن العسکری (عج)، حوزات علمیہ اور ستم دیدہ گھرانوں کی خدمت میں تسلیت پیش کرتا ہوں۔
نیز اس دردناک سانحے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے بزور اپیل کرتا ہوں کہ جتنا جلدی ممکن ہو اس جرم کے مرتکبین کی شناخت کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ دوسرے سنگ دل دھشتگردوں کے لیے درس عبرت ہو۔
میں خود پر لازم سمجھتا ہوں کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کا شکریہ ادا کروں کہ انہوں نے بروقت مکمل ہوشیاری اور ہمدردی سے پیغام جاری کر کے ایک نئے بحران سے بچا لیا نیز علمائے اسلام، مسلمان حکومتوں اور علمی و سماجی شخصیات کا بھی شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے حادثات و واقعات کی روک تھام کے لیے ان سے ٹھوس اقدام کرنے اور مظلوم و ستمدیدہ افراد کی حمایت کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔
شہدائے مچھ کے اہل خانہ کی دل کی گہرائیوں سے قدردانی کرتا ہوں کہ انہوں نے مرجعیت کی اتباع میں اپنے پاک عزیزوں کے خون کی پاسداری کی۔
خداوند عالم متعال سے دعا کرتا ہوں کہ شہدائے اسلام خصوصا اس دردناک واقعے کے شہدا کو ائمہ طاہرین کے ساتھ محشور فرمائے اور پسماندگان کو صبر و اجر عنایت فرمائے۔
                                                                     

                                                                        و انا للہ و انا الیہ راجعون
                                                                           محمد حسن اختری
                                                       چیئرمین سپریم کونسل برائے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
                                                       مینیجنگ ڈائریکٹر برائے عاشورا بین الاقوامی فاؤنڈیشن

بلوچستان؛ مچھ کے مظلوم شیعوں کے قتل عام پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی بیان

بلوچستان؛ مچھ کے مظلوم شیعوں کے قتل عام پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی بیان

ہفتہ, 09 جنوری 2021

صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں داعشی دھشتگردوں کے ہاتھوں شہید کئے جانے والے مظلوم شیعہ مسلمانوں کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے تعزیتی بیان جاری کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان میں بین الاقوامی معاشرے سے اپنی قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کی اپیل کے ساتھ انہیں انتہا پسند اور جرائم پیشہ دھشتگرد گروہ داعش کے خطرے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے نیز آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کا انکے راہگشا پیغام کی بنا پر شکریہ ادا کرنے کے علاوہ پاکستان کے وزیر اعظم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے شہداء کے لواحقین کے پاس حاضر ہو کر انہیں تسلی دی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔

bed16311b32cac168542899ecc13e8b5_827.jpg



بسم الله الرحمن الرحیم
و سیعلم الذین ظلموا ایّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبون


ایک بار پھر تکفیری دھشتگردوں کے ہاتھوں پاکستان کے مظلوم مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔
دھشتگرد تکفیری گروہ داعش نے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے ہزارہ برادری کے ۱۱ کان کنوں کو ذبح کر کے جس جرم کا ارتکاب کیا ہے اس سے ایک بار پھر تمام انسانوں خصوصا پیروان اہل بیت علیہم السلام کے دل مجروح ہو گئے اور ان میں اس دردناک جرم کی نسبت غم و غصہ کی لہر دوڑ آئی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس دھشتگردانہ اور غیرانسانی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتی ہے اور ان کے لیے صبر و اجر کی دعا کرنے کے ساتھ ساتھ تمام بین الاقوامی تنظیموں خصوصا اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اپنی قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کرتے ہوئے اس طرح کے بہیمانہ جرائم کے ارتکاب کا سد باب کرے اور دھشتگردی کے ساتھ مقابلے کو سنجیدگی سے لے، اور نیز ان تنظیموں کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس انتہا پسند اور جرائم پیشہ ٹولے کا خطرہ نہ صرف شیعہ برادری یا مسلمانوں کو ہے بلکہ تمام انسانیت اس خطرے سے جوجھ رہی ہے لہذا اس کے مقابلے کے لیے ٹھوس اور مضبوط اقدامات اٹھائے جائیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی خود پر ضروری سمجھتی ہے کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (حفظہ اللہ) کی قدردانی کرے کہ آپ نے اپنے راہگشا پیغام کے ذریعے شہداء کی تدفین کے حوالے سے پیدا ہونے والے مشکلات کو دور کیا، نیز علمائے پاکستان کا بھی شکریہ ادا کرتی ہے کہ انہوں نے مرجعیت کے دستور کی حمایت میں ٹھوس موقف اپنایا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی پاکستان کے وزیر اعظم "عمران خان" کی بھی شکرگزار ہے کہ انہوں نے ہزارہ شیعوں کی مظلومیت کا اعتراف کیا اور کوئٹہ کا دورہ کر کے نزدیک سے شہداء کے اہل خانہ کو تسلی و تشفی دی، نیز پاکستان کے دیگر حکومتی، عسکری اور سیکیورٹی عہدیداروں کا بھی شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے   اپیل کرتی ہے کہ اس دھشتگردانہ واقعے کے عاملین کو تلاش کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کے دوبارہ تکرار ہونے کا سد باب ہو۔
آخر میں اس عظیم مصیبت کے موقع پر ستم دیدہ گھرانوں کو تسلیت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے صبر و اجر نیز شہدا کے لیے بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
24 جمادی الاول 1442
8 جنوری 2021


خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے  ہزارہ برادری کے 11 کان کنوں کو گزشتہ ہفتے داعشی دھشتگردوں نے دردناک طریقے سے ذبح کر دیا جس کے بعد پورے ملک میں تمام مسلمانوں کے درمیان غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔

آیت اللہ مصباح یزدی کے انتقال پرملال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا تعزیتی پیغام

آیت اللہ مصباح یزدی کے انتقال پرملال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا تعزیتی پیغام

ہفتہ, 02 جنوری 2021

عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے سابق سربراہ، مجلس خبرگان رہبری اور جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے ممبر آیت اللہ "محمد تقی مصباح یزدی" کے انتقال پر آیت اللہ رمضانی نے تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کے پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم اللّه الرحمن الرحیم
قال الله الحکیم في کتابه الکریم: ﴿ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ العُلَمَاءُ إنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُور﴾
(سوره فاطر، آیه ۲۸)
عالم ربانی، فقیہ مجاہد اور استاد اخلاق حضرت آیت اللہ الحاج شیخ محمد تقی مصباح یزدی کے المناک انتقال سے ایک بار پھر علمائے کرام اور بزرگان دین کی تعداد میں شدید کمی کا احساس ہوا۔
عقلی و نقلی علوم کو جمع کرنے والے اس عالم باعمل نے اپنی پوری مبارک زندگی کو مسلسل اہل بیت اطہار(ع) کی تعلیمات عام کرنے اور انقلاب اسلامی کے افکار کو وسعت دینے میں صرف کر دیا، اور بے مثال خدمات انجام دیں، چاہے وہ شہنشاہی ستم بھرے دور میں خفیہ طریقے سے دین کی نشر و اشاعت ہو، چاہے وہ منبر اور کلاس کے ذریعے الہی علوم اور اسلامی اخلاق کی ترویج ہو، اور چاہے وہ اسلامی جمہوریہ اور ولایت فقیہ کے دفاع کے میدان میں مخالفین کے مد مقابل استقامت کا مظاہرہ کرنے کا دور ہو، ہر دور میں آپ نے داد شجاعت پیش کیا۔
اسلامی علوم کے مختلف شعبوں جیسے تفسیر، حدیث، عقائد، فقہ، فلسفہ، حقوق، اخلاق و سیاست میں ایک سو سے زیادہ قابل قدر تصنیفات کا منظر عام پر آنا، جن کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے نیز آپ کی سرپرستی میں متعدد علمی اور تحقیقی جرائد کا شائع ہونا، اس مفکر دانشور کے باقیات صالحات میں شامل ہے جو روشن چراغ کے مانند علم و معرفت کے تشنگان کو سیراب کرتے رہیں گے۔
لیکن شائد اس ممتاز اسلامی مفکر کی عظیم ترین کامیابی کو "ایک دیندار اور انقلابی نسل کی تربیت" کی شکل میں جا سکتا ہے۔ ایسا کام جو انقلاب اسلامی سے قبل "موسسہ در راہ حق" کے عنوان سے آغاز کیا، اور شہنشاہی سامراجی ثقافت کے تسلط کے دور میں بچوں اور نوجوانوں کو اپنا مخاطب قرار دیا اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد "باقر العلوم (ع) ثقافتی فاؤنڈیشن"، " حوزہ اور یونیورسٹی معاون سینٹر" یا پھر "امام خمینی(رہ) تعلیمی و تحقیقی مرکز" کی شکل میں اپنی خدمات پیش کیں۔ اس جد و جہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ سینکڑوں انقلابی علماء اور فضلاء کو تیار کر کے علمی معاشرے میں پیش کیا جنہوں نے حوزہ ہائے علمیہ اور یونیورسٹیوں میں موجود علمی خلاء کو پورا کیا اور حتیٰ فوج اور اجرائی سسٹم میں بھی کسی حد تک کمیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
مرحوم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے فعال رکن بھی تھے جو پندرہ سال کی مدت تک اس کونسل کی صدارت کے عہدے پر فائز رہے اور اسمبلی کی ترویج و توسیع، نیز شیعیان عالم کی ثقافتی اور فکری پوزیشن کو ترقی دینے میں انجام پانے والی سرگرمیوں کو صحیح سمت کی طرف موڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اس عالم بزرگوار کا معصومین علیہم السلام خصوصا حضرت ولیعصر (عجل اللہ تعلی فرجہ الشریف) سے معرفت و محبت کے ساتھ توسل مرحوم کے لیے عالم بقا اور دار القرار میں عظیم معنوی ذخیرہ ہو گا۔
میں اس ناقابل تلافی نقصان پر امام زمانہ (ع)، رہبر انقلاب اسلامی، مراجع تقلید، حوزوی اور دانشگاہی مراکز، مرحوم کے شاگردوں اور عقیدت مندوں خصوصا مرحوم کے معزز داماد حجۃ الاسلام و المسلمین محمدی عراقی ، زوجہ محترمہ اور فاضل و معزز اولاد کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کرتا ہوں۔
خداوند منان کی بارگاہ سے مرحوم مغفور کے لیے بلندی درجات اور اولیائے الہی کے ساتھ حشر و نشر کی نیز پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا مانگتا ہوں۔
و انا للہ و انا الیہ راجعون
رضا رمضانی


آیت اللہ مصباح یزدی کے انتقال پر رہبر انقلاب اسلامی کا تعزیتی پیغام

آیت اللہ مصباح یزدی کے انتقال پر رہبر انقلاب اسلامی کا تعزیتی پیغام

 آیت اللہ مصباح یزدی کے اہل خانہ اور ان کے شاگردوں کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آیت اللہ مصباح یزدی کو ممتاز مفکر، لائق مدیر، اظہار حق کے لیے آواز بلند کرنے اور صراط مستقیم پر استقامت کرنے والی شخصیت قرار دیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے تعزیتی پیغام میں آیا ہے کہ آیت اللہ مصباح یزدی مذہبی افکار کی ترویج، اذہان کو روشن کرنے والی کتابوں کی تالیف اور ممتاز شاگردوں کی تربیت کے حوالے سے بے مثال کردار کے مالک تھے اور ہر اس میدان میں جہاں ان کی ضرورت محسوس ہوئی انقلابی طریقے سے پیش پیش رہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ جوانی سے لے کر آخری عمر تک تقوی و پرہیزگاری کی دائمی خصلت کے مالک تھے اور اس طویل مجاہدت کے نتیجے میں انہیں معرفت توحید کے راستے میں سلوک کی توفیق نصیب ہوئی جو عظیم عطیہ الہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مجلس خبرگان رہبری کے رکن اور امام خمینی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کے سربراہ آیت اللہ مصباح یزدی چند روز کی علالت کے بعد جمعے کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔  آج  ہفتے کے روز ان کی نماز جنازہ رہبرانقلاب اسلامی کی اقتدا میں ادا کی گئی-

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں "سرداران آسمانی" کے زیر عنوان بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

جمعرات, 31 دسمبر 2020

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے پندرہ ممالک کی انجمنوں کی موجودگی میں، شہید قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی پہلی برسی کے موقع پر "سرادارن آسمانی" کے عنوان سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں آیت اللہ رمضانی اور دیگر علماء نے تقاریر کی۔

جناب ابوطالب سے منسوب دیوان کا جائزہ کے عنوان سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں علمی نشست کا انعقاد

جناب ابوطالب سے منسوب دیوان کا جائزہ کے عنوان سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں علمی نشست کا انعقاد

جمعرات, 31 دسمبر 2020

جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی آٹھویں علمی نشست"جناب ابوطالب سے منسوب دیوان کا جائزہ" کے عنوان سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی شعبہ قم میں منعقد کی گئی۔ اس میں جناب ابوطالب (ع) تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام محمد مہدی صباحی کاشانی اور حوزہ علمیہ قم کے ماہر حجۃ الاسلام محسن احمدی تہرانی نے گفتگو کی۔

پوپ فرانسس کے نام اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا مراسلہ

پوپ فرانسس کے نام اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا مراسلہ

 اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے دنیا کے کیتھولک رہنما "پوپ فرانسس" کے نام ایک مراسلہ کے ذریعے حضرت عیسی سلام اللہ علیہ کے یوم ولادت پر مبارک باد پیش کی ہے۔

آیت اللہ رمضانی کے مراسلے کا مکمل ترجمہ حسب ذیل ہے:

0016b1b344bf0e66f0e13b06bdf4ddf8_467.jpg


بسم الله الرحمن الرحیم
﴿ وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهُ آیَة ﴾
اور ہم نے فرزند مریم (عیسی) اور ان کی ماں کو اپنی نشانی قرار دیا
(سوره المؤمنون، آیه 50)


دنیا کے قابل احترام کیتھولک رہنما
جناب پوپ فرانسس صاحب
حضرت عیسی بن مریم سلام اللہ علیہ کے یوم ولادت اور نئے عیسوی سال کے آغاز کی مناسبت سے آپ کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مسلمان مومنین کے ہمراہ عشق و محبت اور روحانیت کے پیکر اس بزرگ الہی پیغمبر کی ولادت پر جشن مناتے ہیں۔ اور نیز آپ سے دعا کی امید رکھتے ہیں اور ہم بھی آپ کے لیے عیسائیوں کے بزرگ رہنما ہونے کی حیثیت سے دعا کرتے ہیں۔ کچھ خاص اوقات اور خاص ایام میں مومنین کی دعاؤں کی قبولیت کے لیے پروردگار عالم کے لطف و کرم پر ایمان رکھتے ہیں اور معتقد ہیں کہ معبود کریم ان سچے مومنین کے دلوں سے نکلنے والی دعاوں کو قبول کرتا ہے جو منجی آخرالزمان کے ظہور اور قیام کے منتظر ہیں۔
ہم نے ایسے سال کو پیچھے چھوڑا ہے جس میں تمام انسانیت کے لیے بے شمار مصائب و آلام پر مبنی واقعات وجود میں آئے۔ قتل و غارت، جنگ و جدال، اسمگلنگ، تشدد کا فروغ، اسلحے سے بھرے گودام، گھرانے کی مقدس اکائی کو کمزور کرنا، نیز کورونا وائرس کی بیماری کا پھیلاؤ، ان سب دردناک واقعات نے ملکوں اور قوموں کو رنج و الم میں مبتلا کر دیا اور اس کرہ خاکی کے دینی رہنماؤں اور دانشوروں کو پہلے سے زیادہ تشویشناک بنا دیا۔
ایران کے حوزات علمیہ اور بزرگان دین، تمام اقوام و ادیان کے پیروکاروں کے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے صحت، سلامتی، دنیا میں امن و صلح کی برقراری، مرحومین کے لیے مغفرت اور بیماروں کے لیے صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔
مذہبی برادری بھی آپ اور ان تمام لوگوں کی شکرگزار ہے جنہوں نے اس نازک موڑ پر انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے تلاش و کوشش کی۔ ہم بھی اپنے طور پر دنیا کے امن و امان کی دعا اور امید کے ساتھ ساتھ، ان مشکلات اور خدشات کو دور کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر خدمات انجام دینے سے کوتاہی نہیں کریں گے۔
آسمانی ادیان کی منطق میں قدرتی آفات در حقیقت، اہم الہی آزمائشوں کی طرف انسان کی توجہ مبذول کرانے کی نشانیاں ہیں۔ معرفت الہی، قیامت کے عقیدے سے واقفیت، عالمی امن و انصاف کے نفاذ اور انسانی معاشروں میں اعلیٰ اخلاق کا تحقق اس معنوی اور روحانی توجہ کے اہم اثرات ہوں گے۔ اور یہ ایک موقع ہے کہ معاشرے میں عظیم انسانی خوبیوں، دوسروں کے ساتھ ہمدردی، جانثاری اور عشق و محبت کے جذبے کو پروان چڑھایا جائے۔
ان واقعات کا جامع، منطقی اور عقلمندانہ علمی جائزہ، اور اس سے نپٹنے کا طریقہ، سائنس اور دین کے غیر حقیقی تقابل سے پرہیز، دینی تعلیمات کے ساتھ غیر مناسب طرز عمل سے دوری، معاشرتی خوشحالی اور معیشتی عدالت کو وجود میں لانے کی راہ میں تلاش و کوشش، یکجہتی اور امید کو تقویت پہنچانا، معاشرے میں امن، سکون اور مہربانی کی راہ ہموار کرنا، وغیرہ وغیرہ تمام دینی اور ثقافتی شخصیات، دانشوروں اور اہل علم افراد کے واضح اور آشکار فرائض کے مصادیق ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ، مذہبی رہنما اور دینی علماء معاشرے کے روحانی کمال اور صحت کی حفاظت، اخلاقی خوبیوں کے مزید ادراک کے لئے راہ ہموار کرنے، اور مذہبی اعتقاد اور معرفت کو تقویت دینے کے ذمہ دار ہیں۔ معاشرے میں روحانیت کے تحقق کے لیے دعا اور مناجات کے معارف کو پھیلانا اور لوگوں کے دلوں میں امید کی فضا قائم کرنا، آج کے عالمی حالات میں مذہبی رہنماؤں کے اہم فرائض میں شامل ہے۔
بلاشبہ ان امور کی انجام دہی کے لئے تمام ادیان کے بزرگ قائدین اور زعماء کی حوصلہ افزائی اور مدد کے ساتھ علمی اور دینی مراکز کے تعاون کی بھی ضرورت ہے جو انبیاء کی الہی تعلیم کو ایک قیمتی اثاثہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انسان کو کمال اور سعادت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
انسان کی سوچ و نظریہ کو حملے کا نشانہ بنانے والے عوامل، ادیان الہی اور بزرگان دین کی شان میں گستاخی، بے انصافی، امتیازی سلوک، پابندیاں، ماحولیاتی مشکلات، جنگ، دھشتگردی، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال میں توسیع جیسے عظیم بحرانی ماحول سے اس وقت تک مقابلہ نہیں ہو سکتا جب تک مذہبی رہنما الہی تعلیمات کے سائے میں باہمی اتحاد کے ساتھ میدان میں نہیں اتریں گے۔
ایک بین الاقوامی معاشرے کی تشکیل اور عالمی طاقتوں کو انبیائے الہی جیسے حضرت موسی، حضرت عیسی اور حضرت محمد علیہم السلام کی تعلیمات کے اصولوں کی طرف متوجہ کرنا یقینی طور پر اس عظیم مقصد کے حصول کی راہ میں اہم ترین اقدام ہے۔
الحمد للہ، آپ کی نگاہ میں اور اسلام و مذہب اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ دینی شخصیات کی نظر میں اخلاقی برائیوں، بدعنوانیوں، امتیازی سلوک، بے انصافیوں، پابندیوں اور انسانی ظلم و ستم سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کا اس وقت تک قلع قمع نہیں ہو سکتا جب تک اخلاق، معنویت، الہی نمائندوں کی تعلیمات پر عمل، معاشرے میں عشق و محبت کے عناصر کی تقویت، گھرانوں اور معاشروں میں عدالت، امن اور ہمدردی کی فضا قائم نہ ہو سکے۔ دینی رہنماؤں کی پیروی اس راہ میں پائے جانے والے نشیب و فراز سے گزرنے کا موثر ترین عامل ہے۔
حقیقی الہٰی رہنما ہمیشہ سے ہی خداوند متعالٰ اور اس کے سچے نبیوں کے ساتھ دوستی اور عہد کے وفادار رہیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران آج ان مشکل حالات میں فراواں پابندیوں کے دباؤ کے باوجود دینی رہنماؤں خصوصا رہبر انقلاب اسلامی کی رہنمائی کے زیر سایہ، ناقابل تعریف رضاکارانہ کاوشوں اور حکومت و رعایا کے تمام شعبہ ہائے زندگی منجملہ ڈاکٹروں، نرسوں، ملازموں، فوجیوں، حوزہ اور یونیورسٹی کے اساتذہ، طلاب اور اسٹوڈینٹس وغیرہ میں ہمدردی اور باہمی تعاون کے نایاب نمونے دیکھ رہا ہے جو نہ صرف ان بلند اہداف کے تحقق کی راہ میں بلکہ دیگر انسانوں کی خدمت کی راہ میں بھی جد وجہد کرتے نظر آتے ہیں۔
میں اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ایک بار پھر الہی صفات کے مظہر، نبی برحق حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کے یوم ولادت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آنجناب کے لیے صحت و تندرستی کی امید رکھتا ہوں اور یہاں پر یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں ایک بین الاقوامی دینی ادارے کی ذمہ داری دوش پر لینے کے عنوان سے علمی، تحقیقی، ثقافتی اور دینی تجربات کو بین الاقوامی میدان اور "کرسمس کے سالانہ پیغام" میں بیان شدہ آپ کی جانب سے اہداف و مقاصد کے حصول کی راہ میں پیش کرنے کو تیار ہوں۔
جناب عالی اور تمام ادیان الہی کے رہنماؤں پر درود و سلام
رضا رمضانی
سیکرٹری جنرل اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی

جناب ابوطالب (ع) سیمینار کی پانچویں علمی نشست/ بنی امیہ نے اپنی بدنامی کی تلافی کے لیے جناب ابوطالب کی شخصیت کو مجروح کیا

جناب ابوطالب (ع) سیمینار کی پانچویں علمی نشست/ بنی امیہ نے اپنی بدنامی کی تلافی کے لیے جناب ابوطالب کی شخصیت کو مجروح کیا

 "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی کانفرنس" کے علمی نشستوں کے تسلسل سے یہ پانچویں علمی نشست ہے۔

یہ نشست جو جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے سیکرٹریٹ کی جانب سے مہر نیوز ایجنسی کے دفتر میں منعقد ہوئی اس میں حجۃ الاسلام و المسلمین "سید مجید پورطباطبائی" اور حجۃ الاسلام "محمد علی مروجی طبسی" نے گفتگو کی۔

5465678bf50d740cbc9996a3a7c0af8d_344.jpg

حجۃ الاسلام و المسلمین سید مجید پور طباطبائی نے اس نشست کے ابتدا میں پیغمبر اکرم(ص) کے اجداد کے کمالات اور جناب ابوطالب(ع) کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ پیغمبر اکرم کے اجداد اور چچا کی عظمت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ خاتم الانبیاء کے اجداد تھے اور گزشتہ انبیاء کے اوصیا تھے، انہوں نے کہا: کسی بھی دور میں پروردگار عالم نے لوگوں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑا لہذا یقینا اس مدت میں بھی جزیرہ عرب کسی الہی نمائندے سے خالی نہیں تھا۔ امام کاظم علیہ السلام نے واضح طور پر فرمایا کہ "عبد المطلب" اور "ابوطالب" اوصیاء الہی میں سے تھے جو اپنے دور کے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے۔
تاریخ اسلام کے اس محقق نے امام کاظم علیہ السلام کی روایت پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی بعثت سے پہلے مناسک حج اور سماجی روابط کے حوالے سے پانچ قوانین وضع کئے ہوئے تھے جیسے طواف کے ۷ چکر، دیّت کے لیے ۱۰۰ اونٹ تو اسلام آنے کے بعد ان پانچ قوانین پر اسلام نے مہر تصدیق ثبت کر دی اور پیغمبر اکرم(ص) نے بحکم خدا انہیں قوانین اسلام کا حصہ بنا لیا یہ چیز نہ صرف جناب ابوطالب کے ایمان کو ثابت کرتی ہے بلکہ ان کے وصی خدا ہونے پر بھی دلیل ہے۔
پورطباطبائی نے اپنے دعوے پر امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک روایت بھی پیش کرتے ہوئے کہا: حضرت علی علیہ السلام سے جب پوچھا کہ پیغمبر اکرم سے قبل آخری وصی خدا کون تھا؟ تو آپ نے فرمایا: میرے بابا۔
انہوں نے اسلام کے تئیں جناب ابوطالب(ع) کی حمایتوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب جناب ابوطالب (ع) نے اپنے بیٹے حضرت علی علیہ السلام کو کعبے کے بعد پیغمبر اکرم کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، اپنے دوسرے بیٹے کو ترغیب دلائی کہ وہ بھی ان کے ساتھ نماز میں ملحق ہو جائے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنے بھتیجے کے دین کے قائل تھے، علاوہ از ایں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہلی دعوت اسلام یعنی دعوت ذوالعشیرہ جناب ابوطالب کے گھر پر تھی اور اس دعوت میں حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کا تین بار اعلان کیا۔ اسی دعوت میں جب ابوجہل نے پیغمبر اکرم کی توہین کی تو جناب ابوطالب نے اس کا جواب دیا اور حضرت علی کے اقدام کا دفاع کیا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صدر اسلام میں حضرت علی اور اولاد عبد المطلب کے علاوہ چند لوگ ہی مسلمان ہوئے تھے اور بقیہ سب کافر اور مشرک تھے کہا: معاویہ جیسے افراد نے اپنے نقائص کا ازالہ کرنے کے لیے روایتیں گھڑیں۔
پورطباطبائی نے بنی امیہ کی فیکٹری میں جعلی روایات گھڑنے کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بنی امیہ نے جناب ابوطالب کو اس لیے ہدف بنایا کہ وہ حضرت علی کے باپ تھے اور آپ کی شخصیت کو نشانے بنا کر در حقیقت وہ حضرت علی کی شخصیت کو گرانا چاہتے تھے۔
تاریخ کے اس محقق نے کفار مکہ کی طرف سے حضرت ابوطالب (ع) کی زندگی کے آخری ایام میں پیغمبر اکرم(ص) کو دھشتگردی کا نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: دشمنان اسلام نے ابولہب کی بیوی کے ساتھ مل کر اس کے شوہر ابولہب کو شراب پلایا تاکہ وہ شراب کی مستی میں مگن رہے اور وہ پیغمبر کا قتل کر دیں لیکن جناب ابوطالب ان کے منصوبے سے آگاہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے بیٹے علی کو ابولہب کے گھر بھیجا تاکہ ابولہب سے کہیں: "جس کا چچا قریش کا سردار ہو اس کو قتل کرنا آسان نہیں" اس طرح ابولہب کو پتا چل گیا اور دشمنوں کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

4bfa34be3dd568ef8bbd0ab0a6d66fe2_791.jpg


نشست کو آگے بڑھاتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین محمد علی مروجی طبسی نے بھی جناب ابوطالب کی شخصیت کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب کے ایمان کے بارے میں اہل سنت کے درمیان جو شک و شبہہ پیدا کیا جاتا ہے اس کی وجہ حدیث ضحضاح ہے جو صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد بن حنبل میں نقل ہوئی ہے۔
قرآن و حدیث کے اس محقق نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اہل سنت کی کتب احادیث میں حدیث ضحضاح چند سندوں کے ساتھ "ابوسعید خدری" اور "عباس بن عبد المطلب" سے نقل ہوئی ہے کہا: یہ حدیث سند کے اعتبار سے بھی اشکال رکھتی ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی۔
انہوں نے کہا: دشمنان اہل بیت(ع) خصوصا ناصبیوں نے یہ حدیث جعل کر کے اور اسے پیغمبر اکرم کی طرف نسبت دے کر جناب ابوطالب کو کافر ثابت کرنے کی کوشش کی جبکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ یہ حدیث قرآن کی آیتوں سے تعارض رکھتی ہے۔
مروجی طبسی نے مزید کہا: قرآن سے تعارض کے علاوہ یہ حدیث اہل بیت(ع) کے اجماع سے بھی متعارض ہے چونکہ اہل بیت(ع) جناب ابوطالب کے ایمان پر اجماع رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود حدیث کے متن کے اندر بھی تعارض پایا جاتا ہے۔
انہوں نے بعض علمائے اہل سنت کی جانب سے ایمان ابوطالب کا اعتراف کرنے کو بھی موضوع گفتگو بناتے ہوئے کہا: شائد یہی بنیادی اشکالات ہیں جن کی وجہ سے بعض علمائے اہل سنت جناب ابوطالب کے ایمان کا اعتراف کرتے ہیں اور حدیث ضحضاح کی مخالفت کرتے ہیں۔ جیسے اہل سنت کے معروف شافعی عالم دین علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب "التعظیم و المنۃ" میں اعتراف کیا ہے۔
مروجی طبسی کا کہنا ہے کہ حتیٰ بعض علمائے اہل سنت معترف ہیں کہ حدیث ضحضاح نہ صرف جناب ابوطالب کے کفر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ الٹا ان کے ایمان اور اسلام پر اعتقاد کو ثابت کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سنی حنفی عالم "احمد خیری پاشا" (متوفیٰ ۱۳۸۷ھ ق) کا جناب ابوطالب کی شان میں ۷۰ بیت اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ ہے انہوں نے اپنے اس قصیدہ میں حدیث ضحضاح کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ حدیث قرآن کی آیت "السابقون السابقون" کے ساتھ منافات رکھتی ہے۔
مروجی طبسی نے اس نشست کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں خصوصا جوانوں کو جناب ابوطالب جنہوں نے چالیس سال سے زیادہ پیغمبر اکرم کی مخلصانہ حمایت کی، ان کی طرز زندگی اور اسلام کے تئیں ان کی فداکاریوں سے دور رکھنا بہت بڑا ستم اور ناانصافی ہے۔
خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
مقالات اور علمی آثار بھیجنے کی آخری تاریخ 6 فروری 2021 ہے اور سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔

[12 3 4 5  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
7*7=? سیکورٹی کوڈ