اخبار همایش

  • جناب ابوطالب سے منسوب دیوان کا جائزہ کے عنوان سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں علمی نشست کا انعقاد

    جناب ابوطالب سے منسوب دیوان کا جائزہ کے عنوان سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں علمی نشست کا انعقاد

    جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی آٹھویں علمی نشست"جناب ابوطالب سے منسوب دیوان کا جائزہ" کے عنوان سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی شعبہ قم میں منعقد کی گئی۔ اس میں جناب ابوطالب (ع) تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام محمد مہدی صباحی کاشانی اور حوزہ علمیہ قم کے ماہر حجۃ الاسلام محسن احمدی تہرانی نے گفتگو کی۔

  • جناب ابوطالب (ع) سیمینار کی پانچویں علمی نشست/ بنی امیہ نے اپنی بدنامی کی تلافی کے لیے جناب ابوطالب کی شخصیت کو مجروح کیا

    جناب ابوطالب (ع) سیمینار کی پانچویں علمی نشست/ بنی امیہ نے اپنی بدنامی کی تلافی کے لیے جناب ابوطالب کی شخصیت کو مجروح کیا

     "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی کانفرنس" کے علمی نشستوں کے تسلسل سے یہ پانچویں علمی نشست ہے۔

    یہ نشست جو جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے سیکرٹریٹ کی جانب سے مہر نیوز ایجنسی کے دفتر میں منعقد ہوئی اس میں حجۃ الاسلام و المسلمین "سید مجید پورطباطبائی" اور حجۃ الاسلام "محمد علی مروجی طبسی" نے گفتگو کی۔

    5465678bf50d740cbc9996a3a7c0af8d_344.jpg

    حجۃ الاسلام و المسلمین سید مجید پور طباطبائی نے اس نشست کے ابتدا میں پیغمبر اکرم(ص) کے اجداد کے کمالات اور جناب ابوطالب(ع) کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ پیغمبر اکرم کے اجداد اور چچا کی عظمت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ خاتم الانبیاء کے اجداد تھے اور گزشتہ انبیاء کے اوصیا تھے، انہوں نے کہا: کسی بھی دور میں پروردگار عالم نے لوگوں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑا لہذا یقینا اس مدت میں بھی جزیرہ عرب کسی الہی نمائندے سے خالی نہیں تھا۔ امام کاظم علیہ السلام نے واضح طور پر فرمایا کہ "عبد المطلب" اور "ابوطالب" اوصیاء الہی میں سے تھے جو اپنے دور کے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے۔
    تاریخ اسلام کے اس محقق نے امام کاظم علیہ السلام کی روایت پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی بعثت سے پہلے مناسک حج اور سماجی روابط کے حوالے سے پانچ قوانین وضع کئے ہوئے تھے جیسے طواف کے ۷ چکر، دیّت کے لیے ۱۰۰ اونٹ تو اسلام آنے کے بعد ان پانچ قوانین پر اسلام نے مہر تصدیق ثبت کر دی اور پیغمبر اکرم(ص) نے بحکم خدا انہیں قوانین اسلام کا حصہ بنا لیا یہ چیز نہ صرف جناب ابوطالب کے ایمان کو ثابت کرتی ہے بلکہ ان کے وصی خدا ہونے پر بھی دلیل ہے۔
    پورطباطبائی نے اپنے دعوے پر امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک روایت بھی پیش کرتے ہوئے کہا: حضرت علی علیہ السلام سے جب پوچھا کہ پیغمبر اکرم سے قبل آخری وصی خدا کون تھا؟ تو آپ نے فرمایا: میرے بابا۔
    انہوں نے اسلام کے تئیں جناب ابوطالب(ع) کی حمایتوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب جناب ابوطالب (ع) نے اپنے بیٹے حضرت علی علیہ السلام کو کعبے کے بعد پیغمبر اکرم کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، اپنے دوسرے بیٹے کو ترغیب دلائی کہ وہ بھی ان کے ساتھ نماز میں ملحق ہو جائے۔
    یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنے بھتیجے کے دین کے قائل تھے، علاوہ از ایں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہلی دعوت اسلام یعنی دعوت ذوالعشیرہ جناب ابوطالب کے گھر پر تھی اور اس دعوت میں حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کا تین بار اعلان کیا۔ اسی دعوت میں جب ابوجہل نے پیغمبر اکرم کی توہین کی تو جناب ابوطالب نے اس کا جواب دیا اور حضرت علی کے اقدام کا دفاع کیا۔
    انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صدر اسلام میں حضرت علی اور اولاد عبد المطلب کے علاوہ چند لوگ ہی مسلمان ہوئے تھے اور بقیہ سب کافر اور مشرک تھے کہا: معاویہ جیسے افراد نے اپنے نقائص کا ازالہ کرنے کے لیے روایتیں گھڑیں۔
    پورطباطبائی نے بنی امیہ کی فیکٹری میں جعلی روایات گھڑنے کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بنی امیہ نے جناب ابوطالب کو اس لیے ہدف بنایا کہ وہ حضرت علی کے باپ تھے اور آپ کی شخصیت کو نشانے بنا کر در حقیقت وہ حضرت علی کی شخصیت کو گرانا چاہتے تھے۔
    تاریخ کے اس محقق نے کفار مکہ کی طرف سے حضرت ابوطالب (ع) کی زندگی کے آخری ایام میں پیغمبر اکرم(ص) کو دھشتگردی کا نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: دشمنان اسلام نے ابولہب کی بیوی کے ساتھ مل کر اس کے شوہر ابولہب کو شراب پلایا تاکہ وہ شراب کی مستی میں مگن رہے اور وہ پیغمبر کا قتل کر دیں لیکن جناب ابوطالب ان کے منصوبے سے آگاہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے بیٹے علی کو ابولہب کے گھر بھیجا تاکہ ابولہب سے کہیں: "جس کا چچا قریش کا سردار ہو اس کو قتل کرنا آسان نہیں" اس طرح ابولہب کو پتا چل گیا اور دشمنوں کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

    4bfa34be3dd568ef8bbd0ab0a6d66fe2_791.jpg


    نشست کو آگے بڑھاتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین محمد علی مروجی طبسی نے بھی جناب ابوطالب کی شخصیت کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب کے ایمان کے بارے میں اہل سنت کے درمیان جو شک و شبہہ پیدا کیا جاتا ہے اس کی وجہ حدیث ضحضاح ہے جو صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد بن حنبل میں نقل ہوئی ہے۔
    قرآن و حدیث کے اس محقق نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اہل سنت کی کتب احادیث میں حدیث ضحضاح چند سندوں کے ساتھ "ابوسعید خدری" اور "عباس بن عبد المطلب" سے نقل ہوئی ہے کہا: یہ حدیث سند کے اعتبار سے بھی اشکال رکھتی ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی۔
    انہوں نے کہا: دشمنان اہل بیت(ع) خصوصا ناصبیوں نے یہ حدیث جعل کر کے اور اسے پیغمبر اکرم کی طرف نسبت دے کر جناب ابوطالب کو کافر ثابت کرنے کی کوشش کی جبکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ یہ حدیث قرآن کی آیتوں سے تعارض رکھتی ہے۔
    مروجی طبسی نے مزید کہا: قرآن سے تعارض کے علاوہ یہ حدیث اہل بیت(ع) کے اجماع سے بھی متعارض ہے چونکہ اہل بیت(ع) جناب ابوطالب کے ایمان پر اجماع رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود حدیث کے متن کے اندر بھی تعارض پایا جاتا ہے۔
    انہوں نے بعض علمائے اہل سنت کی جانب سے ایمان ابوطالب کا اعتراف کرنے کو بھی موضوع گفتگو بناتے ہوئے کہا: شائد یہی بنیادی اشکالات ہیں جن کی وجہ سے بعض علمائے اہل سنت جناب ابوطالب کے ایمان کا اعتراف کرتے ہیں اور حدیث ضحضاح کی مخالفت کرتے ہیں۔ جیسے اہل سنت کے معروف شافعی عالم دین علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب "التعظیم و المنۃ" میں اعتراف کیا ہے۔
    مروجی طبسی کا کہنا ہے کہ حتیٰ بعض علمائے اہل سنت معترف ہیں کہ حدیث ضحضاح نہ صرف جناب ابوطالب کے کفر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ الٹا ان کے ایمان اور اسلام پر اعتقاد کو ثابت کرتی ہے۔
    انہوں نے مزید کہا: سنی حنفی عالم "احمد خیری پاشا" (متوفیٰ ۱۳۸۷ھ ق) کا جناب ابوطالب کی شان میں ۷۰ بیت اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ ہے انہوں نے اپنے اس قصیدہ میں حدیث ضحضاح کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ حدیث قرآن کی آیت "السابقون السابقون" کے ساتھ منافات رکھتی ہے۔
    مروجی طبسی نے اس نشست کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں خصوصا جوانوں کو جناب ابوطالب جنہوں نے چالیس سال سے زیادہ پیغمبر اکرم کی مخلصانہ حمایت کی، ان کی طرز زندگی اور اسلام کے تئیں ان کی فداکاریوں سے دور رکھنا بہت بڑا ستم اور ناانصافی ہے۔
    خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
    مقالات اور علمی آثار بھیجنے کی آخری تاریخ 6 فروری 2021 ہے اور سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
    جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔

  • آیت اللہ علوی گرگانی: جناب ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد سے آپ پر لگائی گئیں تہمتوں کو ازالہ کیا جا سکتا ہے

    آیت اللہ علوی گرگانی: جناب ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد سے آپ پر لگائی گئیں تہمتوں کو ازالہ کیا جا سکتا ہے

    جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد کے موقع پر سیمینار کے سیکرٹریٹ کے اراکین نے عالم تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ "سید محمد علی علوی گرگانی" سے ملاقات اور گفتگو کی۔
    آیت اللہ علوی گرگانی نے اس ملاقات میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا اس سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: یہ سیمینار حقیقت میں ایک عظیم اور قابل قدر کارنامہ ہے ۔
    انہوں نے مزید کہا: ہمیں اپنا سارا سرمایہ لگا کر جناب ابوطالب (ع) پر لگائی گئی تہمتوں کا ازالہ کرنا اور ان کے چہرے پر دشمنوں کی جانب سے ڈالی گئی گرد و غبار کو پاک کرنا چاہیے۔
    حوزہ علمیہ قم کی اعلیٰ سطح کے استاد نے جناب ابوطالب پر لگائے گئے الزامات کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: یہ الزامات بغیر کسی دلیل کے نہیں تھیں اور اس کی وجہ جناب ابوطالب اس دور کے سماج میں وہ بلند و بالا مقام تھا ۔
    آیت اللہ علوی گرگانی نے مزید کہا: جناب ابوطالب (ع) نے اس زمانے میں رسول خدا(ص) کی حمایت کی جب آپ کی حمایت کرنے والا کوئی نہ تھا۔
    انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے پروردگار عالم آپ کو اور ان تمام افراد کو اس امر میں شریک ہیں بہترین اجر عطا کرے گا۔
    عالم اسلام کے اس مرجع تقلید نے آیت اللہ رمضانی اور جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے عہدیداروں کا شکریہ ادا کرتے  ہوئے زور دیا: یہ کام عالم اسلام کی بنیادی خدمت ہے۔

    * جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر الاعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس 9 سے 11 مارچ 2021 کو منعقد ہو گی۔
    اس ملاقات کے ابتداء میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ اور ڈپٹی سیکرٹری نے کانفرنس کے انعقاد کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے تاحال انجام پانے والی علمی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔
    حجۃ الاسلام و المسلمین احمد احمدی تبار نے کہا: اس کانفرنس کا منصوبہ 2017 میں تیار کیا گیا اور 2019 میں اس کا انعقاد عمل میں لانا طے پایا تھا، لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔ تاہم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ماہ رجب میں جناب ابوطالب کی رحلت کے ایام میں یعنی 9، 10،11 مارچ 2021 کو آنلاین منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    انہوں نے جناب ابوطالب کی شخصیت پر گفتگو کرنے اور ان کے مقام و منزلت کو بیان کرنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آپ تاریخ کی ایک مظلوم شخصیت ہیں۔ اسی وجہ سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے آپ کے بارے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان تمام تہمتوں کا علمی جواب دیا جا سکے جو آپ کی شخصیت پر لگائی گئیں ہیں۔
    احمدی تبار نے مزید کہا: سیکرٹریٹ کی کاوشوں سے کانفرنس کے بارے میں اطلاع رسانی کرنے اور جناب ابوطالب کی شخصیت پر علمی مقالات اکٹھا کرنے میں کافی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
    حجۃ الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے مزید کہا: ایک اور کام جو حال حاضر میں انجام دیا جا رہا ہے وہ جناب ابوطالب کے بارے میں تخصصی انٹرویو ہیں جو ٹی وی چینلز کے اسٹنڈرڈ کے مطابق لیے جا رہے ہیں اور انہیں ایران کے قومی چینلز سے شائع کیا جائے گا۔ ان انٹرویوز میں ملکی اور غیر شیعہ سنی شخصیات شامل ہیں۔
    خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
    مقالات اور علمی آثار بھیجنے کی آخری تاریخ 6 فروری 2021 ہے اور سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
    جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔

  • جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی اشاعتوں سے واقفیت/ 1۔ قصیدہ لامیہ کی شرح

    جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی اشاعتوں سے واقفیت/ 1۔ قصیدہ لامیہ کی شرح

    "جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار"، اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اور دیگر معاون اداروں کی تین سالہ علمی، ادبی اور ثقافتی کاوشوں کے بعد مارچ 2021 میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔
    اس سیمینار کی علمی کاوشوں کے نتائج میں جناب ابوطالب(ع) کی ادبی میراث کا احیاء، تحقیق، تصحیح اور ترجمہ کرنا اور شیعہ سنی منابع میں پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک جناب ابوطالب کے مقام کے بارے میں سلسلہ وار مطالب کو منظر عام پر لانا ہے۔
    اس سیمینار کے انعقاد کا وقت قریب آنے کے پیش نظر درج ذیل آثار کو متعارف کیا جاتا ہے؛
    1.    شرح قصیده لامیه سردار کابلی
    * نـام: شرح القصیدة اللامیة لسیدنا و مولانا أبي طالب (علیه السلام)
    * زبـان: عربی
    * تألیف: العلامة الشیخ حیدرقلی بن نورمحمدخان (الشهیر بسردار الکابلی) - نزیل کرمانشاه (1293 - 1372 ه. ق.)
    * تحقیق: محمد مهدي صباحي الکاشاني
    * ناشر: مؤسسہ أبي طالب للتحقیق والنشر؛ بمناسبة المؤتمر الدولي لأبي طالب(ع) حامي الرسول الأعظم(ص)
    * اشاعت اول: 1440 ه. ق. - 1398 ه. ش. - 2019 م.
    * آئی ایس بی این: 3-2-95539-622-978
    * تعداد صفحات: 428 صفحہ
    فصلیں:
    - ترجمة الشارح؛ آثاره ومؤلفاته (قصیدہ لامیہ کے شارح، علامہ سردار کابلی کے حالات زندگی اور ان کے آثار)
    - القصیدة اللامیة وما حولها (قصیدہ لامیہ کے بارے میں)
    - شروحها وترجماتها (قصیدہ لامیہ کی شروحات اور ان کے ترجمے)
    - شرح القصیدة (قصدیہ لامیہ کی شرح)

    * کتاب کی فہرست (الفهارس العامة):

    1. الآیات القرآنیه (فہرست آیات)
    2. الحدیث والأثر والخبر (فہرست احادیث)
    3. الکتب والرسائل (کتابوں کی فہرست)
    4. الأعلام (فہرست اشخاص)
    5. القبائل والطوائف والأمم (فہرست قائل و طوایف)
    6. البلدان و المواضع و نحوها (فہرست اماکن)
    7. الأزمنه والأیام (امان اور ایام کی فہرست)
    8. قوافي الشعر (اشعار کے قافیوں کی فہرست)
    9. الشعراء وأصحاب الدواوین (شعراء کی فہرست)
    10. اللغة (لغت شناسی کی فہرست)
    11. الأمثال (محاوروں کی فہرست)
    12. المصادر والمراجع (منابع کی فہرست)
    13. جدول أرقام القصیده في سائر الشروح (قصیدہ لامیہ کی دیگر شروحات میں قصیدہ کے اشعار کا جدول)
    14. البحور الشعریة والأوزان العروضیة في الشعر العربي (عربی اشعار میں علم عروض کے وزن)

    وضاحت
    جناب ابوطالب (علیہ السلام) قبل اسلام اور ابتدائے اسلام کے دور میں عرب کے ممتاز شعراء میں شمار ہوتے تھے، ابن شہر آشوب کے بقول 3000 بیت اشعار جناب ابوطالب نے کہے جن میں 1000 بیت ہم تک پہنچے ہیں اور ان ایک ہزار بیت اشعار میں 90 فیصد سے زیادہ اشعار رسول خدا(ص) اور اسلام سے متعلق ہیں۔ جیسے اپنی قوم کو اسلام، یا بادشاہ حبشہ کو اسلام کی دعوت دینا اور یا اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے دشمنوں اور تخریب کاروں کی مذمت کرنا۔
    جناب ابوطالب (ع) کا سب سے بڑا اور دلچسب قصیدہ "قصیدہ لامیہ" ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی شان میں لکھا گیا ہے اور علمائے شیعہ و سنی نے اسے نقل کیا ہے۔ یہ قصیدہ ایک ادبی شاہکار بھی شمار ہوتا ہے، جیسا کہ "ابن کثیر" نے لکھا ہے: "قصیدہ لامیہ اس قدر فصیح و بلیغ ہے کہ خود شاعر کے علاوہ کسی کو ایسا قصیدہ کہنے کی توانائی نہیں"۔
    قصیدہ لامیہ کی شیعہ سنی علماء نے شرح کی ہے، منجملہ علامہ علی فہمی بوسنائی، علامہ شیخ جعفر نقدی عماری، اور علامہ سردار کابلی۔
    کتاب ھذا "شرح القصیدة اللامیة لسیدنا ومولانا أبي طالب علیه السلام"  کے نام سے قصیدہ لامیہ کی مفصل شرح اور تحقیقی کتاب ہے جو علامہ شیخ حیدر قلی سردار کابلی (متوفیٰ 1372ھجری) نے لکھی ہے۔
    "مؤسسه فرهنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب(ع)" کہ جو جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی کانفرنس کے منعقد کرنے والوں میں شامل ہے نے اس کتاب کا احیاء، اس کی تصحیح اور اشاعت کی ہے۔ مولف کے حالات زندگی اور کچھ اہم فہرستیں کتاب کے آخر میں اضافہ کی گئی ہیں۔ یہ کتاب اس بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر موسسہ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین صباحی کاشانی کی کاوشوں اور حوزہ علمیہ قم کے دیگر اساتید کے تعاون سے منظر عام پر آئی ہے۔

    70d3c16956642309ecb96e9a0d51c9a9_804.jpg


    قابل ذکر ہے کہ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ہم خیال اداروں کے تعاون سے 9 سے 11 مارچ 2021 کو آنلاین منعقد کیا جا راہ ہے۔
    سیمینار میں مقالات اور علمی آثار بھیجنے کی آخری تاریخ 6 فروری 2021 ہے سیمینار کے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو اعلانیہ کو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
    جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔



  • آیت اللہ مقتدائی: جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد سے عالم اسلام کی بڑی خدمت ہو گی

    آیت اللہ مقتدائی: جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد سے عالم اسلام کی بڑی خدمت ہو گی

    جناب ابوطالب حامی پیغمبر اعظم بین الاقوامی کانفرنس کی علمی اور اجرائی کمیٹی کے اراکین نے "آیت اللہ مرتضیٰ مقتدائی" کے ساتھ ملاقات کی۔


    آیت اللہ مقتدائی نے کانفرنس کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: یہ کانفرنس حقیقت میں ایک عظیم کام ہے جو رسول اسلام اور امام زمانہ کی خشنودی کا سبب بنے گی اور اس سے عالم اسلام و تشیع کی بڑی خدمت ہو گی۔

    c55b5fb5ffd506fe3ff2d92191694c5f_636.jpg

    جامعۃ المدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن نے جناب ابوطالب (ع) کانفرنس کی کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب (ع) نے اس وقت پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کی جب آپ کو واقعا حمایت کی ضرورت تھی اور کوئی آپ کا یار و مددگار نہیں تھا، انشاء اللہ خداوند عالم آپ اور ان تمام افراد کو جو اس امر میں شریک ہیں جزائے خیر عطا کرے گا۔
    اس ملاقات میں علمی کمیٹی کے سربراہ آیت اللہ "محمد ہادی یوسفی غروی"، ادارہ تحقیق اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین "سید محمد رضا آل ایوب"، شعبہ سوالات و جوابات کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین "عباس جعفری فراہانی" اور کانفرنس کی اجرائی کمیٹی کے عہدیدار "محمد حائری شیرازی" موجود تھے۔

    25b2916b5c49db617f52fa5ea48efee7_490.jpg


    اس ملاقات کے آغاز میں جناب ابوطالب علمی کمیٹی کے سربراہ نے کانفرنس سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: یہ کانفرنس جس کا تین سال قبل منصوبہ بنایا تھا اور گزشتہ سال فروری کے مہینے میں اسے منعقد ہونا تھا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔ لہذا کانفرنس سیکرٹریٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ۹،۱۰،۱۱ مارچ ۲۰۲۱ کو آنلاین ہی منعقد کی جائے گی۔
    آیت اللہ یوسفی غروی نے سیکرٹریٹ کو موصول ہوئے علمی مقالات کی رپورٹ دیتے ہوئے کہا: سیکرٹریٹ نے اطلاع رسانی اور مقالات کی جمع آوری میں کافی جد وجہد کی ہے اور ابھی تک علمی مقالات حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
    اجرائی کمیٹی کے سربراہ حجۃ الاسلام "محمد حائری شیرازی" نے کہا: کانفرنس کے علمی پہلو کو مضبوط بنانے کے لیے جناب ابوطالب (ع) کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر گفتگو کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی علمی شخصیات کے ساتھ علمی نشستیں رکھی جائیں گی۔
    انہوں نے کہا: ایک اور اہم کام جو ابھی حال حاضر میں انجام دیا جا رہا ہے جناب ابوطالب (ع) کے بارے میں تخصصی مکالمات (انٹرویو) ہیں جو قومی ٹی وی چینل کے اسٹنڈرڈ کے مطابق ریکارڈ کئے گئے ہیں اور جناب ابوطالب کی رحلت کے ایام میں ان چینلز پر نشر کئے جائیں گے۔ ان مکالمات میں ایران کی علمی شخصیات کے علاوہ غیرملکی شیعہ سنی علمی شخصیات بھی شامل ہیں۔
    حائری شیرازی نے کانفرنس کے دیگر پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: کانفرنس کے ضمنی پراگراموں میں ایک "شب مشاعرہ" بھی ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی شعراء ۴ زبانوں انگریزی، عربی، اردو اور فارسی میں جناب ابوطالب کی شان میں اپنے اشعار پیش کریں گے۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
8-8=? سیکورٹی کوڈ