اسمبلی کی خبریں

مهلت ثبت نام جایزه جهانی ۱۱۴ تا بیستم تیر ماه تمدید شد
  • تصویری رپورٹ/ اہل البیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں

    تصویری رپورٹ/ اہل البیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں "یاس انٹرنیشنل اینوویشن سینٹر" کا افتتاح

    اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں "یاس انٹرنیشنل اینوویشن سینٹر کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی، سائنس و ٹکنالوجی کے نائب صدر ڈاکٹر سورنا ستاری، اسمبلی کی بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد جواد زارعان اور اہل البیت انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ جازاری معموئی بھی موجود تھے۔

  • تصویری رپورٹ/ کتاب

    تصویری رپورٹ/ کتاب "مغرب میں شیعہ سفیر" کی تقریب نقاب کشائی

    جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے اسلامی مرکز امام علی (ع) کی مسجد کے سب سے پہلے امام جماعت حجۃ الاسلام و المسلمین محمد محققی لاہیجی کی خدمات اور فعالیتوں کے حوالے سے لکھی گئی کتاب "مغرب میں شیعہ سفیر" کی رونمائی کی تقریب ۱۲ جولائی کو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی، مرکز دستاویزات انقلاب اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین مصطفیٰ پوری محمدی امور حج و زیارات میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام و المسلمین سید علی قاضی عسکر دفتر رہبری کے شعبہ بین الاقوامی امور کے نائب سربراہ ڈاکٹر مہدی مصطفوی، ہیمبرگ اسلامی مرکز کے امام حجۃ الاسلام و المسلمین محمد ہادی مفتح اور سازمان فرہنگ و ارتباطات کے سربراہ ڈاکٹر ابوذر ابراہیمی ترکمان موجود تھے۔

  • تصویری رپورٹ/ حجۃ الاسلام حسینی مزاری کی آیت اللہ رمضانی سے ملاقات/ افغانستان کے حالات پر گفتگو

    تصویری رپورٹ/ حجۃ الاسلام حسینی مزاری کی آیت اللہ رمضانی سے ملاقات/ افغانستان کے حالات پر گفتگو

    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے افغان رکن حجۃ الاسلام و المسلمین سید عیسی حسینی مزاری نے اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی سے ملاقات اور افغانستان کے حالات پر گفتگو کی۔ اس ملاقات میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر محمد جواد زارعان بھی موجود تھے۔

  • آیت اللہ رمضانی: پاکستان میں مسلم علماء یونین تشکیل پانا چاہیے/ راجہ ناصر: ایم ڈبلیو ایم پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے

    آیت اللہ رمضانی: پاکستان میں مسلم علماء یونین تشکیل پانا چاہیے/ راجہ ناصر: ایم ڈبلیو ایم پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے

    مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تہران میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات اور گفتگو کی۔
    آیت اللہ رمضانی نے ملاقات کے دوران پاکستان میں شیعوں کی موجودگی کو ایک عظیم سرمایہ قرار دیا اور معاشرے کے مختلف طبقات منجملہ علماء، بزرگان، نوجوان اور عام لوگوں کے لیے تعلیمی پروگرام ڈیزائن کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    انہوں نے تحقیقی سرگرمیوں کو انتہائی اہم قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ سامعین اور مخاطبین کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نصاب اور پروگرام تیار کیا جائے۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مجلس وحدت مسلمین کی اتحاد اور ہمدلی کے راستے پر جاری تحریک کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان میں مسلم علماء یونین کی تشکیل کی ضرورت کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا: شیعہ فکر یہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں مظلوم کا دفاع کیا جائے، لہذا اسلام میں مزاحمت کے موضوع کو اچھی طرح واضح کیا جائے اور اسلام میں مزاحمت کی بحث کو انتہاپسندی کے افکار و طرز عمل سے الگ کیا جائے۔
    انہوں نے اسلامی میں جہاد اور مزاحمت کی اہمیت کے بارے میں کہا: قرآن کریم میں 400 آیتیں جہاد سے متعلق ہیں اور یہ چیز اسلام میں جہاد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اسلامی مزاحمت در حقیقت وہی اسلامی رحمت ہے۔
    آیت اللہ رمضانی نے اربعین پیدل مارچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس بات کی ضرورت ہے کہ اربعین کے موسم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزاحمت کے مسئلے کو واضح کیا جائے اور سامراجیت کے خلاف مقابلے کی ضرورت سے آگاہ کیا جائے۔
    مجلس وحدت مسلمین پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے
    حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اس ملاقات میں کہا: شہید عارف حسینی کے دور حیات میں پاکستان میں شیعہ تحریک اپنے عروج پر تھی، لیکن آپ کی شہادت کے بعد حالات بدل گئے اور علماء حاشیے میں چلے گئے، اسی وجہ سے ہم نے مجلس وحدت مسلمین کو تاسیس کیا تاکہ علماء دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکیں۔
    انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے اصولوں اور سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان پر حاکم فکر امام خمینی (رہ) اور رہبر انقلاب اسلامی کی فکر ہے ہمارے اہداف میں سے ایک تمام مستضعفین چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی یہاں تک کہ غیر مسلمان جیسے سیکھ اور عیسائی، سب کی مدد کرنا ہے۔
    علامہ راجہ ناصر نے مزید کہا: اہل سنت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اس لیے کہ ہمارا ایک اہم نظریہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہے۔

  • احمدی تبار: دشوار حالات میں میراث اہل بیت(ع) کا احیاء صرف علامہ خرسان کا خاصہ تھا

    احمدی تبار: دشوار حالات میں میراث اہل بیت(ع) کا احیاء صرف علامہ خرسان کا خاصہ تھا

    "میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں آیت اللہ سید محمد مہدی الخرسان کا کردار" کے عنوان سے علامہ خرسان کے اعزاز میں منعقد کئے جانے والے سیمینار کا پری سیشن ابناء الرسول کی علمی کمیٹی کی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے قم میں اسمبلی کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسملبی کے شعبہ علمی و ثقافتی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے اس نشست میں کہا: علامہ الخرسان سیمینار جو مذہب اہل بیت(ع) کی راہ میں انجام پانے والی خدمات کو متعارف کروانے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے حوزہ علمیہ قم اور نجف میں اس کا خاصا استقبال ہوا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا: علامہ خراساں کی کاوشوں میں سے ایک پہلو اہل بیت (ع) کے علمی ورثے کا احیاء ہے۔ یہ کام اگر ایک تحقیقی کام نہیں ہے تو کسی تحقیق سے کم بھی نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا: "جو بھی شخص تاریخ کو جاننا اور اس کے طول و عرض کو واضح کرنا چاہتا ہے، اس کے پاس اس بنیاد پر کام کرنے کے لیے اچھے مبانی کا ہونا ضروری ہے"۔
    حجت الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے کہا: علامہ خورسان نے یقینی امور کے علاوہ ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے پیش کیا ہے اور بہت سی جگہوں پر حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور کچھ معاملات میں دوسروں سے اختلاف بھی کیا ہے جو اس بزرگ عالم دین کی عظیم کاوشوں کو ظاہر کرتا ہے۔
    انہوں نے کہا: آج ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے چالیس سال بعد شیعہ منابع کے حوالے سے جب گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کافی کام انجام پایا ہے لیکن علامہ الخرسان کے زمانے میں اہل تشیع کے لیے فضا ہموار نہیں تھی اور محدود شرائط اور مختصر سہولیات تھیں اس کے باوجود جو کارنامے انہوں نے انجام دیے وہ انتہائی دشوار حالات میں انجام دئیے۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے کہا: خدا کے نیک بندوں کا تذکرہ کرنا آثار و برکات کا حامل ہوتا ہے۔ لہذا علامہ الخرسان جیسی شخصیتوں کی یاد میں سیمینار کا انعقاد ذکر کی مجالس کا مصداق ہے۔

خبریں

تصویری رپورٹ/ اہل البیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں

تصویری رپورٹ/ اہل البیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں "یاس انٹرنیشنل اینوویشن سینٹر" کا افتتاح

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں "یاس انٹرنیشنل اینوویشن سینٹر کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی، سائنس و ٹکنالوجی کے نائب صدر ڈاکٹر سورنا ستاری، اسمبلی کی بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد جواد زارعان اور اہل البیت انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ جازاری معموئی بھی موجود تھے۔

تصویری رپورٹ/ کتاب

تصویری رپورٹ/ کتاب "مغرب میں شیعہ سفیر" کی تقریب نقاب کشائی

جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے اسلامی مرکز امام علی (ع) کی مسجد کے سب سے پہلے امام جماعت حجۃ الاسلام و المسلمین محمد محققی لاہیجی کی خدمات اور فعالیتوں کے حوالے سے لکھی گئی کتاب "مغرب میں شیعہ سفیر" کی رونمائی کی تقریب ۱۲ جولائی کو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی، مرکز دستاویزات انقلاب اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین مصطفیٰ پوری محمدی امور حج و زیارات میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام و المسلمین سید علی قاضی عسکر دفتر رہبری کے شعبہ بین الاقوامی امور کے نائب سربراہ ڈاکٹر مہدی مصطفوی، ہیمبرگ اسلامی مرکز کے امام حجۃ الاسلام و المسلمین محمد ہادی مفتح اور سازمان فرہنگ و ارتباطات کے سربراہ ڈاکٹر ابوذر ابراہیمی ترکمان موجود تھے۔

تصویری رپورٹ/ حجۃ الاسلام حسینی مزاری کی آیت اللہ رمضانی سے ملاقات/ افغانستان کے حالات پر گفتگو

تصویری رپورٹ/ حجۃ الاسلام حسینی مزاری کی آیت اللہ رمضانی سے ملاقات/ افغانستان کے حالات پر گفتگو

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے افغان رکن حجۃ الاسلام و المسلمین سید عیسی حسینی مزاری نے اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی سے ملاقات اور افغانستان کے حالات پر گفتگو کی۔ اس ملاقات میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر محمد جواد زارعان بھی موجود تھے۔

آیت اللہ رمضانی: پاکستان میں مسلم علماء یونین تشکیل پانا چاہیے/ راجہ ناصر: ایم ڈبلیو ایم پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے

آیت اللہ رمضانی: پاکستان میں مسلم علماء یونین تشکیل پانا چاہیے/ راجہ ناصر: ایم ڈبلیو ایم پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تہران میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات اور گفتگو کی۔
آیت اللہ رمضانی نے ملاقات کے دوران پاکستان میں شیعوں کی موجودگی کو ایک عظیم سرمایہ قرار دیا اور معاشرے کے مختلف طبقات منجملہ علماء، بزرگان، نوجوان اور عام لوگوں کے لیے تعلیمی پروگرام ڈیزائن کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے تحقیقی سرگرمیوں کو انتہائی اہم قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ سامعین اور مخاطبین کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نصاب اور پروگرام تیار کیا جائے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مجلس وحدت مسلمین کی اتحاد اور ہمدلی کے راستے پر جاری تحریک کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان میں مسلم علماء یونین کی تشکیل کی ضرورت کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا: شیعہ فکر یہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں مظلوم کا دفاع کیا جائے، لہذا اسلام میں مزاحمت کے موضوع کو اچھی طرح واضح کیا جائے اور اسلام میں مزاحمت کی بحث کو انتہاپسندی کے افکار و طرز عمل سے الگ کیا جائے۔
انہوں نے اسلامی میں جہاد اور مزاحمت کی اہمیت کے بارے میں کہا: قرآن کریم میں 400 آیتیں جہاد سے متعلق ہیں اور یہ چیز اسلام میں جہاد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اسلامی مزاحمت در حقیقت وہی اسلامی رحمت ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے اربعین پیدل مارچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس بات کی ضرورت ہے کہ اربعین کے موسم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزاحمت کے مسئلے کو واضح کیا جائے اور سامراجیت کے خلاف مقابلے کی ضرورت سے آگاہ کیا جائے۔
مجلس وحدت مسلمین پر حاکم فکر امام خمینی اور رہبر انقلاب کی فکر ہے
حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اس ملاقات میں کہا: شہید عارف حسینی کے دور حیات میں پاکستان میں شیعہ تحریک اپنے عروج پر تھی، لیکن آپ کی شہادت کے بعد حالات بدل گئے اور علماء حاشیے میں چلے گئے، اسی وجہ سے ہم نے مجلس وحدت مسلمین کو تاسیس کیا تاکہ علماء دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکیں۔
انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے اصولوں اور سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان پر حاکم فکر امام خمینی (رہ) اور رہبر انقلاب اسلامی کی فکر ہے ہمارے اہداف میں سے ایک تمام مستضعفین چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی یہاں تک کہ غیر مسلمان جیسے سیکھ اور عیسائی، سب کی مدد کرنا ہے۔
علامہ راجہ ناصر نے مزید کہا: اہل سنت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اس لیے کہ ہمارا ایک اہم نظریہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہے۔

احمدی تبار: دشوار حالات میں میراث اہل بیت(ع) کا احیاء صرف علامہ خرسان کا خاصہ تھا

احمدی تبار: دشوار حالات میں میراث اہل بیت(ع) کا احیاء صرف علامہ خرسان کا خاصہ تھا

"میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں آیت اللہ سید محمد مہدی الخرسان کا کردار" کے عنوان سے علامہ خرسان کے اعزاز میں منعقد کئے جانے والے سیمینار کا پری سیشن ابناء الرسول کی علمی کمیٹی کی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے قم میں اسمبلی کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسملبی کے شعبہ علمی و ثقافتی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے اس نشست میں کہا: علامہ الخرسان سیمینار جو مذہب اہل بیت(ع) کی راہ میں انجام پانے والی خدمات کو متعارف کروانے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے حوزہ علمیہ قم اور نجف میں اس کا خاصا استقبال ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: علامہ خراساں کی کاوشوں میں سے ایک پہلو اہل بیت (ع) کے علمی ورثے کا احیاء ہے۔ یہ کام اگر ایک تحقیقی کام نہیں ہے تو کسی تحقیق سے کم بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: "جو بھی شخص تاریخ کو جاننا اور اس کے طول و عرض کو واضح کرنا چاہتا ہے، اس کے پاس اس بنیاد پر کام کرنے کے لیے اچھے مبانی کا ہونا ضروری ہے"۔
حجت الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے کہا: علامہ خورسان نے یقینی امور کے علاوہ ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے پیش کیا ہے اور بہت سی جگہوں پر حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور کچھ معاملات میں دوسروں سے اختلاف بھی کیا ہے جو اس بزرگ عالم دین کی عظیم کاوشوں کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: آج ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے چالیس سال بعد شیعہ منابع کے حوالے سے جب گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کافی کام انجام پایا ہے لیکن علامہ الخرسان کے زمانے میں اہل تشیع کے لیے فضا ہموار نہیں تھی اور محدود شرائط اور مختصر سہولیات تھیں اس کے باوجود جو کارنامے انہوں نے انجام دیے وہ انتہائی دشوار حالات میں انجام دئیے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ نے کہا: خدا کے نیک بندوں کا تذکرہ کرنا آثار و برکات کا حامل ہوتا ہے۔ لہذا علامہ الخرسان جیسی شخصیتوں کی یاد میں سیمینار کا انعقاد ذکر کی مجالس کا مصداق ہے۔

ربانی: میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں علامہ خرسان کا کردار بے مثال ہے

ربانی: میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں علامہ خرسان کا کردار بے مثال ہے

جمعرات, 08 جولائی 2021

"میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں علامہ خرسان کا کردار" کے عنوان سے علامہ خرسان کے اعزاز میں منعقد کئے جانے والے سیمینار کا پری سیشن ابناء الرسول کی علمی کمیٹی کی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے قم میں اسمبلی کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔
ابناء الرسول کانگریس کی علمی کمیٹی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد تقی ربانی نے کہا: ہم دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ دو دہائیوں میں دنیا کے مختلف حصوں خاص طور پر عالم اسلام میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "داعش اور تکفیری تحریکوں جیسے واقعات کو حالیہ دہائیوں میں پیش آنے والے واقعات کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔"
حجۃ الاسلام ربانی نے کہا: "مذہب اہل بیت(ع) کے پیروکار ہونے کے ناطے، اگر ہم دنیا کے میدان میں سربلند ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں لازمی طور پر عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے افکار کو پیش کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا: علامہ خرسان کا ایک ایسے بزرگ شیعہ گھرانے سے ہے جنہوں نے حرم مطہر امیر المومنین (ع) میں خدمات انجام دی ہیں اور تعلیمات اہل بیت(ع) کو عام کرنے میں انتھک کوشش کی ہے۔
ربانی نے کہا: میراث اہل بیت (ع) کو احیاء کرنے میں علامہ خرسان کا کردار بے مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا: علامہ خرسان کے اعزاز میں سیمینار امام محمد باقر (ع) کی ولادت باسعادت کے موقع پر پہلی رجب کو قم میں اور ۲۲ رجب کو نجف اشرف میں منعقد ہو گا۔

مختاری: میراث اہل بیت(ع) کا احیاء علامہ خرسان کا اہم ترین اقدام تھا

مختاری: میراث اہل بیت(ع) کا احیاء علامہ خرسان کا اہم ترین اقدام تھا

جمعرات, 08 جولائی 2021

"میراث اہل بیت(ع) کے احیاء میں علامہ خرسان کا کردار" کے عنوان سے علامہ خرسان کے اعزاز میں منعقد کئے جانے والے سیمینار کا پری سیشن ابناء الرسول کی علمی کمیٹی کی جانب اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے تعاون سے قم میں اسمبلی کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔
اس نشست میں رضا مختاری نے کہا: علامہ خرسان کی قابل توجہ فعالیتوں میں سے ایک میراث اہل بیت(ع) کا احیاء ہے یہ کام ایک بھاری اور طاقت فرسا علمی کام ہے۔
شیعہ کتب شناسی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: علمی میراث کو احیاء کرنے کی پہلی شرط ان متون کی تصحیح اور درست تفہیم ہے۔ خرسان خاندان اس سلسلے میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: بحار الانوار کی دس جلدوں میں سے ۹ جلدوں کی تصحیح علامہ خرسان کے عظیم کاموں میں سے ایک ہے۔
مختاری نے کہا: ابن ادریس کے مکمل دورے کی تصحیح علامہ خرسان کا دوسرا عظیم الشان کارنامہ ہے وہ بھی اس زمانے میں جب بالکل سہولیات نہیں تھیں یہاں تک کہ خطی کتابوں کی فہرست بندی تک موجود نہیں تھی۔
انہوں نے کہا: اس زمانے میں کتب خانوں تک رسائی انتہائی دشوار تھی، ان مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے علامہ خرسان کی زحمتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: بحار الانوار کی 9 جلدوں کے شروع میں انہوں نے تصحیح کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو بیان کیا ہے۔
مختاری نے آخر میں کہا: کتاب شیعہ افکار کے آرٹیکل 9 اور 10 میں علامہ خرسان کی سوانح حیات کو بیان کیا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ: کامیاب ممالک کو نمونہ عمل بنانا مغرب کی پیروی نہیں

اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ: کامیاب ممالک کو نمونہ عمل بنانا مغرب کی پیروی نہیں

بدھ, 07 جولائی 2021

ملک میں سائنسی سفارتکاری کی بحث دو دہائیاں قبل شروع ہوگئی تھی ، لیکن حالیہ برسوں میں اسے زیادہ سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور بعض علمی مقاصد کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ملک کی بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے دوش پر ہے۔
اہل بیت (ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی نے ملک کی ایک بین الاقواقی یونیورسٹی ہونے کی حیثیت سے غیر ملکی طلبہ کو نظریاتی علوم کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ، سائنس اور ٹکنالوجی کے نائب صدر کے تعاون سے "یاس انوویشن سینٹر" کا افتتاح کیا ہے تاکہ انقلاب کے دوسرے مرحلے کے مقاصد کی راہ میں عالم اسلام کے تعلیمی اور تحقیقی مراکز کے ساتھ تعاون کر سکیں۔
انہوں نے کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ افریقہ اور ایشیاء کے بہت سارے ممالک میں تعلیم یافتہ افراد اور یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد ان امور کے انچارج ہیں۔ ہمیں ترقی پذیر ممالک میں اس علمی سفارتکاری کو سنجیدگی سے لینا ہو گا اور انقلاب کے دوسرے مرحلے میں ہمیں علمی سفارتکاری پر خصوصی توجہ دینا ہو گی، جیسا کا رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا تھا۔
فرانس میں سوربون یونیورسٹی کے پروفیسر نے ملک میں علمی سفارت کاری کے تاریخچہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "بہت سے ممالک جن کے پاس ہمارے جیسی نعمتیں نہیں ہیں وہ علمی سفارتکاری کے میدان میں تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں ملک میں طلبہ کی تعداد ملکی سہولیات کے مطابق نہیں ہے۔ وزارت علوم کے اعدادوشمار کے مطابق ، ملک میں 42،000 غیر ملکی طلباء ہیں، کیا واقعی یہ تعداد ایران جیسے ملک کے مناسب ہے اور کیا ہم اس ملک میں طلبا کی صرف اتنی تعداد کی میزبانی کے شرائط فراہم کرسکتے ہیں؟! یا نہیں ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ طلبہ کو داخلہ دینے کی شرائط موجود ہونا چاہیے؟ اپنی طرف سے ، میں کوشش کر رہا ہوں کہ اس یونیورسٹی کے ذریعے علمی سفارتکاری کے میدان میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے ، جو انقلاب اسلامی کے ہمدرد نوجوان ہیں، ملک میں اس تعداد کو بڑھائیں اور زیادہ طلباء کو ایران لانے کی کوشش کریں۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا علمی سفارتکاری کے اہداف کی پیشرفت صرف نظریاتی علوم سے ہی ممکن ہے یا نہیں ، جازاری نے وضاحت کی: پہلے، ہم علوم انسانی کے شبعہ میں بھی اس مقام پر نہیں ہیں جہاں ہونا چاہیے۔ ہم علوم انسانی کے کچھ نظریات کو لے کر مغرب پر تنقید کرتے ہیں، لیکن ہم جتنی بھی تنقید کریں، پھر بھی ہمیں یہ اعتراف کرنا ہو گا کہ مغرب کے پاس علوم انسانی کے میدان میں اپنے نظریات ہیں اور وہ انہیں نظریات کی بنا پر اپنے تکنیکی علوم اور ٹکنالوجی کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: "جب ہم جرمنی، فرانس یا سوئٹزرلینڈ جیسے ملکوں کا یونیورسٹیوں کو مختلف اعتبار سے جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے حتیٰ علوم انسانی میں بھی ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔
اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ نے کہا: ہمیں بغیر تکلف کے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم علوم انسانی کے میدان میں بھی بہت کمزور ہیں اور ہمارے کھوکھلے دعوے اس بات کا باعث بن رہے ہیں کہ ہم دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتے جائیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمیں علمی سفارتکاری کے میدان میں علوم انسانی اور علوم تکنیکی دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے اس لیے کہ دونوں کے لیے ایران میں پلیٹ فارم مہیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[12 3 4 5  >>  

ملحقہ مراکز اور ویب سائٹس

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
7+8=? سیکورٹی کوڈ