خبریں

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام منعقدہ تصویری رپورٹ/ ’’طلوع حقیقت‘‘ کانفرنس میں میڈیا کا کردار

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام منعقدہ تصویری رپورٹ/ ’’طلوع حقیقت‘‘ کانفرنس میں میڈیا کا کردار

 اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے منعقدہ طلوع حقیقت کانفرنس کو کیوریج دینے کے لیے میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا
اور کانفرنس میں شریک اہم شخصیات سے انٹرویو لئے۔ اس کانفرنس میں
اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری کے علاوہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ظریف، مشیر رہبر انقلاب ڈاکٹر ولایتی اور دفتر رہبری کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد محمدی گلپائیگانی نے تقاریر کیں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے تصویری رپورٹ/ ’’امام ہادی (ع) کی سیرت اور ان کا دور‘‘ کے زیر عنوان قم میں کانفرنس کا انعقاد

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے تصویری رپورٹ/ ’’امام ہادی (ع) کی سیرت اور ان کا دور‘‘ کے زیر عنوان قم میں کانفرنس کا انعقاد

بدھ, 06 دسمبر 2017

 امام ہادی علیہ السلام کی سیرت اور ان کا دور کے زیر عنوان قم میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے بھی خطاب کیا۔

آیت اللہ عیسی قاسم کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت انسانی حقوق کے عہدیداروں کے نام خط

آیت اللہ عیسی قاسم کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت انسانی حقوق کے عہدیداروں کے نام خط

بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی تشویشناک جسمانی صورتحال کے پیش نظر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سات دیگر بین الاقوامی عہدیداروں کے نام ایک اہم خط تحریر کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک عالمی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اس خط کے ذریعے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ایک ماہر اور قابل اطمینان ڈاکٹروں کی ٹیم کا مطالبہ کیا ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ’’انتونیو گوٹیرس‘‘ کے نام خط کا مکمل ترجمہ:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم جناب انتونیو گوٹیرس صاحب
سیکرٹری جنرل برائے اقوام متحدہ
سلام علیکم
بعد از احترام، آپ جناب کی دنیا کے ممالک خاص طور پر بحرین میں انسانی حقوق کے دفاع کے حوالے سے قابل قدر کاوشوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کو اس خط کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے کہ افسوس سے بحرین کے بزرگ عالم دین اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم کی طبیعت انتہائی ناسازگار ہے۔
یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی میں نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے ایک تجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ اس دینی رہبر کے قریبی رشتہ داروں اور قرابتداروں نے بتایا ہے شیخ عیسی قاسم کا آدھا وزن کم ہو گیا ہے اور ان کے معدے سے خونریزی بھی جاری ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی بلڈ پریشر، شوگر اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہیں۔
گھر پر محاصرہ کئے جانے اور طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کا طبیب ٹھیک طرح سے ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس نے واضح کہہ دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کے متخصص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے آپریشن کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب سے آیت اللہ عیسی قاسم کے اہل خانہ، بحرینی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک ایسا بین الاقوامی ادارہ جس کے ۱۲۰ ممالک سے اہم شخصیات رکن ہیں ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر، یورپی یونین اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نیز حریت پسند ممالک کے سربراہان کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مرکوز کرتے ہیں:
۱۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہولت اور نقاحت کی وجہ سے مزید بیماریوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ باقی ماندہ معمولی توانائی کے ختم ہو جانے سے اس بزرگ عالم دین کی جان یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے۔
۲۔ بیمار انسان کو دوا اور علاج سے محروم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
۳۔ آل خلیفہ کی حکومت، تقریبا سات سال سے مختلف طریقوں سے انسانی حقوق اور اس ملک کے باشندوں کے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ بیماروں کی دیکھ بھال کا امکان فراہم نہ کر کے اپنی حکومت کے دامن پر ایک اور سیاہ دھبہ اضافہ کر رہی ہے۔
۴۔ ہم عالمی تنظیم ہونے کے عنوان سے بین الاقوامی تنظیموں سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج کے لئے ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹروں کی ٹیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵۔ نیز انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور مربوطہ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے قانون کو واپس لینے اور ان کے گھر محاصرے کو خاتمہ دینے کے لئے بحرین کی قانون شکن حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
۶۔ بیشک اس امر میں سستی برتنے کے نتیجے میں پیش آنے والے ہر ناگوار حادثہ کی براہ راست ذمہ داری حکومت بحرین اور اس کے بعد ان عالمی تنظیموں کے دوش پر ہو گی جو اس سلسلے میں سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
                                          مخلصانہ احترام کے ساتھ
                                            محمد حسن اختری
                             سیکرٹری جنرل برائے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
                                            ۳۰،۱۱،۲۰۱۷

یہ خط اسی مضمون کے ساتھ درج ذیل چھے عہدیداروں کے نام بھی ارسال کیا گیا: 
یورپی کمیشن کے سربراہ مسٹر جین کلاڈ جنکر؛
یورپی پارلیمان کے صدر، انتونیو تاجانی؛
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے لئے ذمہ دار مسز موگرینی؛
اقوام متحدہ کے ادارے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر امیر زید رعد الحسن؛
اقوام متحدہ کی شعبہ مذہبی آزادی کی خصوصی رپورٹر محترمہ آسماء جہانگیر؛
غیر ملکی ڈاکٹروں کی تنظیم کی سربراہ محترمہ ڈاکٹر جوآن لیو.

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

جمعرات, 30 نومبر 2017

بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی جسمانی صورتحال کی بحرانی کیفیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔
اس بیانیہ میں آیا ہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی ادارہ ہونے کی حیثیت سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ایک ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹر کا مطالبہ کرتی ہے۔
بیانیہ کا مکمل ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل
افسوس کی بات ہے کہ بحرین کے بزرگ عالم دین اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن ’’آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم‘‘ کی طبیعت انتہائی ناسازگار ہے۔
بحرین کی یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی کی حامل نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے تجربہ کار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ اس دینی رہبر کے قریبی رشتہ داروں اور قرابتداروں نے بتایا ہے شیخ عیسی قاسم کا آدھا وزن بھی کم ہو گیا ہے اور ان کے معدے سے خونریزی بھی جاری ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی بلڈ پریشر، شوگر اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہیں۔
گھر کو محاصرہ کرنے کے بعد انہیں طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کا طبیب ٹھیک طرح سے ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اب اس نے واضح کہہ دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کو متخصص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے آپریشن کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آیت اللہ عیسی قاسم کے اہل خانہ، بحرینی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک بین الاقوامی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر، یورپی یونین اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نیز حریت پسند ممالک کے سربراہان کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مرکوز کرتی ہے:
۱۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہولت سن اور نقاحت بدن کی وجہ سے مزید بیماریوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ باقی ماندہ معمولی توانائی کے خاتمہ سے اس بزرگ عالم دین کی جان یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے۔
۲۔ بیمار انسان کو دوا اور علاج سے محروم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
۳۔ آل خلیفہ کی حکومت، تقریبا سات سال سے مختلف حربوں کے ذریعے انسانی حقوق اور اس ملک کے باشندوں کے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ اور اس بار بیماروں کی دیکھ بھال کا امکان فراہم نہ کر کے اپنی حکومت کے دامن پر ایک اور سیاہ دھبہ اضافہ کر رہی ہے۔
۴۔ ہم اس عالمی تنظیم عہدہ دار ہونے کے عنوان سے بین الاقوامی تنظیموں سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج کے لئے ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹروں کی ایل ٹیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵۔ نیز انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور مربوطہ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے قانون کو واپس لینے اور ان کے گھر کا محاصرہ خاتم کرنے کے لئے بحرین کی قانون شکن حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
۶۔ بیشک اس امر میں سستی برتنے کے نتیجے میں پیش آنے والے ہر ناخوش گوار واقعہ کی براہ راست ذمہ داری حکومت بحرین اور اس کے بعد ان عالمی تنظیموں کے دوش پر ہو گی جو اس سلسلے میں سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۳۰،۱۱،۲۰۱۷

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل

جمعرات, 30 نومبر 2017

بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی جسمانی صورتحال کی بحرانی کیفیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔
اس بیانیہ میں آیا ہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی ادارہ ہونے کی حیثیت سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے ایک ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹر کا مطالبہ کرتی ہے۔

 

 

11345046e05d6e903b0357de307676dd.jpg


بیانیہ کا مکمل ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج و معالجہ کے لئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرکاری اپیل
افسوس کی بات ہے کہ بحرین کے بزرگ عالم دین اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے رکن ’’آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم‘‘ کی طبیعت انتہائی ناسازگار ہے۔
بحرین کی یہ اہم شخصیت جنہیں کئی مہینوں سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے جسمانی طور پر صحت و سلامتی کی حامل نہیں ہیں اور ان کے علاج کے لئے تجربہ کار ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔
جیسا کہ اس دینی رہبر کے قریبی رشتہ داروں اور قرابتداروں نے بتایا ہے شیخ عیسی قاسم کا آدھا وزن بھی کم ہو گیا ہے اور ان کے معدے سے خونریزی بھی جاری ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی بلڈ پریشر، شوگر اور بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہیں۔
گھر کو محاصرہ کرنے کے بعد انہیں طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کا طبیب ٹھیک طرح سے ان کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اب اس نے واضح کہہ دیا ہے کہ شیخ عیسی قاسم کو متخصص ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے آپریشن کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب آیت اللہ عیسی قاسم کے اہل خانہ، بحرینی حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک بین الاقوامی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کے ہائی کمیشنر، یورپی یونین اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نیز حریت پسند ممالک کے سربراہان کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مرکوز کرتی ہے:
۱۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہولت سن اور نقاحت بدن کی وجہ سے مزید بیماریوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ باقی ماندہ معمولی توانائی کے خاتمہ سے اس بزرگ عالم دین کی جان یقینی خطرے سے دوچار ہو جائے۔
۲۔ بیمار انسان کو دوا اور علاج سے محروم کرنا، انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
۳۔ آل خلیفہ کی حکومت، تقریبا سات سال سے مختلف حربوں کے ذریعے انسانی حقوق اور اس ملک کے باشندوں کے شہری حقوق کو پامال کر رہی ہے۔ اور اس بار بیماروں کی دیکھ بھال کا امکان فراہم نہ کر کے اپنی حکومت کے دامن پر ایک اور سیاہ دھبہ اضافہ کر رہی ہے۔
۴۔ ہم اس عالمی تنظیم عہدہ دار ہونے کے عنوان سے بین الاقوامی تنظیموں سے آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے علاج کے لئے ماہر اور قابل وثوق ڈاکٹروں کی ایل ٹیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۵۔ نیز انسانی حقوق کے سرگرم افراد اور مربوطہ تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی کے قانون کو واپس لینے اور ان کے گھر کا محاصرہ خاتم کرنے کے لئے بحرین کی قانون شکن حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
۶۔ بیشک اس امر میں سستی برتنے کے نتیجے میں پیش آنے والے ہر ناخوش گوار واقعہ کی براہ راست ذمہ داری حکومت بحرین اور اس کے بعد ان عالمی تنظیموں کے دوش پر ہو گی جو اس سلسلے میں سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۳۰،۱۱،۲۰۱۷

مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت میں میڈیا بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے: آقائے اختری

مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت میں میڈیا بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے: آقائے اختری

’’مہدوی کلچر کی توسیع اور میڈیا‘‘ کے زیر عنوان تہران میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام مہدی (عج) کی امامت کے دور میں پوری دنیا پر عدل الہی حاکمفرما ہو گا اور پوری دنیا اسی دور کی انتظار میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: آج کا سماج ایسا آئیڈیل سماج نہیں ہے جو ہمیں مہدویت کے مقصد کی طرف رہنمائی کر سکے۔ لہذا ہمیں ایسا سماج تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہم مہدوی کلچر کو متعارف کروا سکیں اور اس راہ میں میڈیا کا کردار سب سے اہم نظر آتا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ پوری دنیا کی ۷ ارب آبادی میں ۳۶۰ ملین شیعہ ہیں جبکہ ساڑھے چھے ارب آبادی مہدویت کے موضوع سے ناآشنا ہیں۔ اس اعتبار سے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم مہدوی کلچر اور مہدوی حکومت کے خد و خال سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے دن رات زحمت اور محنت کریں۔
انہوں نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دنیا میں مہدوی کلچر کی توسیع کی راہ میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے کہا: مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت کا ایک اہم طریقہ اس طرح کے موضوعات پر کانفرنسوں اور علمی نشستوں کا انعقاد ہے۔
انہوں نے کہا: آج انجیل اور توریت کو ۲ ہزار پانچ سو سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے لیکن ہم قرآن کریم کو ۱۵ زندہ زبانوں میں بھی ترجمہ نہیں کر سکے ہیں۔ اسی طرح نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ جو امام معصوم کا کلام ہے کو صحیح طریقے سے پہچنوا نہیں پائے ہیں۔
آقائے اختری نے تاکید کی کہ ہمیں اسلامی تعلیمات اور مہدوی کلچر کو دنیا کی زندہ زبان میں منتقل کر کے اس کی ترویج کرنا چاہئے۔ اسی طرح دنیا کے بڑے بڑے ذرائع ابلاغ میں اثر و رسوخ پیدا کر کے ان ذرائع سے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: غیروں کا میڈیا اسلام مخالف سازشوں کے ذریعے مہدویت کے چہرے کو خدشہ دار کرنے میں جھٹا ہوا ہے۔ اسلام کو بدنام کرنے میں ان کا ایک کام یہ ہے کہ وہ تکفیری اور دھشتگرد ٹولیوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اسلام کو بدنام کروائیں ان سے مہدویت کے خلاف پروپیگنڈے کروائیں یہ لوگ خانہ خدا اور حرم رسول خدا(ص) سے حقیقی اسلام کی تعلیمات اور مہدوی کلچر کے خلاف تبلیغ کریں۔
انہوں نے کہا: دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں سائبری فضا سے لے کر اخباروں اور ٹی وی چینلوں تک ہر جگہ مہدوی کلچر کی نشر و اشاعت میں کوشاں رہنا چاہیے۔

داعش کی نابودی پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا جنرل قاسم سلیمانی کو تہنیتی پیغام

داعش کی نابودی پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا جنرل قاسم سلیمانی کو تہنیتی پیغام

عراق و شام میں بدنام زمانہ تکفیری ٹولے داعش کی بھاری شکست اور مزاحمتی قوتوں کی عظیم کامیابی کے بعد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بٹالین کے کمانڈر ان چیف قاسم سلیمانی کو ایک تہنیتی پیغام بھیجا ہے۔
اس تہنیتی پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
للهِ الأمرُ مِن قَبلُ و مِن بَعدُ و يَومَئِذٍ يَفرَحُ المُؤمِنُون؛ بِنَصرِ اللهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ و هُوَ العَزیزُ الرَّحيم. (روم، 4 و 5)
(اللہ ہی کے لئے اول و آخر ہر زمانے کا اختیار ہے اور اسی دن صاحبان ایمان خوشی منائیں گے اللہ کی نصرت اور مدد کے سہارے کہ وہ جس کی امداد چاہتا ہے کردیتا ہے اور وہ صاحب عزت بھی ہے اور مہربان بھی)

برادر ارجمند جناب الحاج قاسم سلیمانی دام عزہ
قدس فورس کے کمانڈر ان چیف
سلام علیکم
انتہائی خوشی اور افتخار کا مقام ہے کہ دھشتگرد اور تکفیری ٹولیوں منجملہ ’’ خونخوار تکفیری ٹولی داعش‘‘ کہ جو وہابی تکفیری تفکر، آل سعود، آل یہود اور دیگر تشدد پسندانہ شیطانوں کی مالی حمایت اور امریکہ، برطانیہ، صہیونی ریاست اور اس کے اتحادیوں کی اسلحہ جاتی پشت پناہی کے ساتھ چھے سال علاقے میں طغیان گری اور خون خرابے میں مصروف تھے کی نابودی اور ’’اصلاح اور مزاحمت کی قوتوں‘‘ کی ’’دھشتگرد اور باطل طاقتوں‘‘ پر عظیم کامیابی کا جشن ماہ ربیع الاول کے مبارک ایام میں منا رہے ہیں۔ 
بے شک یہ نصرتِ عظیم رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی حکیمانہ تدبیروں اور دقیق حمایتوں کی مرہون منت ہے جو باعث بنیں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، عراق اور شام کی فوج، حشد الشعبی، حزب اللہ لبنان، افغانستان اور پاکستان کے فی سبیل اللہ مجاہدوں کی چھے سالہ مسلسل جانفشانیوں اور مجاہدتوں نے تکفیری ٹولے داعش کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا اور حرم اہل بیت اور ان کے پیروکاروں کے لئے امن و سکون کی فضا فراہم کر دی۔
اس درمیان آپ کی بابصیرت، شجاعانہ اور مدبرانہ کاوشیں ہیں جنہوں نے اس کے علاوہ کہ عالمی استکبار کو مایوس کر دیا تکفیری دھشتگردوں کو بھاری شکست سے دوچار کر کے نابود کر دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی شہید پرور قوم کو سربلندی اور سرفرازی عطا کی۔
اللہ کا یہ سچا وعدہ جو ان صاحبان ایمان کے لیے ہے جو ظالموں کے مقابلے میں اللہ کی قدرت پر ایمان رکھتے ہیں، محقق ہو گیا: "و قَد مَکَرُوا مَکرَهُم وَ عِندَ اللَّهِ مَکرُهُم وَ إن کانَ مَکرُهُم لِتَزُولَ مِنهُ الجِبال؛ فَلا تَحسَبَنَّ اللَّهَ مُخلِفَ وَعدِهِ رُسُلَهُ إنَّ اللَّهَ عَزیزٌ ذُو انتِقام". (ابراهیم، 46 و 47) ( اور ان لوگوں نے اپنا سارا مکر صرف کر دیا اور خدا کی نگاہ میں ان کا سارا مکر ہے اگر چہ ان کا مکر ایسا کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔ تو خبردار تم یہ خیال بھی نہ کرنا کہ خدا اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا اللہ سب پر غالب اور بڑا انتقام لینے والا ہے)۔
بارگاہ الہی میں سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے اس عظیم فتح الفتوح کو آپ کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں نیز مختلف ملکوں کے مدافع حرم عزیز شہیدوں کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے انکے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ ان کی امانتوں کی حفاظت میں ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔

با احترام
محمد حسن اختری
سیکرٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

افغانستان کے سابق صدر: جو شخص حضرت علی (ع) کو دوست نہ رکھے اہل سنت سے خارج ہے/ اہل سنت بیشک محبان اہل بیت(ع) ہیں

افغانستان کے سابق صدر: جو شخص حضرت علی (ع) کو دوست نہ رکھے اہل سنت سے خارج ہے/ اہل سنت بیشک محبان اہل بیت(ع) ہیں

جمعہ, 24 نومبر 2017

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے مجمع جہانی بیداری اسلامی کے زیر اہتمام ’’محبان اہل بیت(ع) اور مسئلہ تکفیریت‘‘ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر نے کہا: سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ(ص) اور ان کی آل پاک سے محبت اور الفت مسلمانوں کے لئے اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔
ڈاکٹر صبغۃ اللہ مجددی نے مزید کہا: حضرت امیر المومنین علی (ع) سے محبت اہل تسنن کی شرط ہے اور اگر کوئی آپ سے محبت نہ رکھتا ہو وہ اہل سنت سے خارج ہے۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ بیشک اہل سنت محبین اہل بیت(ع) ہیں اور وہ پیغمبر اکرم(ص) کی وجہ سے ان کے اہل بیت(ع) اور اصحاب کو بھی دوست رکھتے ہیں کہا: محبت اہل بیت اہل سنت کا سرمایہ ہے اور اہل سنت اہل بیت(ع) کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔
ڈٓاکٹر مجددی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دشمنان اسلام مسلمانوں کے بیچ تفرقہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہا: اتحاد اور آپس میں دوستی مسلمانوں کے لئے ضروری اور واجب ہے۔
افغانستان کے سابق صدر نے یہ واضح کرتے ہوئے کہ انتہا پسند ٹولے جیسے داعش کا ایک اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ نسل خوارج میں سے ہیں بیان کیا: یہ سب کے لیے واضح ہو جانا چاہیے کہ انتہا پسندی کا مقصد صرف مسلمانوں میں اختلاف کا بیج بونا ہے اور یہی دشمنوں کا ہدف ہے۔

[12 3 4 5  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

مجمع جهانی اهل‎بیت(علیهم‎السلام)، به عنوان یک تشکل جهانی و غیردولتی، از طرف گروهی از نخبگان جهان اسلام تشکیل شده است. اهل‎بیت(علیهم‎السلام) به این دلیل بعنوان محور فعالیت انتخاب شده‎اند که در معارف اسلامی در کنار قرآن، محوری مقدس را که مورد پذیرش عامه مسلمین باشد، تشکیل می‎دهند.
مجمع جهانی اهل‎بیت(علیهم‎السلام) دارای اساسنامه‎ای مشتمل بر هشت فصل و سی و سه ماده است.

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
2*4=? سیکورٹی کوڈ