خبریں

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور جامعۃ المصطفیٰ کے درمیان باہمی تعامل موجود ہے: آیت اللہ رمضانی

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور جامعۃ المصطفیٰ کے درمیان باہمی تعامل موجود ہے: آیت اللہ رمضانی

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور جامعۃ المصطفیٰ (ص) بہترین باہمی تعامل اور طاقتور ترین عوامی سفارتکاری کے حامل ہیں، جامعۃ المصطفیٰ بین الاقوامی سطح پر طلاب کی تربیت کے ذریعے ایک روحانی اور انصاف پسند فضا قائم کر سکتا ہے۔ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے سربراہ بورڈ کے غیر ملکی نمائندوں کے ساتھ ہوئے چودہویں اجلاس کے پہلے روز اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے ان بیانات کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جامعۃ المصطفیٰ اور پوری دنیا میں اس علمی مرکز کے فارغ التحصیل افراد دینی تبلیغ کے میدان میں موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ دور کی علمی  اور دینی ضرورتوں کو پورا کرنے اور مذہب اہل بیت(ع) کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے جامعۃ المصطفیٰ کے پاس بہترین مواقع فراہم ہیں جن سے بخوبی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ایام حج کی مناسبت سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا بیان

ایام حج کی مناسبت سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا بیان

 ایام حج کے موقع پر اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ یہ حج جو ’حج ابراہیمی‘ کے نام سے معروف ہے اس کے ہر ایک رکن میں حضرت ابراہیم جو پرچمدار توحید تھے کا وجود جلوہ نمائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
آیت اللہ رضا رمضانی نے کہا کہ حضرت ابراہیم حقیقت میں ایک امت تھے جنہوں نے بت پرستی اور استکباریت کے مقابلے میں ایک نہضت قائم کر دی، ابراہیم پہلے مسلمان تھے ابراہیم مقام امامت پر فائز تھے اس کے بعد کہ اللہ نے ان کا سخت امتحان لیا اور وہ ہر امتحان میں کامیاب ہوئے تو پروردگار عالم نے انہیں مقام امامت پر فائز کیا۔
انہوں نے مزید کہا: حضرت ابراہیم خانہ خدا کے خدمتگزار تھے، وہ کعبہ کے معمار اور بانی تھے، ابراہیم حکم خدا کے سامنے تسلیم محض تھے وہ محبوب خدا تھے، ابراہیم حلیم اور بردبار تھے، ابراہیم بت شکن تھے ابراہیم پر خدا نے اپنا مخصوص سلام کیا، ابراہیم مہمان نواز اور بڑے سخی تھے، اللہ کے شکرگزار اور سچے بندے تھے، اپنے وعدے کے پابند اور اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنے والے تھے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے حج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حج تمام اسلامی امتوں کے درمیان بین الاقوامی سطح پر رابطہ برقرار کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اقوام عالم اپنی گوناگوں ثقافتوں کے ساتھ ایک میدان میں اکٹھا ہوتے ہیں اور ایک عظیم عالمی اجتماع کو وجود میں لاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حج سے ہمیں للاہیت کا درس حاصل کرنا چاہیے کہا کہ حج ایسی جگہ ہے جہاں صرف تصور خدا پایا جاتا ہے جہاں اللہ کی جانب سے دعوت ہوتی ہے اور انسان مسلسل ندائے الہی پر لبیک کہتے ہوئے خود کو بارگاہ خداوندی میں محسوس کرتا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے کہا: حج امت اسلامی کے اتحاد کا باعث بننا چاہیے دشمنوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا بیج بوئیں اور انہیں ایک دوسرے سے دور کر کے ایک دوسرے کا جانی دشمن بنائیں۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اختلاف مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بنتا ہے کہا حج سے مسلمان فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور ثقافتی میدانوں میں اکٹھا ہو سکتے ہی۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے امت مسلمہ حج کی عظیم نعمت سے محروم ہو گئی کہا کہ اگر متعلقہ حکومت صحیح منصوبہ بندی کرتی تو دنیا کے تمام اسلامی ممالک سے محدود تعداد میں مسلمانوں کو حج بیت اللہ کی دعوت دے سکتی تھی لیکن افسوس کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

’’اہل بیت علیہم السلام مرکز حج ابراہیمی‘‘ کے عنوان سے ایک ویبنار کا انعقاد

’’اہل بیت علیہم السلام مرکز حج ابراہیمی‘‘ کے عنوان سے ایک ویبنار کا انعقاد

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام ’’اہل البیت (ع) مرکز حج ابراہیمی‘‘ کے عنوان سے ایک ویبنار منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس ویبنار کے اصلی موضوعات؛ ابراہیمی حج کا تحقق اور عالم اسلام و بشریت کے مسائل کا حل، اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے حج کی عظیم فضا سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کار اور موسم حج کی تہذیبی اور تزویری تبدیلی میں مذہب اہل بیت(ع) کا کردار ہوں گے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل، آیت اللہ ’رضا رمضانی‘، امور حج و زیارات میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام و المسلمین ’سید عبد الفتاح نواب‘، شام میں حرم حضرت رقیہ(س) کے امام جماعت حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر ’نبیل الحلباوی‘، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی خارجہ پالیسی کے عہدیدار ڈاکٹر ’سید شفقت حسین شیرازی‘ کے علاوہ افریقہ، انڈونیشیا، فن لینڈ، فرانس، ارجنٹائن، امریکہ، سعودی عرب اور اٹلی سے علماء اور اہم شخصیات اس آنلاین نشست میں گفتگو کریں گے۔
یہ ویبنار ۲۸ جولائی ۲۰۲۰ بروز منگل کو ایران ٹائم کے مطابق دن کے ۲ بجے منعقد ہو گا شائقین حضرات پوسٹر پر دئے گئے ویب سائٹ اور انسٹاگرام کے ایڈرس کے ذریعے اس نشست میں شامل ہو سکتے ہیں۔

علامہ طالب جوہری کے انتقال پرملال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی پیغام

علامہ طالب جوہری کے انتقال پرملال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا تعزیتی پیغام

 چند روز قبل پاکستان کے معروف خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ طالب جوہری اس دار فانی سے دار ابدی کی طرف کوچ کر گئے تھے اس عظیم سانحے پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے ایک تعزیتی پیغام جاری کیا ہے جس کا متن حسب ذیل ہے:


بسم الله الرحمن الرحیم
عَن أبي عَبدِ اللّهِ الصادِق(ع) قال: إِذا ماتَ المُؤمِنُ الفَقيه ثُلِمَ في الإِسلامِ ثُلمَة لاَ يَسُدُّها شَيء.
ماہر دانشور اور خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین الحاج شیخ ’’طالب جوہری‘‘ کی موت نے پاکستان میں تمام اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کو سوگوار کر دیا۔
مرحوم مغفور کہ جنہوں نے برصغیر اور نجف اشرف کے ممتاز دینی علماء سے کسب علم کیا تھا اپنے علم کو اسلامی معارف کی تبلیغ اور مکتب قرآن و عترت کے فروغ کی راہ میں استعمال کر دیا۔
مرحوم طالب جوہری کی تقاریر کہ جو اسلامی تعلیمات کے استحکام اور مذہب اہل بیت (ع) کی حقانیت کے دفاع میں عظیم کردار رکھتی تھیں ہمیشہ لوگوں کے ذہنوں اور یادوں میں باقی رہیں گی اور مرحوم کے لیے بارگاہ رب العزت میں مناسب زاد و توشہ ہوں گی۔
اس ناقابل جبران نقصان کی امام زمانہ  - ارواحناله الفداء – نیز برصغیر کے علماء، پاکستان کے شیعوں، ان کے چاہنے والوں اور خصوصا مرحوم کے اہل خانہ کو تسلیت  پیش کرتے ہیں اور مرحوم کی بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتے ہیں۔
وانا لله وانا الیه راجعون
رضا رمضانی
۵ جولائی ۲۰۲۰

۔۔۔۔۔۔۔

سماج میں نظم و انتظام اور قوم کی اختلاف سے پاسداری امامت کے اہم فرائض ہیں: آیت اللہ رمضانی

سماج میں نظم و انتظام اور قوم کی اختلاف سے پاسداری امامت کے اہم فرائض ہیں: آیت اللہ رمضانی

آسمان امامت کے آٹھویں ستارے امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے یوم ولادت اور عشرہ کرامت کے اختتام کے موقع پر قم میں منعقدہ ایک محفل جشن کو خطاب کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ ’’رضا رمضانی‘‘ نے امامت کے موضوع  پر گفتگو کی اور امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے اس موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا: امام رضا علیہ السلام کی ایک روایت جو کتاب کافی میں موجود ہے امامت کی تفسیر میں ایک جامع اور انتہائی دقیق روایت ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام دنیا میں فیض الہی کے نزول کا واسطہ اور ذریعہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کی معرفت، اللہ کی بندگی اور اللہ کی اطاعت سب ائمہ طاہرین کے واسطے سے ہوتی ہے؛ ’ بنا عُرف الله و بنا وحّد الله و بنا عُبدالله ولولا نا لما عرف الله و لما وحّدالله و لما عبدالله.‘ ( ہمارے ذریعے اللہ کی معرفت ہوتی ہے، ہمارے ذریعے اللہ کی توحید کو پہچانا جاتا ہے، ہمارے ذریعے اللہ کی عبادت اور بندگی ہوتی ہے، اگر ہم نہ ہوتے تو اللہ کی معرفت، اللہ کی توحید اور اللہ کی عبادت کچھ نہ ہوتا)۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: شیعہ مکتب فکر کی نگاہ سے اللہ کی آیتوں کی تفسیر، انسانوں کی تربیت اور دین کی پاسداری امام کے فرائض میں شامل ہے۔ امت اسلامی کی رہبری، امت اسلامی میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنا امامت کی اہم ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: "و جعل طاعتنا نظاماً للملة و امامتنا امانا من الفرقه" (ہماری اطاعت کو اس لیے قرار دیا کہ ملت کے اندر نظم و انتظام قائم ہو اور ہماری امامت کو اس لیے قرار دیا تاکہ قوم اختلاف سے محفوظ رہے) لہذا امامت قوم کو منظم کرتی اور تفرقے و اختلاف سے محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ دشمنوں نے ائمہ طاہرین کو معاشرے کے اندر اپنا کردار پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔

آیت اللہ رمضانی نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں امامت کے فرائض کو ولی فقیہ کے فرائض میں شامل کرتے ہوئے کہا: ولی فقیہ کا کردار بھی معاشرے میں ائمہ طاہرین کی طرح امت کی رہبری اور امت کا اختلاف سے تحفظ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے دور حیات میں سخت طوفانوں سے روبرو ہوا لیکن ولی فقیہ نے ہر طوفان کا ڈٹ کر مقابلہ کر کے امت کو بکھرنے سے بچا لیا۔
انہوں نے امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام علیہ السلام نے امامت کے تین آثار بیان کئے ہیں: "عزّ المسلمین و غیظ المنافقین و بَوار الکافرین" امامت کے واسطے مسلمانوں کو عزت اور سربلندی نصیب ہوتی ہے، لیکن منافقین کو سوائے غیظ و غصے کے کچھ نصیب نہیں ہوتا اور امامت ہی کے واسطے کافروں کی نابودی ممکن ہے۔ آپ نے ان آثار کی ہلکی سے جھلک اسلامی جمہوریہ ایران میں محسوس کی۔ امام خمینی (رہ) جب تک زندہ تھے تب بھی یہ چیز عیاں تھی اور آج جب رہبریت کی زمام حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ہاتھ میں ہے مسلمانوں کو دنیا میں عزت اور سربلندی نصیب ہوئی ہے مسلمانوں کا اقتدار دنیا میں نمایاں ہوا ہے، دنیا کے بڑے بڑے علمی مراکز میں اسلام شناسی اور شیعہ شناسی کی گفتگو ہو رہی ہے اور پھر منافقین اور کافرین کی ذلت و رسوائی بھی دنیا والوں کے سامنے عیاں ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں دشمنوں کی جانب سے تھوپنی گئیں معیشتی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اس مرحلے میں بھی ناکام ہو کر شکست کا سامنا کرے گا، ہمیں ولی فقیہ کے فرمان کا مطیع رہنا چاہیے ہماری ذمہ داری عوام کو آگاہ کرنا اور ولی فقیہ کی اطاعت کرنا ہے۔ اگر ہم سب ولی فقیہ کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں تو اقتصادی میدان میں بھی ہم دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہوں گے۔

سیدہ کونین(س) کی شان میں گستاخی کے خلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

سیدہ کونین(س) کی شان میں گستاخی کے خلاف اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

پاکستان میں گزشتہ دنوں مولوی اشرف آصف جلالی کے ذریعے سیدہ کونین صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا (س) کی شان میں کی گئی گستاخی کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے سخت اور کڑے لہجے میں ایک بیان جاری کر کے اس نازیبا حرکت کی مذمت کی ہے۔

بیان میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی مقدسات کی توہین پر قابو پانے کے لیے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ فتنہ پرور، متعصب اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے ابن الوقت عناصر واہیات بیان کرنے کی فرصت نہ پا سکیں۔

بسم الله الرحمن الرحیم

إنما يريد الله لیذهب عنکم الرجس اهل البيت و یطهرکم تطهیرا ( صدق الله العلي العظيم)
(بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے رجس کو دور رکھے اور تمہیں ویسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے)
پاکستان کے ایک بظاہر عالم دین کی جانب سے اس ملک کے ٹی وی چینل پر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت کو خدشہ دار کرنے کی غرض سے توہین آمیز اور شرمناک الفاظ کا استعمال کیا جانا اور جعلی احادیث کو بیان کر کے انہیں جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف نسبت دینا مسلمانوں کی دل آزاری اور ملک میں احتجاجی مظاہرے ہونے مخصوصا علمائے اہل سنت کی جانب سے سخت موقف اپنائے جانے کا سبب بنا ہے۔
۱۵۰ سے زائد علمائے اہل سنت نے مولوی اشرف آصف جلالی کے توہین آمیز الفاظ کی مذمت کی ہے اور اسے توبہ کرنے اور معافی مانگنے کی تلقین کی ہے۔
وہابی فکر رکھنے والا یہ متعصب اور اندھا دل شخص جو سعودی ریالوں پر اپنا ایمان فروخت کرنے پر آمادہ ہو گیا نے کروڑوں مسلمانوں اور اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کے دلوں کو رنجیدہ کیا ہے اور مسلمانوں کے درمیان منافرت اور تفرقہ پھیلانے کی ناکام کوشش کی ہے جس کا مقصد ایک مرتبہ پھر پاکستان میں مذہبی منافرت کی آگ بھڑکا کر مسلمانوں اور مومنوں کی مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بم بلاسٹ کروانا اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ اس بے شعور اور عقل سے پیدل سعودی مزدور اور زرخرید غلام کے اس قبیح اور شرمناک اقدام کی مذمت کرتی اور ان جعلی اور غلط روایات کو ممبروں سے بیان کئے جانے کے سخت مخالفت کرتی ہے جو اہل بیت اطہار (ع) اور اصحاب اکرام کے عظیم اور بلند مقام کی توہین اور عوام کے افکار میں انحراف کا باعث ہوں۔
ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلامی مقدسات کی توہین پر قابو پانے کے لیے قوانین کا نفاذ عمل میں لائے تاکہ فتنہ پرور، متعصب اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے ابن الوقت عناصر واہیات بیان کرنے کی فرصت نہ پا سکیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ کہ آپ نے انہیں ’’سیدۃ نساء اھل الجنۃ‘‘ قرار دیا نیز تمام صحابہ و تابعین کہ جنہوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت و طہارت کا اعتراف کیا، کے نزدیک آپ کا مرتبہ سب پر عیاں ہے، اس جاہل و سیاہ دل کی ہرزہ سرائیوں سے یقینا رسول اسلام (ص) اور اہل ایمان کی دل آزاری ہوئی ہے اور اس کا تنہا راستہ کھلے عام توبہ و استغفار اور معذرت خواہی ہے جیسا کہ اس نے کھلے عام اس ناقابل بخشش خطا کا ارتکاب کیا ہے۔
و العاقبة للمتقین
                                                               محمد حسن اختری
                                            سربراہ مجلس اعلیٰ برائے اھل البیت(ع) عالمی اسمبلی

ہندوستان میں مسلمانوں پر انتہا پسند ہندؤوں کے مظالم کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مذمتی بیان

ہندوستان میں مسلمانوں پر انتہا پسند ہندؤوں کے مظالم کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مذمتی بیان

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں پر کئے گئے انتہا پسند ہندو کی جانب سے ظلم و تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے نئے شہریت کے قانون کو نافذ کر کے ملک میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں، انھیں اپنے گھروں اور آشیانوں کو چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ بدلے میں تین پڑوسی ممالک کے تارکین وطن کو شہریت دینے پر اتفاق کیا گیا بشرطیکہ وہ مسلمان نہ ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے دار الحکومت دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کی یہ لہر اس وقت دوڑ گئی جب اسلام مخالف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف اپنے زہر بھرے بیانات اگلے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ابھی ہندوستان دورہ تمام ہی نہیں ہوا تھا کہ دہلی میں ہزاروں انتہا پسند ہندؤوں نے مسلمانوں کے گھروں، مسجدوں اور ان کی دکانوں کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ ان خونی واقعات میں ۳۵ مسلمانوں کے مارے جانے اور ۲۰۰ سے زیادہ زخمی کئے جانے کی خبر ملی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں ایسے واقعات کا رونما ہونا انتہائی افسوسناک ہے اس لیے کہ تاریخ ہندوستان میں مذہبی رواداری کی مثال دی جاتی تھی لیکن حالیہ دنوں انتہا پسند ہندو ملک کو مذہبی آگ کی طرف دھکیل رہے ہیں اور فرقہ واریت کی جنگ چھیڑ کر ملک کو مسلمانوں کے لیے ناامن بنانا چاہتے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے دوری اختیار کی جائے جن سے ہندوستان جیسے ملک کی عظمت کو ٹھیس پہنچے اور دنیا والوں کی نگاہوں میں اس کا مقام گر کر رہ جائے۔

ایران کا اسلامی انقلاب در حقیقت انقلاب اہل بیت(ع) سے وجود میں آیا: آقائے اختری

ایران کا اسلامی انقلاب در حقیقت انقلاب اہل بیت(ع) سے وجود میں آیا: آقائے اختری

اس موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امام خمینی (رہ) نے اہل بیت اطہار(ع) کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے طاغوتی حکومت کو شکست دی کہا: ایران کا اسلامی انقلاب در حقیقت انقلاب اہل بیت(ع) سے ہی وجود میں آیا ہے اور امام خمینی نے وہی راستہ انتخاب کیا جو اہل بیت اطہار(ع) کا راستہ تھا۔
انہوں نے امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر آئے دن اپنے شیطانی منصوبوں میں شکست کا سامنا ہے اور علاقائی ممالک مخصوصا عراق، شام اور ایران کے خلاف اس کی تمام پالیسیاں شکست سے دوچار ہو چکی ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: امریکہ کی نسبت نفرت پوری دنیا میں دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ایران کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا کے بڑے بڑے ممالک ایران پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کو تیار ہیں۔

<<  1 2 3 4 [56 7 8 9  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
8*3=? سیکورٹی کوڈ