پروگرامز اور کانفرنسیں

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ رمضانی کے ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کارکنان اور محققین کی ملاقات

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ رمضانی کے ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کارکنان اور محققین کی ملاقات

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے کارکنان، عہدیداران اور محققین نے قم دفتر میں بروز منگل اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی سے ملاقات کی۔

تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کی نمائش

تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کی نمائش

جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کو قم کی روڈ صفائیہ پر نمائش میں لگایا گیا۔

جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب ۱۱ مارچ بروز جمعرات عید بعثت کے دن منعقد ہوئی اس میں تین سالہ علمی کاوشوں؛ کتابوں، مقالات، تراجم اور قیمتی تحقیقات نیز ۴۲ علمی نشستوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔
سیمینار کی اختتامی تقریب کے اصلی مقرر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی تھے جنہوں نے بعثت پیغمبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف اور اس کے آثار و برکات کو بیان کیا۔
پیغمبر اکرم کی بعثت اور انسان کا مقام
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے بعثت کی برکتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بعثت کے بعض آثار و برکات یہ تھے کہ لوگوں کو مادی زندگی سے معنوی زندگی کی طرف مائل کرے، اور انسان کو وحی الہی کی نگاہ سے پہچنوائے۔ نیز خدا انسان کا معلم ہو اور انسان تعلیم حق کا متعلم۔
انہوں نے مزید کہا: بعثت ان پابندیوں اور زنجیروں سے چھٹکارا دیتی ہے جن میں انسان خود کو جھکڑتا ہے۔ بعثت کا اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ بشریت عظمت اور وقار کی راہ پر حرکت کرے اور لوگ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کمال کی راہ پر چلیں۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: خداوند عالم نے قرآن کریم میں خود کو "اکرم" پہچنوایا ہے، اس کے فرشتے بھی کرامت کی منزل پر فائز ہیں اور اس کی کتاب بھی کرامت کی صفات کی مالک ہے، اس کا پیغمبر بھی کریم ہے لہذا یقینی طور پر اگر انسان خدائے اکرم کی تعلیمات سے مستفیذ ہوں گے تو ان میں بھی کرامت اور بزرگی پیدا ہو گی۔
اس اسلامی اسکالر نے مزید کہا: مکارم اور محاسن میں فرق یہ ہے کہ محاسن دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے حاصل ہوتے ہیں لیکن کرامت خود انسان کے اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے کہ اس کا نفس کیسے تربیت پاتا ہے۔ اگر انسان کی روح کریمانہ ہو گی تو اس کے نفس میں وسعت پیدا ہو گی۔
جناب ابوطالب سیمینار کے لیے کئی سال جد وجہد
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیمینار میں علمی مقالات پیش کرنے اور کتب تحریر کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا سیمینار کے منتظمین، اسمبلی کے کارکنان اور خصوصا مراجع تقلید کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد کا پلان ۲۰۱۷ کے اواخر میں میں طے پایا اور گزشتہ سال یہ سیمینار منعقد ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: بعض مشکلات کے باوجود یہ ارادہ بنا لیا گیا کہ یہ بین الاقوامی سیمینار اسی سال فیزیکلی اور ویرچوئل طریقے سے منعقد کیا جائے اور مزید اس میں تاخیر نہ ڈالی جائے۔
انہوں نے ابوطالب انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین صباحی کاشانی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا: اس سلسلے میں قابل قدر کام بعض اہم شخصیات کے ذریعے انجام پائے ہیں نیز وافر مقدار میں علمی نشستیں بھی منعقد ہوئی ہیں اور ان میں اچھی گفتگو بھی کی گئی ہے۔ ان کے فوائد مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
جناب ابوطالب سیمینار کے اہداف
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا: اسمبلی کے مقاصد میں سے ایک جناب ابوطالب جیسی شخصیت کو متعارف کروانا ہے۔ لہذا اس سیمینار کے انعقاد کا ایک اہم مقصد اس شخصیت کو دنیا میں پہچنوانا ہے اور اس شخصیت کے بارے میں دقیق مطالعہ اور تحقیق ہے جس کا ماحصل دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: جب تاریخ اسلام کو دیکھتے ہیں تو جناب ابوطالب کا کردار بعثت کے دور میں سب سے نمایاں نظر آتا ہے، البتہ جناب خدیجہ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا یا اسلام کے سب سے پہلے شہدا جناب یاسر اور ان کی بیوی سمیہ اور دیگر افراد بھی اپنی جگہ قابل اہمیت ہیں۔ لیکن بعثت کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں جناب ابوطالب کا کردار سب سے زیادہ اہم اور ممتاز ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کی بڑی شخصیات پہچاننا چاہیے کہا: مسلمانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ جناب ابوطالب اسلام کے لیے باعث عزت و سربلندی تھے۔
انہوں نے مزید کہا: ابوطالب صدر اسلام کی مظلوم شخصیات میں سے ایک ہیں اور انہیں گہرائی سے پہچنوانے کی ضرورت ہے ان سے زیادہ مظلوم بعثت کے زمانے میں کوئی نظر نہیں آئے گا۔
جناب ابوطالب سیمینار کے سربراہ نے شکوک و شبہات کو دور کرنا سیمینار کا دوسرا مقصد بیان کیا اور کہا: آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی سے جب ہم نے اس سلسلے میں ملاقات کی اور جناب ابوطالب کے بارے میں ایک فلم بنانے کا منصوبہ پیش کیا تو انہوں نے اس کام کو اہم اور قابل قدر قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا: نیز آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے بھی اس سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا اور رہنمائی فرمائی۔
جناب ابوطالب کے اوصاف
آیت اللہ رمضانی نے تاریخ اور روایات کی نگاہ سے جناب ابوطالب کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب "موحد"، "مسلمان"، "مومن"، ایمان کے بالاترین درجہ کے فائز، مستجاب الدعوۃ، ولی اللہ، ہدایت یافتہ، گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے، طاہر، مطہر، انبیاء اور اوصیاء الہی کے فرزند، بت پرستی کے دشمن، اہل کرامت، آئندہ حادثات کی نسبت پیش گوئی کرنے والے، حکیم، شجاع، عربوں کے درمیان مقبول، ضعیفوں کے حامی، حد سے زیادہ بخشش کرنے والے، صابر، امانتدار، حکیم، عالم، سیادت سقایت اور قضاوت کے مناصب پر فائز، سید البطحاء ، شیخ الاباطح اور سردار مکہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا: گویا عبد المطلب، ابوطالب اور جناب خدیجہ اللہ کی طرف سے پیغمبر اکرم کی جان کی حفاظت کے لیے مامور ہوئے تھے۔ ابوطالب حقیقی معنی میں مربی تھے اور اس عظیم امانت کے تئیں وہ خود کو امین سمجھتے تھے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب کی پیغمبر اکرم کی نسبت حمایتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: شعب ابی طالب کے دشوارترین اور کٹھن حالات اور سماجی اور معیشتی محاصرے کے دوران کفار چاہتے تھے کہ ابوطالب پیغمبر اکرم کو ان کے حوالے کر دیں، جناب ابوطالب نے قصیدہ لامیہ پڑھا اور اس کے ذریعے اپنے عقائد کو کفار کے لیے بیان کر دیا۔ اگر ہم اس قصیدہ پر نگاہ ڈالیں تو آپ کے ایمان کی بلندیوں کا ادراک کر سکتے ہیں۔ ابوطالب اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں: " سب یہ جان لیں کہ محمد کو ہم جھٹلا نہیں سکتے اور ہم باطل افراد کی باتوں پر کان نہیں دھر سکتے"۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: اس قصیدہ کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "قصیدہ لامیہ کو حفظ کرو اور اسے اپنے بچوں کو سکھاؤ" یہ قصیدہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب ابوطالب علم و دانش کے مالک تھے مظلوم کا دفاع کرتے تھے اور حق کی پیروی کرتے تھے۔
ابوطالب استقامت و پائیداری کے مصداق اور صبر کے پیکر
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: جناب ابوطالب (ع) خود خواہ اور خود پسند لوگوں کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور ان کے مطالبات کو قبول نہیں کیا۔
انہوں نے روز بعثت کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر "تواصی بالحق و الصبر" کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ابوطالب نے حق کا دفاع کیا، اور دفاع کی راہ میں صبر و استقامت سے کام لیا، وہ استقامت، پائیداری اور صبر کے واضح مصداق تھے۔ ابوطالب نے ظالموں کے مقابلے میں حق پر بھروسہ کیا اور آسمان ہدایت میں ایک درخشان ستارے میں تبدیل ہو گئے۔
حوزہ علمیہ میں بھی حضرت ابوطالب (ع) کو پہچنوایا نہیں گیا!
آیت اللہ رمضانی نے حضرت ابوطالب کی مظلومیت کے بارے میں کہا: اتنے عظیم صفات کے مالک ہونے اور بے نظیر اثرات کے حامل ہونے کے باوجود حتیٰ حوزہ ہائے علمیہ میں بھی جناب ابوطالب کو پہچنوایا نہیں گیا چہ رسد عام مسلمان پہچان سکیں، لہذا بعض مراجع کا کہنا تھا کہ اس کام میں خود ہم مقصر رہے ہیں۔
انہوں نے اس مظلومیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم جب آٹھ سال کے تھے تو جناب عبد المطلب دنیا سے رخصت ہوئے اور پچاس سال کی عمر تک یعنی ۴۲ سال جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی سرپرستی اور حمایت کی۔ لیکن ان کی مظلومیت یہ ہے کہ لوگ پھر بھی ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس سے بڑی مظلومیت یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو خاندانی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے اتنے بڑے مقام پر فائز ہو اور اوصیاء و اولیائے الہی میں سے شمار ہوتا ہو اس پر کفر کی تہمت لگائی جائے۔ ابوطالب وہ شخص ہیں جنہوں نے ۴۲ سال پیغمبر اکرم کی حمایت سے کوئی دریغ نہیں کیا اور خود کو اور اپنے گھر والوں کو پیغمبر اکرم پر قربان کیا۔
جناب ابوطالب(ع) سیمینار اور وحدت اسلامی
آیت اللہ رمضانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں میں وحدت اسلامی پر مبنی زاویہ نگاہ پر زور دیتے ہوئے کہا: اس سیمینار کا ایک مقصد تاریخ اسلام کا احیاء ہے، لہذا یہ اقدام کسی قوم و مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس سیمینار کے ذریعے ہم نے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ ابوطالب جو عالم اسلام کی عظیم شخصیت ہیں اور مذہب تشیع سے مخصوص نہیں ہیں کو بہتر انداز میں پہچانا جائے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: اس سیمینار کے اندر خود اتحاد اور ہمدلی کی فضا پائی جاتی ہے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس سیمینار میں علمائے اسلام چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی ہوں نے اپنا تعاون پیش کیا اس لیے کہ جناب ابوطالب کا تعلق ان شخصیتوں میں سے ہے جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں کسی خاص مذہب سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جناب ابوطالب اور آج کا معاشرہ
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صدر اسلام میں جناب ابوطالب سے زیادہ بانفوذ کوئی شخصیت نہیں تھی کہا: ہمیں چاہیے کہ ہم آج اپنے معاشرے اور اسلامی انقلاب کے لیے آپ سے درس حاصل کریں۔
انہوں نے کہا: جس طریقے سے انہوں نے بعثت اور پیغمبر اکرم کے مقاصد کے لیے اپنی عزت کو داؤ پر لگایا ہمیں بھی اسلامی انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھانے کی راہ میں اپنی عزت و آبرو کو داؤ پر لگانے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزاحمت کو عالم اسلام کے لیے جناب ابوطالب کی حیات سے اہم درس قرار دیتے ہوئے کہا: ابوطالب نے ۴۲ سال مزاحمت کی تاکہ پیغمبر اکرم (ص) کی تحریک ثمربخش ثابت ہو سکے، ہمیں بھی سامراج کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے اور اس راہ میں مزاحمت کرنا چاہیے۔

موسوی تبریزی: جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک اور ادیان شناس تھے

موسوی تبریزی: جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک اور ادیان شناس تھے

لبنان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب (ع) کے بارے میں تاریخ میں مختلف طرح کی باتیں نقل ہوئی ہیں۔ واضح ہے کہ ایسی شخصیت کے بارے میں اختلاف کی وجہ کیا چیز ہے، لیکن تاریخ نے یہ بھی واضح بیان کیا ہے کہ جناب ابوطالب نے لوگوں کو اسلام اور کلمہ توحید کی طرف دعوت دینے میں پیغمبر اکرم کا کتنا ساتھ دیا اور کتنی خدمات انجام دیں۔
حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب حامی پیغمبر اعظم بین الاقوامی سیمینار کہ جو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے منعقد ہوا اس کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب کے ذریعے پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت اور پشت پناہی آپ کی توحید اور اسلام سے وابستگی اور محبت کی علامت ہے۔
انہوں نے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے جناب عبد المطلب کو موحد، مومن اور خداپرست قرار دیا اور کہا: جناب عبد المطلب کہ جو جناب ابوطالب کے والد اور پیغمبر اکرم کے دادا تھے نے حالت احتضار کے وقت اپنے دس بیٹوں میں سے حضرت ابوطالب کا ہاتھ پکڑا اور اور وصیت کی کہ محمد (ص) جو اس وقت آٹھ سال کے تھے کی سرپرستی کریں، حضرت عبد المطلب کے اس انتخاب کی دلیل جناب ابوطالب کا ایمان اور توحید پر عقیدہ تھا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس سیمینار میں جناب ابوطالب کی شخصیت پر پیغمبر اکرم کے دنیا میں آنے سے پہلے اور بعد کے حالات پر گفتگو کرنا چاہیے نیز یہ مسئلہ بھی ضروری ہے کہ حضرت ابوطالب کی شخصیت کے بارے میں گفتگو ایمان یا عدم ایمان کی گفتگو میں خلاصہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب ایک بڑے عالم اور ادیب تھے اور عظیم شاعر بھی شمار ہوتے تھے کہ یہ چیز عربوں کے درمیان ایک بڑا امتیاز تھا لیکن ابھی تک آپ کے علم و دانش اور فصاحت و بلاغت کے بارے میں کوئی کام نہیں ہوا۔ وہ ایسے دانشمند تھے جو فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے مکہ کے قبائل اور بادشاہ روم کے ساتھ ان کے مضبوط تعلقات تھے۔ جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک تھے اور علماء و زعماء کے درمیان ان کا خاص مقام تھا۔
لبنان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نمائندے نے کہا: جناب ابوطالب کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی معرفت اور عرفان تھا جو آپ کے اشعار میں واضح نظر آتا ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم کی شان میں درج ذیل شعر میں ملاحظہ کریں:
وَاللَّهِ لَنْ یَصِلُوا اِلَیْکَ بِجَمْعِهِمْ  /  حَتَّی اُوَسَّدَ فِی التُّرَابِ دَفِیناً
فَاصْدَعْ بِاَمْرِکَ مَا عَلَیْکَ غَضَاضَةٌ  /  وَاَبْشِرْ وَقَرَّ بِذَاکَ مِنْکَ عُیُوناً
وَدَعَوْتَنِی وَ ذَکَرْتَ اَنَّکَ نَاصِحِی  /  فَلَقَدْ صدَقْتَ وَ کُنْتَ قَبْلُ اَمِیناً
وَ ذَکَرْتَ دِیناً قَدْ عَلِمْتُ بِاَنَّهُ  /  مِنْ خَیْرِ اَدْیَانِ الْبَرِیَّةِ دِینا

موسوی تبریزی نے مزید کہا: ان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ جناب ابوطالب گزشتہ ادیان سے بھی آشنائی رکھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: پیغمبر اکرم نے جناب ابوطالب کی تشییع جنازہ کی اور انہیں سپرد خاک کیا اور اس کے بعد بہت زیادہ گریہ کیا یہاں تک کہ قریش نے پیغمبر اکرم کے گریہ کی آوازیں سنی۔ اسی وجہ سے آںحضور نے اس سال کو عام الحزن کا نام دے دیا یعنی غم و اندوہ کا سال۔ پیغمبر اکرم کے اس اقدام کے بہت سارے معانی لیے جا سکتے ہیں۔ ابوطالب کی شخصیت کے تمام پہلوؤں پر توجہ کرنے اور انہیں دنیا میں پہچنوانے کی ضرورت ہے۔

حضرت ابوطالب(ع) سیمینار کا شعر و ادب کمیشن / 2۔ دیوان ابوطالب(ع) میں مدائح نبویہ کا جائزہ؛ پیشکش: حسین مہتدی

حضرت ابوطالب(ع) سیمینار کا شعر و ادب کمیشن / 2۔ دیوان ابوطالب(ع) میں مدائح نبویہ کا جائزہ؛ پیشکش: حسین مہتدی

"حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کا تیسرے کمیشن بعنوان "شعر و ادب کمیشن" کا اجلاس بروز منگل بمورخہ 9 مارچ 2021ء، بمقام امام خمینی اعلی تعلیمی کمپلیکس کے شہید صدر آڈیٹوریم، منعقد ہؤا۔
یہ اجلاس آیت اللہ محمد سعید نعمانی کی صدارت میں منعقد ہؤا، تہران کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن ڈاکٹر باقر قربانی زرین نے بطور ریفری شرکت کی تھی اور حجت الاسلام و المسلمین ولی اللہ معدنی پور سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
نیز عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل و نائب سیکریٹری جنرل برائے ثقافتی امور حجت الاسلام و المسلمین احمد احمدی تبار اور اسمبلی کے تحقیقات امور کے ڈائریکٹر حجت الاسلام سید محمد رضا آل ایوب بھی اجلاس کے شرکاء میں شامل تھے۔
جناب حسین مہتدی نے اپنا مقالہ بعنوان "دیوان ابوطالب(ع) میں مدائح نبویہ کا جائزہ" اس اجلاس میں پیش کیا۔
انھوں نے رسول اللہ(ص) کی مداحی میں کہے گئے مختلف قسم کے منظوم کلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بعض اشعار اور نظمیں "نجاتِ جان" کے لئے تھیں، اور بعض دیگر محض مادی محرکات کی بنا پر تھیں؛ لیکن بعض رسول اللہ(ص) کی مداحی کے سلسلے میں کہے گئے بعض اشعار خالصانہ ہیں اور رسول خدا(ص) کی اس قسم کی خالصانہ مدح کو حضرت ابوطالب(ع) کی شاعری میں تلاش کرسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: کئی ایسے دیوان موجود ہیں جن میں حضرت ابوطالب(ع) کے اشعار نقل کئے گئے ہیں اور "دیوان علی بن حمزہ بصری" نے حضرت ابوطالب(ع) کے سب سے زیادہ اشعار نقل کئے ہیں۔
انھوں نے کہا: حضرت رسول اکرم(ص) کی مدح میں حضرت ابوطالب(ع) کے اشعار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: بعث رسول(ص) سے پہلے کے زمانے کے اشعار اور بعثت نبوی کے بعد کے اشعار۔ قبل از بعثت کی شاعری پر حضرت رسول(ص) کے حوالے سے ابوطالب(ع) کی پدرانہ نگاہ غالب ہے البتہ اس شاعری میں آپ(ع) نے رسول اللہ(ص) کے خلاف ہونے والی سازشوں کی طرف بھی اشارے کئے ہیں؛ جبکہ ابوطالب(ع) کی بعثت کے بعد کی شاعری میں رسول اللہ(ص) کی مدح کے ضمن میں، آپ(ص) کی رسالت و نبوت کا بیان ہے اور یہ شاعری مؤمن قریش کے ایمان راسخ کا ناقابل انکار ثبوت ہے،
جناب مہتدی نے رسول اللہ(ص) کے قبل از بعثت کے دور کے معجزے کی طرف اشارہ کرکے کہا: رسول اللہ(ص) نے لڑکپن کے دور میں اپنے چچا اور سرپرست جناب ابو طالب(ع) کے ساتھ مل کر شام کا سفر اختیار کیا اور اس سفر کے دوران بادل کا ایک ٹکڑا آپ کے سر پر سایہ فگن رہتا تھا؛ یہ صورت حال بُصریٰ کے علاقے میں سب کے لئے باعث حیرت بنی ہوئی تھی، "بُحَیرا" نامی راہب، جو اس علاقے میں مقیم تھا، نے اس معجزے کو دیکھ لیا اور حضرت ابوطالب(ع) سے کہا کہ یہ بزرگوار خاتم المرسلین ہیں، اور آپ جلدی سے یہاں سے واپس چلے جائیں کیونکہ آپ(ص) کے دشمن آپ کے قتل کی کوشش کریں گے۔ حضرت ابوطالب(ع) نے اپنی شاعری میں بعثت سے پہلے کے اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوکہ حضرت ابوطالب(ع) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے سرپرست اور حامی و محافظ تھے لیکن جب مشکل پڑتی تھی تو آپ(ع) رسول اکرم(ص) کی پناہ میں چلے جاتے تھے۔ مکہ قحط سے دوچار ہؤا تو ابوطالب(ع) آپ(ص) کو کعبہ کے پاس لے گئے اور آپ(ص) نے کعبہ کے پاس بارش کے لئے درگاہ باری تعالی سے التجا کی اور اتنی بارش ہوئی کہ مکیوں کے لئے کئی سال تک کافی تھی۔ [البتہ یہ بھی مروی ہے اور قصیدہ لامیہ سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ حضرت ابوطالب(ع) نے رسول اللہ(ص) کے وسیلے سے اللہ سے دعا مانگی تھی جس کے بعد قحط کا خاتمہ ہؤا تھا]۔ ابوطالب(ع) نے اس داستان کو بھی اپنی قبل از اسلام کی شاعری کے ضمن میں نقل کیا ہے۔
اس دینی محقق نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) نے بعد از بعثت اپنی شاعری میں صراحت کے ساتھ، آشکار طور پر، حضرت محمد(ص) کی رسالت و نبوت پر مہر تائید ثبت کی ہے اور جو لوگ خاص قسم کے تاریخی اور سیاسی شبہہ اندازی کرتے ہوئے حضرت ابوطالب(ع) کے ایمان پر انگلی اٹھاتے ہیں، ان اشعار کے ذریعے ان کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوطالب(ع) اپنی شاعری میں اپنے فرزندوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ساتھ کسی وقت بھی نہ چھوڑیں اور آپ(ص) کی حمایت جاری رکھیں۔
انھوں نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) کی شاعری میں کہیں کوئی غزل نہیں ملتی، بلکہ آپ کی شاعری متعہد ادب (committed literature) کا مصداق اور اخلاقی اصولوں اور سماجی ہدایت اور اصلاح امور کے تقاضوں کے عین مطابق تھی۔
صدر کمیشن جناب آیت اللہ نعمانی نے، اجلاس کے آخر میں حضرت ابوطالب(ع) کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کہا: حضرت ابوطالب(ع) صاحب عقل و حکمت اور غیر معمولی اور منفرد شخصیت کے طور پر شہرت رکھتے تھے، اور آپ کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ مال دنیا کے حوالے سے نادار ہونے کے باوجود سید بطحاء اور سید القریش سمجھے جاتے تھے۔ حضرت ابوطالب(ع) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اپنے فرزندوں پر مقدم رکھتے تھے اور خطرے کے مقامات پر اپنے بیٹوں کو آگے بھیج دیتے تھے چنانچہ توجہ و اعتناء کی یہ کیفیت نسبی یا سببی رشتوں سے کہیں بالاتر اور محض عقیدے اور ایمان کی گواہی دیتی ہے۔
انھوں نے کہا: علماء کہلوانے والے بعض غیر منصف اور متعصب قلم کاروں نے لکھا ہے کہ حضرت ابوطالب(ع) خاندانی قرابت کی بنا پر رسول اللہ(ص) کی حمایت کرتے تھے۔ یہ حضرات درحقیقت قلم اور کتابت پر جفا کرنے والے اور تاریخ کے ساتھ خیانت کرنے والے لوگ ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ابوطالب (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت سے لے کر اپنے وصال تک رسول اللہ(ص) پر خاص نظر رکھتے تھے [اور آپ(ص) کی خاطر اپنے آپ اور اپنے بچوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے تھے اور اگر خاندانی تعصب کی بات ہوتی تو آپ(ص) کے تحفظ کے لئے اپنے بیٹوں کو خطرے کے منہ میں نہ دھکیلتے اور اگر مشرکین کے ہاں خاندانی رشتے دینی رشتوں پر مقدم ہوتے تو ابولہب بھی رسول اللہ(ص) کا حامی ہوتا]۔
واضح رہے کہ "حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) سیمینار"، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، کے زیر اہتمام اور "حضرت ابوطالب(ع) ثقافتی ادارہ برائے تحقیق و اشاعت"، "عالمی تقریب مذاہب اسمبلی"، "دفتر تبلیغات اسلامی"، حوزات علمیہ"، "جامعۃ المصطفی العالمیہ"، "حوزات علمیہ کے زبان سیکھنے کے مرکز"، "بین الاقوامی اہل بیبت یونیورسٹی"، "میراث نبوی ثقافتی انسٹی ٹیوٹ"، "جامعۃ الزہراء(س)"، "الذریۃ النبویہ انسٹی ٹیوٹ"، "قاسم بن الحسن(ع) ثقافتی-مذہبی انسٹی ٹیوٹ"، "ابناء الرسول(ص) ثقافتی-ہنری انسٹی ٹیوٹ" اور بعض دیگر دینی اور ثقافتی اداروں کے تعاون سے، حضرت ابو طالب(ع) کے ایام وفات کے موافق  25، 26، 27 رجب المرجب 1442ھ (9 سے 11 مارچ 2021ء تک) منعقد ہوا ہے۔

"حضرت ابوطالب(ع) کے حوالے سے شاعری کی ملک گیر کانفرنس"، "حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلہ"، اور "حضرت ابوطالب(ع) کے سلسلے میں بچوں اور نونہالوں کا میلہ"، اس سیمینار کے موقع پر منعقدہ دوسرے پروگرامات ہیں۔ نیز اس سیمینار کے سیکریٹریٹ نے سیمینار کے انعقاد کے موقع پر، دوسرے ثقافتی پروگراموں کا اہتمام کیا ہے جن میں "حضرت ابوطالب(ع) کے لئے خطاطوں کی ہم نویسی" اور "تکریم ابوطالب(ع) کے لئے محفل مشاعرہ"، جیسے پروگرام شامل ہیں۔

تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب(ع) سیمینار کے علمی مقالات کی نقاب کشائی اور پوزیشن حاصل کرنے والوں کو دئیے گئے انعامات

تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب(ع) سیمینار کے علمی مقالات کی نقاب کشائی اور پوزیشن حاصل کرنے والوں کو دئیے گئے انعامات

جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب کا انعقاد ۱۱ مارچ بروز جمعرات کو قم کے مدرسہ امام خمینی میں ہوا جس میں اس سیمینار کے حوالے سے گزشتہ تین سال کی علمی کاوشوں جو دسیوں کتابوں اور مقالات، تراجم اور ۴۲ علمی نشستوں پر مشتمل تھیں کی نقاب کشائی کی گئی اور مقالات میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والوں کو نفیس انعامات سے نواز گیا۔

تصویری رپورٹ/جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار میں آرٹ کے فن پاروں کی نمائش

تصویری رپورٹ/جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار میں آرٹ کے فن پاروں کی نمائش

جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کے دوران مدرسہ امام خمینی (رہ) میں خطاطی اور پینٹنگ کے فن پاروں کی نمائش منعقد کی گئی۔

آیت اللہ صافی گلپائیگانی: جناب ابوطالب (ع) سیمینار کا انعقاد حوزہ علمیہ کے لیے باعث فخر ہے

آیت اللہ صافی گلپائیگانی: جناب ابوطالب (ع) سیمینار کا انعقاد حوزہ علمیہ کے لیے باعث فخر ہے

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے مورخہ ۹ مارچ ۲۰۲۱ بروز منگل کو عالم تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی سے ملاقات کر کے "جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کے انعقاد کی رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ سے قبل آیت اللہ صافی گلپائیگانی نے اس عظیم سیمینار کے انعقاد پر اس کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امت اسلامیہ کو جناب ابوطالب کا رہین منت قرار دیا اور کہا: الحق جناب ابوطالب اور ان کے عظیم گھرانے نے اسلام کے تئیں عظیم قربانیاں پیش کیں لہذا شیعوں بلکہ تمام مسلمانوں کی یہ ذمہداری ہے کہ آپ کو متعارف کروائیں اور ان کی شخصیت کو دنیا میں پہچنوائیں۔
حوزہ علمیہ کے اس عظیم استاد نے کہا: ہم نے جو کچھ اس وقت تک انجام دیا اس کے باوجود ہم نے اس عظیم شخصیت کو پہچنوانے میں بہت کوتاہی کی جناب ابوطالب تاریخ اسلام کے وہ عظیم مرد ہیں جو علم، ادب، صداقت، شجاعت بلکہ تمام کمالات میں ہر دور کے لیے نمونہ عمل ہیں ہم جتنا بھی بیان کریں تب بھی ہم نے ان کے فضائل کے سمندر کا ایک قطرہ بھی بیان نہیں کیا۔
"کتاب فضل تو را آب بحر کافی نیست
کہ تر کنند سر انگشت و صفحہ بشمارند"
(ترجمہ) تیری فضیلت کی کتاب اتنی بڑی ہے کہ سمندر کا پانی بھی کافی نہیں ہے کہ اس سے اپنی انگلی تر کریں اور تیرے فضائل کی کتاب کے صفحات شمار کریں۔
عالم تشیع کے اس مرجع تقلید نے اس عظیم شخصیت کے تعارف کو الہی توفیق قرار دیا اور کہا: جناب ابوطالب کا نام زندہ کرنا گویا دین و مذہب کو زندہ کرنا ہے اور یاد رکھیں اس امر میں شرکت الہی لطف و کرم اور ابوطالب کے بیٹے امیر المومنین علی علیہ السلام کی نگاہ خاص کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لہذا اس بڑی کامیابی کی قدر جانتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
موصوف نے اس سیمینار کو حوزہ علمیہ کے لیے باعث فخر گردانتے ہوئے کہا: انشاء اللہ حوزہ علمیہ سالہا سال تک اس سیمینار کی علمی برکتوں سے مستفید ہوتا رہے گا اور پہلے سے زیادہ اس شخصیت کو متعارف کروانے میں کامیاب ہو گا۔
آیت اللہ صافی گلپائیگانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل اور سیمینار کے سہیم دیگر اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میں آپ کے اس عمل سے بہت خوش ہوا ہوں اور آپ پر غبطہ کرتا ہوں کہ ؛ یا لیتنی کنتُ معکم فافوز فوزاً عظیما.
انہوں نے آخر میں کہا : میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف آپ کو محفوظ رکھیں اور مزید کامیاب و کامران کریں۔

[12 3 4 5  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
6-3=? سیکورٹی کوڈ