شعبہ بین الاقوامی امور کی خبریں

مشرقی افریقہ کے شیعہ مبلغ شیخ عبد اللہ سیف سعید کا انتقال

مشرقی افریقہ کے شیعہ مبلغ شیخ عبد اللہ سیف سعید کا انتقال

مشرقی افریقہ میں عرصہ دراز سے مذہب تشیع کی تبلیغ کرنے والے فعال عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ ’عبد اللہ سیف سعید‘ دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔
حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے مبلغ جو تنزانیہ شیعہ اثنا عشری جمعیت (T.I.C)  کے رکن بھی شمار ہوتے تھے نے اس ملک میں کافی خدمات پیش کی ہیں۔
شیخ عبد اللہ سیف سعید سنیچر کے روز ۲۳ محرام الحرام کو ۸۱ سال کی عمر میں تنزانیہ میں انتقال کر گئے۔


حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ عبد اللہ سیف سعید کا مختصر زندگی نامہ
عبد اللہ سیف سعید سن ۱۹۳۹ میں جنوبی تنزانیہ کے علاقے ’’لینڈی‘‘ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۵۸ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دار السلام کا رخ کیا۔
تنزانیہ میں انہوں نے مساجد میں ہونے والے دینی دروس میں شرکت کرنا شروع کیا، اور ساتھ ساتھ اپنی روزگار چلانے کے لیے دن میں وہ ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرتے اور رات کو دینی علوم حاصل کرنے کے لیے مسجد جاتے تھے۔
عبد اللہ سیف سعید ۱۹۶۴ میں ایک مقامی شیعہ کے واسطے مرحوم آیت اللہ سید سعید اختر رضوی سے آشنا ہوئے اور چند سال ان کے پاس دینی تعلیم حاصل کی۔
شیخ ۱۹۶۷ میں مرحوم سید سعید اختر کے ذریعے چند دیگر طلاب کے ہمراہ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے لیے نجف اشرف کے حوزہ علمیہ میں قدم رکھتے ہیں اس دور میں نجف اشرف کا حوزہ علمیہ آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کے سربراہی میں اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔

a7c7c7429b41d12de369d4296585cb9d_266.jpg


شیخ عبد اللہ سیف کی ایک دلچسپ داستان ان کے روحانی لباس اور عمامہ پہننے کی ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ دیگر طلاب کے ہمراہ آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کے پاس سر پر عمامہ رکھوانے گئے تو آیت اللہ حکیم نے عمامہ رکھتے ہوئے فرمایا: ’’اس روحانی لباس کو کبھی بھی نہ اتارنا اور ہمیشہ اسے پہننے کی پابندی کرنا، یہاں تک کہ موت کے بعد غسل کرنے والا اس لباس کو تمہارے بدن سے اتارے‘‘۔ اسی نصیحت کی وجہ سے شیخ عبد اللہ سیف ہمیشہ روحانی لباس میں رہتے تھے حتیٰ کہ تنزانیہ کی شدید گرمی میں بھی وہ عمامہ سر سے نہیں اتارتے تھے۔
عراق میں سیاسی حالات خراب ہونے اور حوزہ علمیہ نجف کے متاثر ہونے کی وجہ سے آیت اللہ حکیم نے طلاب کو لبنان میں سید موسی صدر کے پاس بھیج دیا اور وہاں مصروف تعلیم ہو گئے۔
لیکن ۱۹۷۳ میں عبد اللہ سیف سعید نے ایران کا رخ کیا اور قم کے حوزہ علمیہ میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔
قم میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شیخ عبد اللہ سیف ۱۹۷۸ میں تنزانیہ واپس چلے گئے اور مرحوم سید اختر رضوی کی زیر نگرانی بلال مسلم مشن میں تبلیغ و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔
شیخ عبد اللہ سیف ۱۹۹۰ میں سید اختر رضوی کے ذریعے موزمبیق چلے گئے اور وہاں  بلال مسلم مشن کا ایک شعبہ قائم کیا اور سالہا سال اس علاقے میں تبلیغ و تدریس اور تعلیمات اہل بیت (ع) کو عام کرنے میں مصروف رہے۔

29c45c0a7b021ef253caa0329dd74fd9_468.jpg


سن ۲۰۰۲ میں آیت اللہ سید اختر رضوی جب انتقال کر گئے تو شیخ عبد اللہ دار السلام واپس آ گئے اور بلال مشن میں کام کرنا شروع کیا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سینٹر سے باہر آ گئے اور آزاد طور پر دار السلام میں تبلیغی امور انجام دینے لگے۔
شیخ عبد اللہ سیف ’’تنزانیہ شیعہ اثنا عشری جمعیت‘‘ (T.I.C) کے رکن تھے اور نیز اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سے بھی تعلق رکھتے تھے۔
مرحوم سادہ زیست، منکسر المزاج اور خوجہ شیعوں میں بے حد مقبول تھے۔ مقامی شیعوں کے درمیان بھی مرحوم کا خاصہ مقام تھا، خدا مرحوم کو غریق رحمت کرے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت کرے۔

مولانا ذوالفقار جعفری کا انتقال پرملال/ مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر

مولانا ذوالفقار جعفری کا انتقال پرملال/ مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے صوبے جموں کے خطے پونچھ سے تعلق رکھنے والے ہردلعزیز، شریں سخن، نہایت ذی علم، خوش فہم، پاکیزہ نفس اور عظیم صلاحیتوں کے مالک حجۃ الاسلام و المسلمین سید ذوالفقار علی جعفری کا انتقال پرملال قوم وملت کے لیے عظیم نقصان ہے۔
مرحوم کی علمی زندگی پر طائرانہ نظر
مولانا ذوالفقار علی جعفری پونچھ کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم مرحوم مولانا سید منیر حسین جعفری اپنی عمر کے آخری حصے تک علاقے کے امام جمعہ و جماعت اور دین کی تبلیغ کے فرائض انجام دینے میں مصروف رہے جبکہ ان کا پورا گھرانہ ہی انہیں سرگرمیوں میں مصروف تھا اور ہے۔
مرحوم قبلہ نے ابتدائی دینی تعلیم سرینگر کے حوزہ علمیہ امام رضا علیہ السلام، تنظیم المکاتب (جامعہ امامیہ) لکھنو اور نوگاواں سادات جامعۃ المنتظر میں حاصل کی اور اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ۱۹۹۲،۹۳ میں حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا۔ لگ بھگ بیس سال حوزہ علمیہ قم کے مدرسہ حجتیہ اور مدرسہ امام خمینی (رہ) میں علوم اہل بیت(ع) کے بحر بیکراں سے خود کو سیراب کرنے کے بعد تدریس و تبلیغ کے فرائض انجام دینے کی غرض سے اپنے وطن واپس پہنچے۔
 البتہ اس درمیان تین سال صوبہ جموں کے حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام میں اپنے اعلیٰ فن تدریس سے ایسے شاگردوں کی تربیت کی جو اس وقت حوزہ علمیہ قم میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں یا ہندوستان کے گوشہ و کنار میں تبلیغ دین کر رہے ہیں جو درحقیقت مرحوم کے لیے ایک صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
قم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مرحوم مغفور نے دوبارہ حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام میں کچھ عرصہ خدمات انجام دینے کے بعد سرینگر کے حوزہ علمیہ باب العلم میں تدریس کے فرائض انجام دینا شروع کئے۔ تاحال اسی مدرسہ میں تشنہ گان علم کو تعلیمات قرآن و اہل بیت(ع) سے سیراب کرنے میں مصروف تھے کہ اچانک کینسر جیسی مہلک بیماری نے غلبہ کر دیا اور وہ بھی ایسے دور میں جب کورونا وائرس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اگر یہ وبائی بیماری نہ ہوتی تو شائد مرحوم اپنی اصلی بیماری کا کچھ عرصہ مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے اور دین کی خدمت میں کچھ اور لمحات صرف کر دیتے۔
مرحوم مغفور جس دور میں قم میں زیر تعلیم تھے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی (مجمع جہانی اہلبیت) کی پورٹل ویب سائٹ میں تعلیمات اہل بیت(ع) کو عام کرنے میں چند سال مصروف رہے۔ باایں عنوان اس غم انگیز موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نہایت دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم، مرحوم کے اساتید، دوست و احباب، جملہ لواحقین خصوصا اہل خانہ کو تسلیت و تعزیت پیش کرتی ہے۔ خداوند عالم مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں مقام عنایت فرمائے۔

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلے کا اعلان (2021-2022)

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلے کا اعلان (2021-2022)

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں تعلیمی سال 2021-2022 کے لیے داخلے کا اعلان کر دیا گیا ہے؛

مکمل اطلاعیہ کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛


اہل بیت علیہم السلام انٹرنیشنل یونیورسٹی تہران، اسلامی جمہوریہ ایران کی منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے تصدیق شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی یونیورسٹیز یونین (IAU) کی رکن بھی ہے جوکہ (UNESCO) کے تحت نظر ہے۔ یہ یونیورسٹی صرف غیر ایرانی  طلاب  کی اعلی سطح پر تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں ہے. لہذا ہمیشہ کی طرح اس سال پھر اس یونیورسٹی کی طرف سے غیرایرانی طالب علموں کے  لیے تعلیمی سال  21-2020 میں ایم اے کی سطح پر ایڈمیشن  کا اعلان کیا جاتا ہے جو کہ ( 21 مارچ 2020) سے شروع ہوا ہے اور31 اگست 2020  تک جاری رہے گا.
خواہشمند اسٹوڈنٹس کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ  مندرجہ ذیل نکات پر توجہ فرمائیں.

◀️ ایم اے (ایم فل) میں داخلے کے شعبہ جات
۔ اسلامی علوم کی فیکلٹی (Faculty of Islamic Sciences)
   تاریخ اسلام (History of Islam)
   اسلامی فلسفہ و کلام (Islamic Theology and Philosophy)
  علم عرفان و ادیان (Mysticism and Religion)

۔ سماجی علوم کی فیکلٹی (Faculty of Social Sciences)
  بین الاقوامی تعلقات (International Relations)
  انتظام کاروبار (Business Administration)
  اقتصاد اسلامی (Islamic Economy)
۔ ادبیات اور انسانی علوم کی فیکلٹی (Faculty of Literature and Humanities)
  پرائیویٹ لاء (Private Law)
  کرمنال لاء (Penal Law and Criminology)
 فارسی ادب (ادبیات فارسی) (Persian Language and Literature)
 
◀️ ضروری نکات
1۔ اہل بیت(ع) یونیورسٹی ایران کے دار الحکومت تہران میں واقع ہے لہذا طلاب کو تہران میں سکونت پذیر ہونا پڑے گا۔
2۔ تمام دروس، امتحانات اور تھیسیس فارسی زبان میں ہوں گے۔ لہذا وہ طلاب جو فارسی زبان سے آشنا نہیں ہیں انہیں سب سے پہلے فارسی زبان کو کورس کرنا ہو گا جو یونیورسٹی میں ہی منعقد ہو گا۔
3۔ جس شعبہ میں طالب علم کا ایڈمیشن ہو جائے گا وہ بعد میں تبدیل نہیں ہو سکے گا۔
4۔ تمام دروس کی عناوین یونیورسٹی کی ویب سائٹ میں موجود ہیں۔

◀️ اہل بیت یونیورسٹی میں داخلے کے شرائط  
1۔ اپنے ملک سے بی اے (BA) کی ڈگری کا ہونا( جو 16 سال تعلیم پر مشتمل ہو؛ 12 سال پہلی سے ڈپلامہ اور 4 سال یونیورسٹی یا کالج)
نوٹ؛ اگر کسی طالب علم نے ابھی بی اے مکمل نہ کیا ہو تو اپنی یونیورسٹی سے عارضی سرٹیفکیٹ پیش کر کے ایڈمیشن لے سکتا ہے۔ البتہ تصدیق شدہ اصلی سرٹیفکیٹ کو اہل بیت(ع) یونیورسٹی میں حاضری کے وقت پیش کرنا ضروری ہے۔
2- عمر زیادہ سے زیادہ 28 ہو
نوٹ: اگر طلب علم  مندرجہ ذیل امتیازات  کا حامل ہو  تو عمر میں 32 سال تک  کی رعایت دی جائے گی:
حافظ قرآن ہو یا کم از کم 20 پارےحفظ کیے ہوں - کم از کم دو علمی کتابوں کا مولف یا  مترجم  ہو - متقاضی کے کم از کم دو ریسرچ آرٹیکل معتبر تعلیمی تحقیقی مجلات میں چھپ چکے ہوں – بی اے کے مساوی دینی مدارس کی سند کا حامل ہو.
3۔ غیر شادی شدہ ہو ( شادی شدہ افراد بھی ایڈمیشن لے سکتے ہیں مگر یونیورسٹی انہیں کوئی اضافی مراعات نہیں دے گی)
4۔ طالب عالم قابل اور باصلاحیت ہو
5۔ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے تندرست ہو۔
6۔ بی اے کے سبجیکٹ ایم اے کے سبجکٹس سے ملتے جلتے ہوں۔
قرآن کریم کو ناظرہ پڑھ سکنے اور دینی احکام کا پابند ہونے جیسی خصوصیات کے حامل طالب علموں کو اسکالر شپ کے حصول میں اولویت حاصل ہو گی۔
7۔ متقاضی اس سے  پہلے ایم اے (ایم فل) کی سطح پر ایران کی کسی دوسری یونیورسٹی سے اسکالر شپ نہ لے چکا ہو.

◀️ تعلیمی اور رفاہی سہولیات
اہل بیت انٹرنیشنل یونیورسٹی میں سابقہ اسناد کی بنا پر ایڈمیشن کے دو طریقے ہیں:
1۔  وظیفہ  پر(Scholarships)  
اسکالر شپ پر پڑھنے والے طلباء کو مندرجہ ذیل سہولیات بغیر کسی اجرت کی وصولی کے فراہم کی جائیں گی؛
۔ 24 مہینے تک مفت ہاسٹل کا اہتمام (چار ٹرم پر مشتمل کورس)
۔ مفت تعلیم
۔ مفت کھانا (دوپہر اور رات کا کھانا) یا اس کے بدلے میں نقدی پیسہ
۔ دیگر ثقافتی سہولیات ( منجملہ تفریحی ٹورز، ہدایا۔۔۔)
- ورزشی سہولیات اور کئریر گائیڈنس.
- مفت علاج معالجہ کے لئے تعلیم مکمل ہونے تک بیمہ .( insurance)
- اسٹوڈنٹس افئیرز (Students Affairs)  میں فعالیت کی بنیاد پر اسٹوڈنٹس کی مالی معاونت کی جائے گی.
- علمی و تحقیقی سہولیات: (لائبریری، مفت انٹرنیٹ وغیرہ)

2۔  ذاتی خرچ پر  (Self finance)
سہولیات کے ضمن میں اسٹوڈنٹس کے مابین کسی طرح کی تفریق نہیں ہوگی (ذاتی خرچے پر آنے والے اسٹوڈنٹس کو بھی وظیفہ حاصل کرنے والوں کی جیسی سہولیات مہیا کی جائیں گی) صرف اتنا  فرق ہوگا کہ انہیں ہر سمسٹر کے (۱۰۰۰) ڈالر یونیورسٹی کو ادا کرنا ہوں گے.اس کے علاوہ ڈگری وغیرہ کے حصول تک کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہوگا.  

◀️ رجسٹریشن کا طریقہ کار
1- خواہشمند طلاب، اسلامی جمہوریہ ایران کی منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ Soarg.ir:8081 پر اپنا فارم بھریں اور اپنے (Documents) یعنی: (تصویر، پاسپوٹ، تعلیمی اسناد وغیرہ) کو دی گئی ہدایات کے مطابق اسکین کر کے اپلوڈ کریں۔ رجسٹریشن کے اختتام پر درخواست دہندگان کو ایک کوڈ  موصول ہوگا کہ جسے وہ  یونیورسٹی داخلہ کمیٹی کو ارسال کریں گے۔ (دوسرا حصہ) درخوست دہندگان اپنا فارم بھرتے وقت 24-نمبر پر اہل بیت (ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کا انتخاب کرنا مت بھولیں کیونکہ اس سے آپ کی مطلوبہ یونیورسٹی مشخص ہو گی.
2- پہلا مرحلہ مکمل کرنے اور اپنا کوڈ وصول کرنے کے بعد کہ جس کا نمبر (1) میں ذکر کیا گیا ہے امیدوار دوبارہ نیچے دی گئی سایٹ: admission.abu.ac.ir   پر موجود فارم کو پر کرے گا جس کے بعد اسے ایک کوڈ دیا جائے گا کہ جس کی بنیاد پر وہ  یونیورسٹی سے رابطہ کر کے اپنے ایڈمیشن کی اطلاعات حاصل کرسکے گا۔
نکتہ  دوم : بہتر ہے کہ رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے سے پہلے امیدوار  تما م اسناد  (Documents)کو تیار رکھیں.
نکتہ سوئم : رجسٹریشن کے مراحل مکمل کرنے کے بعد امیدوار یونیورسٹی کے جواب کا انتظار کریں.
نکتہ چہارم: رجسٹریشن کی انجام دہی  و دیگر  تمام تر مطلوبہ معلومات یونیورسٹی کی ویب سائٹ: abu.ac.ir دی گئی ہیں لہذا تاکید کی جاتی ہے کہ اپنا فارم پر کرنے سے پہلے اس سائٹ پر وزٹ کر کے ان کا مطالعہ کریں.

◀️ رجسٹریشن اور نئے تعلیمی سال کا آغاز
رجسٹریشن کا دورانیہ، 21 مارچ تا 31 اگست2020
 اعلان نتائج،  31 اگست تا 1 نومبر 2020    
 ایران آمد، 06 تا 24 دسمبر 2020
فارسی زبان کی کلاسز کا آغاز  25 دسمبر 2020
نئے تعلیمی سال کا آغاز 23 اگست 2021
            
نکتہ پنجم: تعلیمی قوانین اور نظم و ضبط کے پیش نظر امیدواروں کو چاہیے کہ وقت پہ رجسٹریشن کریں کیونکہ دئیے گئے دورانیہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی.

نکتہ ششم: امیدواروں کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہو جانے کے بعد اور کلاسز شروع کرنے سے پہلے اپنے ملک میں وزارت علوم کے اعلی دفتر جیسے پاکستان میں (ہائیر ایجوکیشن کمیشن، (ایچ ای سی)) اور ایرانی کونسلیٹ سے تصدیق شدہ، ( آخری ڈگری اور مارکس شیٹ)، یونیورسٹی ایڈمیشن کمیٹی  کو  دیکھانا شرط ہے، ورنہ کلاسز میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی. اس لئے ابھی سے تاکید کی جاتی ہے کہ یونیورسٹی سائٹ پر اپنا فارم پر کرنے کے ساتھ ہی اپنے  (Documents) مکمل کروا لیں.

۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے یونیورسٹی نے فارسی کی کلاسوں کو آنلاین منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور طلباء کے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔

◀️ یونیورسٹی سے رابطہ کا طریقہ کار
1- بیشتر معلومات حاصل کرنے کے لئے آپ مندرجہ ذیل طریقوں سے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں:
 یونیورسٹی فون:   982122449240+
 ٹیلی گرام اور وٹس ایپ پر میسج کے ذریعے: 989101915801+ (@ABUadmission)
 ای میل کے ذریعے:  Email: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
2- یونیورسٹی کی طرف سے تمام اطلاعات رسمی طریقے سے مندرجہ ذیل سائٹس پر  اپلوڈ کی جاتی ہیں لہذا امیدواروں کو مطع کیا جاتا ہے کہ وہ   صرف انہی راستوں سے مطلوبہ اطلاعات حاصل کریں:
 Telegram channel: @ABUadmission
University Website: abu.ac.ir

 اپنی شخصی اطلاعات حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹی کی سایٹ پر دیے گئے ایڈرس کے ذریعے اقدام کریں :  ams.abu.ac.ir البتہ یہ رابطہ صرف رجسٹریشن کی تکمیل کے بعد ممکن ہو گا.

.................

سیدہ کونین(س) کی شان میں گستاخی کے خلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

سیدہ کونین(س) کی شان میں گستاخی کے خلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

پاکستان میں گزشتہ دنوں مولوی اشرف آصف جلالی کے ذریعے سیدہ کونین صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا (س) کی شان میں کی گئی گستاخی کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے سخت اور کڑے لہجے میں ایک بیان جاری کر کے اس نازیبا حرکت کی مذمت کی ہے۔

بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی مقدسات کی توہین پر قابو پانے کے لیے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ فتنہ پرور، متعصب اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے ابن الوقت عناصر واہیات بیان کرنے کی فرصت نہ پا سکیں۔

بسم الله الرحمن الرحیم

إنما يريد الله لیذهب عنکم الرجس اهل البيت و یطهرکم تطهیرا ( صدق الله العلي العظيم)
(بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے رجس کو دور رکھے اور تمہیں ویسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے)
پاکستان کے ایک بظاہر عالم دین کی جانب سے اس ملک کے ٹی وی چینل پر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت کو خدشہ دار کرنے کی غرض سے توہین آمیز اور شرمناک الفاظ کا استعمال کیا جانا اور جعلی احادیث کو بیان کر کے انہیں جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف نسبت دینا مسلمانوں کی دل آزاری اور ملک میں احتجاجی مظاہرے ہونے مخصوصا علمائے اہل سنت کی جانب سے سخت موقف اپنائے جانے کا سبب بنا ہے۔
۱۵۰ سے زائد علمائے اہل سنت نے مولوی اشرف آصف جلالی کے توہین آمیز الفاظ کی مذمت کی ہے اور اسے توبہ کرنے اور معافی مانگنے کی تلقین کی ہے۔
وہابی فکر رکھنے والا یہ متعصب اور اندھا دل شخص جو سعودی ریالوں پر اپنا ایمان فروخت کرنے پر آمادہ ہو گیا نے کروڑوں مسلمانوں اور اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کے دلوں کو رنجیدہ کیا ہے اور مسلمانوں کے درمیان منافرت اور تفرقہ پھیلانے کی ناکام کوشش کی ہے جس کا مقصد ایک مرتبہ پھر پاکستان میں مذہبی منافرت کی آگ بھڑکا کر مسلمانوں اور مومنوں کی مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بم بلاسٹ کروانا اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ اس بے شعور اور عقل سے پیدل سعودی مزدور اور زرخرید غلام کے اس قبیح اور شرمناک اقدام کی مذمت کرتی اور ان جعلی اور غلط روایات کو ممبروں سے بیان کئے جانے کے سخت مخالفت کرتی ہے جو اہل بیت اطہار (ع) اور اصحاب اکرام کے عظیم اور بلند مقام کی توہین اور عوام کے افکار میں انحراف کا باعث ہوں۔
ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلامی مقدسات کی توہین پر قابو پانے کے لیے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ فتنہ پرور، متعصب اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے ابن الوقت عناصر واہیات بیان کرنے کی فرصت نہ پا سکیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ کہ آپ نے انہیں ’’سیدۃ نساء اھل الجنۃ‘‘ قرار دیا نیز تمام صحابہ و تابعین کہ جنہوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت و طہارت کا اعتراف کیا، کے نزدیک آپ کا مرتبہ سب پر عیاں ہے، اس جاہل و سیاہ دل کی ہرزہ سرائیوں سے یقینا رسول اسلام (ص) اور اہل ایمان کی دل آزاری ہوئی ہے اور اس کا تنہا راستہ کھلے عام توبہ و استغفار اور معذرت خواہی ہے جیسا کہ اس نے کھلے عام اس ناقابل بخشش خطا کا ارتکاب کیا ہے۔
و العاقبة للمتقین
                                                               محمد حسن اختری
                                            سربراہ مجلس اعلیٰ برائے اھل البیت(ع) عالمی اسمبلی

ہندوستان میں مسلمانوں پر انتہا پسند ہندؤوں کے مظالم کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مذمتی بیان

ہندوستان میں مسلمانوں پر انتہا پسند ہندؤوں کے مظالم کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مذمتی بیان

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں پر کئے گئے انتہا پسند ہندو کی جانب سے ظلم و تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے نئے شہریت کے قانون کو نافذ کر کے ملک میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں، انھیں اپنے گھروں اور آشیانوں کو چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ بدلے میں تین پڑوسی ممالک کے تارکین وطن کو شہریت دینے پر اتفاق کیا گیا بشرطیکہ وہ مسلمان نہ ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے دار الحکومت دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کی یہ لہر اس وقت دوڑ گئی جب اسلام مخالف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف اپنے زہر بھرے بیانات اگلے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ابھی ہندوستان دورہ تمام ہی نہیں ہوا تھا کہ دہلی میں ہزاروں انتہا پسند ہندؤوں نے مسلمانوں کے گھروں، مسجدوں اور ان کی دکانوں کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ ان خونی واقعات میں ۳۵ مسلمانوں کے مارے جانے اور ۲۰۰ سے زیادہ زخمی کئے جانے کی خبر ملی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں ایسے واقعات کا رونما ہونا انتہائی افسوسناک ہے اس لیے کہ تاریخ ہندوستان میں مذہبی رواداری کی مثال دی جاتی تھی لیکن حالیہ دنوں انتہا پسند ہندو ملک کو مذہبی آگ کی طرف دھکیل رہے ہیں اور فرقہ واریت کی جنگ چھیڑ کر ملک کو مسلمانوں کے لیے ناامن بنانا چاہتے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے دوری اختیار کی جائے جن سے ہندوستان جیسے ملک کی عظمت کو ٹھیس پہنچے اور دنیا والوں کی نگاہوں میں اس کا مقام گر کر رہ جائے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے وفد کی کربلا میں دینی ثقافتی اداروں کے سربراہان سے ملاقات

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے وفد کی کربلا میں دینی ثقافتی اداروں کے سربراہان سے ملاقات

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ایک وفد نے اربعین حسینی (ع) کے موقع پر زائرین کے لیے عراق کے مختلف مقامات پرثقافتی موکب لگانے کے لیے اس ملک کا دورہ کیا ہے جہاں کربلا و نجف میں دینی ثقافتی اداروں کے سربراہان سے ملاقات اور گفتگو بھی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اسمبلی کے وفد نے کربلا میں ’مرکز مطالعات و تحقیقات کربلا‘ کے عہدیداروں سے ملاقات اور زائرین کے لیے ثقافتی خدمات فراہم کرنے کے طریقہ کار پر گفتگو کی۔
ملاقات کے دوران مرکز مطالعات و تحقیقات کربلا کے سربراہ نے کہا ہے کہ عراق کی ۵۳ یونیورسٹیاں اور ثقافتی ادارے زائرین اربعین کے لیے کوئی ثقافتی خدمات انجام نہیں دے رہے ہیں۔
انہوں نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے عہدیداروں کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نے مذہب تشیع کو متعارف کروانے کے لیے مختلف زبانوں میں دنیا کے کونے کونے میں دینی و ثقافتی خدمات انجام دی ہیں۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
9*5=? سیکورٹی کوڈ