سیکریٹری جنرل سے متعلق خبریں

موصل کی آزادی پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کی عراقی وزیر اعظم کو مبارک باد پیش

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین

محمد حسن اختری نے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کو اپنے پیغام کے ذریعے موصل کی آزادی اور

دھشتگرد ٹولے داعش کے مقابلے میں فوج کو حاصل ہوئی کامیابی پر مبارک باد پیش کی ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عراق کی دلیر اور شجاع قوم نے مرجعیت کی رہبری میں ان تمام

پروپگنڈوں کو ناکام بنا دیا جو اتحاد، دینی استقلال اور عزت و سربلندی کو نشانہ بنا رہے تھے۔


حجۃ الاسلام و المسلمین آقائے اختری نے کہا کہ میں عراق کے بہادر مجاہدوں، مرجعیت کے فرزندوں اور اس

ملک کی شجاع فوج کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان شہیدوں پر درود بھیجتا ہوں جنہوں نے اس ملک کی

سالمیت اور کامیابی کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔


انہوں نے کہا عراق کی کامیابیاں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا دچکا ہے جو عراق کو ایک کمزور ملک سمجھ

بیٹھے تھے لیکن اب دھشتگردوں کی حمایت کرنے والوں کے پاس سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں بچا

ہے۔

جنت البقیع کے مسمار شدہ مزار کی پرانی تصویر کی رونمائی+ تصاویر

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آٹھ سال قبل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجۃ السلام و المسلمین محمد حسن اختری نے جنت البقیع کے قبرستان اور چار اماموں کے روضے کی بے مثال تصویر کی رونمائی کی۔
جنت البقیع کی یہ پرانی تصویر جو استنبول یونیورسٹی کی لائبریری نے اسمبلی کو بھیجی تھی کو ایک فریم میں بند کروا کر تہران میں اسمبلی کے دفتر میں اسکی رونمائی کی۔
یہ تصویر ۱۳۰۳ ہجری قمری بمطابق ۱۸۸۶ میلادی کی ہے جسے ترکی کے سلطان عبد الحمید دوم نے اپنے ذاتی آرشیو میں رکھا ہوا تھا اور بعد میں اسے استنبول یونیورسٹی کی لائبریری میں منتقل کر دیا گیا۔
یہ تصویر اس دور کی ہے جب حرمین شریفین عثمانی ترکوں کے زیر تولیت تھا اور اس دور میں جنت البقیع میں پائی جانے والی ائمہ طاہرین کی قبروں پر روضے بنے ہوئے تھے جنہیں بعد میں سعودی وہابیوں نے مسمار کر دیا۔

اسلامی انقلاب شہداء کے خون اور عقلمند رہبر کی رہنمائی سے آگے بڑھ رہا ہے: آقائے اختری

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  ایران کے شہر کرمان میں آیت اللہ شہید بہشتی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی سالگرہ کے عنوان سے گزشتہ شب منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی نے اس دہائی کو مظلومیت کی دہائی سے تعبیر کیا ہے جس میں آیت اللہ شہید بہشتی اور ان کے ۷۲ ساتھی مظلومانہ طریقے سے پارلیمنٹ میں دھماکے کے ذریعے شہید کئے گئے۔
انہوں نے ملک میں پائے جانے والے امن و سکون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی انقلاب آج شہداء کے خون کی برکت اور عقلمند، دانا، سیاست مدار اور دانشور رہبر کی رہبریت کی بدولت امن و شانتی کے ساتھ ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔
آقائے اختری نے مزید کہا: آج اقوام عالم کے اندر بیداری پیدا ہو رہی ہے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلمانوں کے اندر بھی بیداری کی کرنیں پھوٹ چکی ہیں۔
انہوں نے کہا: تیرہ سو ساٹھ (ایرانی سال) کی دہائی میں دشمن پورے منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اترا تاکہ موقع ملتے ہی انقلاب کے طومار کو لپیٹ دے اور اسلامی نظام حکومت کی شمع کو ہمیشہ کے لیے گل کر دے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: امام خمینی(رہ) نے اپنی آگاہانہ تدبیر سے اس وقت جب پارلیمنٹ کی اکثریت کو شہید کر کے نظام حکومت کی کشتی میں لرزہ پیدا کر دیا تھا ایران کے اسلامی معاشرے کی امیدوں پر پانی نہیں پھرنے دیا اور اسلامی انقلاب کی ڈگمگاتی ہوئی کشتی کو استحکام بخش دیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ منافق دشمن کس طریقے سے اسلامی جمہوری نظام کو ختم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور ہر طرح کے جرم کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
انہوں نے ایرانی معاشرے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہوشیار رہیں دشمن ان افراد کو اپنے زیر اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے جو بے دین ہیں، بے ایمان، خود باختہ اور ضعیف العقیدہ ہیں چاہے شیعہ ہوں یا سنی۔ داعش جیسے ٹولوں نے ایسے ہی افراد سے فائدہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ ایسے ماحول میں ایران کے شیعہ سنی معاشرے میں بہت زیادہ اتحاد اور ہمدلی کی ضرورت ہے۔

عالم اسلام بحرین میں آل خلیفہ کے جرائم کا ذمہ دار/ آل سعود نے انسان اور انسانیت کی کوئی عزت باقی نہیں چھوڑی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے شہدائے مزاحمت کی یاد میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے قم میں مراجع عظام اور علماء کرام کی موجودگی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے شہداء بحرین کو خراج تحسین پیش کیا۔
 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بحرین کے مظلوم شہداء کو راہ حق کے شہید اور مکتب اہل اہل بیت(ع) کے مدافع قرار دیتے ہوئے بارگاہ خداوندی سے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: صدر اسلام سے ہی شہادت کو ایک عظیم مقام کے عنوان سے جانا جاتا تھا امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو لکھے ہوئے اپنے خط میں اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ خداوند عالم ہم دونوں کی زندگیوں کا شہادت پر خاتمہ کرے۔
انہوں نے کہا: حریم فقاہت کے مدافع شہداء عظیم مقام پر فائز ہوئے ہیں خداوند عالم قیامت میں شہداء کے نامہ اعمال کو ظاہر نہیں کرے گا اور شہادت کی وجہ سے ان کے نامہ اعمال چھپا دئے جائیں گے۔
انہوں نے آل خلیفہ حکومت کے تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ حکومت نے ان شہداء کے جنازوں کو ان کے گھر والوں کو نہیں دیا اور انہیں مخفی طور پر دفن کر دیا، میں شہدائے بحرین کے گھر والوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایسے جوان تربیت کئے ہیں۔
حجۃ الاسلام اختری نے کہا: یہ شہداء جنہوں نے اسلام اور مکتب اہل بیت(ع) کے دفاع کی راہ میں اپنی قربانیاں پیش کی ہیں یہ پوری امت کے شہداء ہیں نہ صرف بحرین کے۔
 انہوں نے عراق میں آل سعود کے ناپاک عزائم کی طرف اشارہ کیا اور کہا: عراق کے اعلی فوجی افسر نے ایک ایرانی عہدیدار سے کہا تھا کہ اگر ایران، رہبر انقلاب اور مجاہدین نہ ہوتے تو حرم امام حسین (ع) کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے آل سعود کے تاریخچہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ خاندان یہودیوں کی نسل میں سے ہے انہوں نے جنت البقیع کو مسمار کرنے کے بعد کربلا پر حملہ کیا، وہابی مفتیوں نے تمام اہل تشیع کے قتل عام کا فتویٰ دیا، لیکن وہ نہیں جانتے کہ مکتب اہل بیت(ع) ایسا شجرہ طیبہ ہے جسکی جڑوں کو اکھاڑنا اتنا آسان نہیں، آل سعود اور ان سے پہلے بنی امیہ نے اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کو ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، لیکن خداوند عالم کا ارادہ ہے کہ مکتب اہل بیت(ع) کا نور کبھی خاموش نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی نے بارہا فرمایا ہے کہ مستقبل اسلام اور مکتب اہل بیت(ع) کا ہے یہ ایک قرآنی وعدہ ہے جو یقینا تحقق پا کر رہے گا۔

مسجدوں میں حاضری سے مومنین کے اندر بصیرت، محبت اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماہ مبارک رمضان کی آمد کے موقع پر مساجد کی صفائی کے عشرے میں اہل

بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو

کرتے ہوئے کہا: مساجد اللہ کا گھر اور الہی فرامین کو انجام دینے کے مقدس مقامات ہیں لہذا مسجدیں

مسلمانوں کے افکار کو ایک دوسرے سے قریب کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔


انہوں نے مزید کہا: لوگوں کا مسجدوں میں حاضر ہونا ایک دوسرے سے قربت، محبت اور ہمدردی کا باعث بنتا

ہے لہذا ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مسجدوں کی طرف راغب کریں تاکہ ان میں

یکجہتی، اتحاد، محبت اور باہمی تعاون کا جذبہ پیدا ہو


جناب حجۃ الاسلام اختری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مسجد لوگوں کے درمیان محبت اور الفت

پیدا کرنے کا ایک بنیادی مرکز ہے، کہا: مختلف طبقوں اور قبیلوں کے لوگوں کے مسجدوں میں ایک ساتھ اکٹھا

ہونے سے ان کے درمیان تبادل آراء کا بستر مہیا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے افکار اور تجربات سے آگاہی کا

موجب بنتا ہے اور در نتیجہ ان میں بصیرت پیدا ہوتی ہے۔


انہوں نے کہا: مساجد میں مختلف پروگراموں کے انعقاد، علماء کی تقاریر اور دینی گفتگو سے مومنین کی

معلومات میں اضافہ اور دینی شعور اجاگر ہوتا ہے۔


اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے متعدد بار فرمایا

ہے کہ مسجدوں وغیرہ میں تعلیمی کلاسوں کے انعقاد کے ذریعے سماج کی بالیدگی میں تعاون کریں اس

لیے کہ اس صورت میں مساجد کو اتحاد، یکجہتی، محبت اور ہمدلی کے مراکد میں تبدیل کیا جاتا سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کے گھر عصر حاضر میں سافٹ وار کے مقابلے میں اہم مورچوں کا رول ادا کر سکتے

ہیں اور دشمنوں کی طرف سے ہونے والی ثقافتی یلغار کا بخوبی مقابلہ کر سکتے ہیں۔


محمد حسن اختری نے کہا کہ دشمن یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مسجدیں خالی ہو جائیں، غیر فعال ہو

جائیں لیکن ہمیں انہیں فعال کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اس لیے کہ اللہ کے گھروں کا فعال ہونا سماجی

مشکلات کو دور کرنے کا سبب بنے گا۔

افریقہ کے شیعہ سنی علماء کی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مغربی افریقہ کے بعض شیعہ اور سنی علماء نے ایران کے دار الحکومت تہران میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات اور گفتگو کی۔
اس ملاقات میں حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے مذہب تشیع کی شناخت کے بارے میں مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم پیروان اہل بیت(ع)، اہل بیت رسول (ع) کو مقدس مانتے اور ان کی حقانیت پر محکم عقیدہ رکھتے ہیں چونکہ قرآن کریم اور احادیث نبوی (ص) اہل بیت(ع) کی پیروی کو واجب جانتے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بہت سارے اسلامی فرقے، فقہی اعتبار سے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام کے ذریعے امام علی علیہ السلام تک پہنچتے ہیں کہا: امام ابو حنیفہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے انہوں نے فقہ اور حدیث کا علم امام جعفر صادق علیہ السلام سے حاصل کیا، امام مالک اور امام شافعی بھی اسی طرح ان کے شاگرد تھے۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں وہابیت کے اہل تشیع کے خلاف جاری پروپیگنڈوں کی طرف اشارہ کیا اور اس شبہہ کے جواب میں جو کہا جاتا ہے کہ اہل تشیع قائل ہیں ’’جبرئیل بھول کر وحی پیغمبر اکرم کے پاس لے گئے ورنہ نبی علی تھے‘‘ کہا: امیر المومنین علی علیہ السلام کی کتاب نہج البلاغہ اور اسی طرح ان کی دوسری کتابوں میں پیغمبر اکرم(ص) کی تعریف و تمجید موجود ہے جس سے یہ شبہہ دور ہو جاتا ہے کہ اگر علی خود نبی ہوتے تو کبھی پیغمبر اکرم کی نبوت کی تعریف نہ کرتے، یہ صرف دشمنان اہل بیت(ع) کا پروپیگنڈہ ہے۔
جناب اختری صاحب نے مراجع عظام کی نظر میں اہل سنت کے مقدسات کی توہین کے بارے میں کہا: رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر مراجع تقلید صحابہ پر لعنت بھیجنے اور ان کی توہین کرنے کو جائز نہیں سمجھتے۔

انہوں نے اسلامی مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہمدلی کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: اسلامی انقلاب کے آغاز میں امام خمینی(رہ) اور ان کے بعد حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت اور تکفیری ٹولوں کے بھیانک خطرات سے آگاہ کرتے آئے ہیں اس حوالے سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی آپ تمام علماء کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہم اس اسلام پر جو وحدت کا قائل ہے ایمان رکھتے ہیں کہا: ہمارا شیعوں کا اور آپ کا قرآن ایک ہی ہے۔ ہم آج آپ کو وہ قرآن کریم دیں گے جو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی سے چھپے ہیں آپ ان کو دیکھیں کہ ان میں اور آپ کے قرآنوں میں کیا فرق ہے؟ ہم تمام اسلامی فرقوں کے درمیان وحدت کے خواہاں ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے علاقے کے حالات مخصوصا یمن پر آل سعود کی جارحیت کے بارے میں کہا: آپ دیکھ رہے ہیں کہ سعودی حکام یمن کے نہتے عوام پر فضائی، زمینی اور سمندری راستوں سے جارحیت کرنے میں مصروف ہیں جبکہ اس وقت ماہ حرام یعنی شعبان کا مہینہ ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق ان مہینوں میں جنگ اور خون ریزی حرام ہے لیکن کیوں وہ حکام جو خود کو خادم الحرمین کہتے ہیں دو سال سے مسلسل یمن پر بم برسا رہے ہیں اور حرم و حلال کی کوئی تمیز نہیں کرتے۔ کیا اہل یمن مسلمان نہیں ہیں؟ عرب نہیں ہیں؟ پس کیوں وہ آل سعود کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں؟ کیا وہ قرآن اور اللہ کے کلام پر ایمان نہیں رکھتے؟ حالانکہ مسلمان کا ناحق خون بہانا دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔

 انہوں نے افریقہ کے مسلمانوں کی مظلومیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: امام خامنہ ای نے بارہا فرمایا ہے کہ افریقہ کے لوگ مظلوم ہیں مغربی ممالک ان کے مال و منال کو غارت کر کے لے جاتے ہیں۔ ہم اسلامی جمہوریہ ایران میں ثقافتی میدان میں آپ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسی طرح ایران کی یونیورسٹیاں بھی آمادگی رکھتی ہیں آپ اپنے باستعداد بچوں کو ایران کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجیں۔

<<  1 2 3 4 [56  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
8-4=? سیکورٹی کوڈ