اسمبلی کی خبریں

  • تصویری رپورٹ/ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کیا لبنان میں الفکر الاسلامی مرکز کا دورہ

    تصویری رپورٹ/ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کیا لبنان میں الفکر الاسلامی مرکز کا دورہ

    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے اپنے لبنان دورے کے دوران، تحقیقاتی مرکز «مرکز الحضارة لتنمية الفكر الإسلامي» کا دورہ کیا۔ اس دورے کے ضمن میں الفکر الاسلامی مرکز اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے درمیان تحقیقات کے لیے باہمی روابط پر مبنی قرارداد بھی منعقد کی گئی۔ اس تحقیقاتی مرکز کی زیادہ تر سرگرمیاں دینی، سیاسی اور سماجی مسائل سے متعلق علمی کتابیں تالیف کرنا ہیں۔ یہ مرکز دنیا کی معروف کتاب نمائشوں میں بھی حصہ لیتا اور اپنی کتابیں ان نمائشوں میں پیش کرتا ہے۔ عرب ممالک کے علاوہ کئی مغربی ممالک بھی اس تحقیقاتی مرکز کی کتابیں خریدتے ہیں۔ اس مرکز کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اس میں تفرقہ اور اختلاف سے دور رہتے ہوئے علمی کام ہوتا ہے۔

  • قندھار کی جنایت شیعہ نسل کشی کے پیچھے منظم سازش کو ظاہر کرتی ہے/ ان جرائم کے مقابلے میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی دینی برادری پر سوالیہ نشان ہے

    قندھار کی جنایت شیعہ نسل کشی کے پیچھے منظم سازش کو ظاہر کرتی ہے/ ان جرائم کے مقابلے میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی دینی برادری پر سوالیہ نشان ہے

    اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے جنوبی افغانستان میں شیعوں کی نماز جمعہ پر کیے گیے دہشت گردانہ حملے میں داعش کی شدید مذمت کی ہے۔

    اسمبلی نے اپنے بیان میں قندھار میں ہونے والے جرائم کو شیعوں کی نسل کشی کے لیے ایک منظم سازش کی علامت قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کے بڑے مراکز اور شخصیات نیز اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی ان غیر انسانی جرائم پر خاموشی ، تمام انسانیت کی بنیادوں اور دینی برادری پر سوالیہ نشان ہے۔

    بیان کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ: طالبان کے داعش سے نمٹنے کے وعدوں کے باوجود ، طالبان کی جانب سے ان دہشت گردانہ حملے کے مجرموں سے نمٹنے کے حوالے سے کسی قسم کے سنجیدہ اور مثبت اقدام کی کوئی خبر نہیں دیکھی گئی۔

    اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا متن حسب ذیل ہے:

    بسم الله الرحمن الرحیم

    وَ ما لَکُمْ لا تُقاتِلُونَ فی سَبیلِ اللّهِ وَ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ وَ الْوِلْدانِ الَّذینَ یَقُولُونَ رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْ هذِهِ الْقَرْیَةِ الظّالِمِ أَهْلُها وَ اجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیّاً وَ اجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ نَصیراً(آیه 75سوره نساء)

    برادر ملک افغانستان کے شہر قندھار کی مسجد فاطمیہ کے نمازیوں پر داعشی عناصر کا بہیمانہ اور وحشیانہ حملہ جو ۱۳۰ شیعہ مسلمانوں کے شہید اور زخمی ہونے کا باعث بنا، انتہائی افسوسناک ہے اور تمام شیعوں، اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں اور حریت پسند انسانوں کے دکھ و الم کا سبب بنا ہے۔

    یہ واقعہ جو گزشتہ ہفتے قندوز میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد رونما ہوا ، شیعوں کے دشمنوں کی منصوبہ بند سازش پر سنی بھائیوں اور سچ کے متلاشی لوگوں کے ضمیر کی بیداری کا باعث بنے گا اور اس بارے میں انہیں ضرور سوچنے پر مجبور کر دے گا۔

    قندھار میں ہونے والی جنایت شیعوں کی نسل کشی کے لیے ایک منظم سازش کو ظاہر کرتی ہے اور تکفیریت اور انتہا پسندی کا خطرہ، جو اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچانے اور اسلام کے روحانی اور انسانی چہرے کو سیاہ کرنے کا باعث ہے، تمام عالم اسلام کو خبردار کرتا ہے کہ افغانستان کے شیعوں کی فریاد کو پہنچو۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ شیعہ ہیں جو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور جنہوں نے کبھی دہشت گردانہ حملے نہیں کیے۔

    انسانی حقوق تنظیم کے بڑے بڑے مراکز اور شخصیات کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے بعض رہنماؤں کی ان غیر انسانی تباہیوں پر خاموشی تمام انسانی بنیادوں اور دینی برادری پر سوالیہ نشان ہے۔ لہٰذا یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام انسان جو ظلم اور دہشت کے مخالف ہیں قندھار میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر موقف اختیار کریں گے۔

    بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر پڑوسی ممالک کو افغانستان کو داعش کی بربریت کا میدان نہیں بننے دینا چاہیے۔

    طالبان کے داعش سے مقابلہ کرنے کے وعدوں کے باوجود، شیعوں کو اب تک قندوز میں دہشت گردانہ حملے کے مرتکب افراد سے نمٹنے کے لیے طالبان کی جانب سے سنجیدہ اور مثبت کارروائی کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔

    حالیہ واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز دہشت گرد حملوں کو روکنے میں ناکام ہیں اور لوگوں سے مدد کی اپیل کرتی ہیں ، خاص طور پر ان تقریبات کے انعقاد کے ذمہ داروں سے۔ سیکورٹی فورسز اور مساجد و دینی مراکز کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے تعاون اور مشترکہ اقدامات کا تجربہ ان مراکز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک کامیاب تجربہ ہے اور اس تجربے کو استعمال کرنا ضروری ہے۔

    اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اس دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے اور متاثرین کے دکھوں کو دور کرنے اور اہل تشیع کے حقوق کا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے نیز شہیدوں کے اہل خانہ اور ملت افغانستان کو تعزیت پیش کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ اور بارگاہ خداوندی میں ان کے لیے صبر اور ان کے عزیز شہیدوں کی مغفرت جبکہ زخمیوں کے لیے شفائے کامل و عاجل کی دعا کرتی ہے۔

    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

    ۱۷،۱۰،۲۰۲۱

  • قندوز کی شیعہ مسجد میں حالیہ خونی دھماکے پر آیت اللہ رمضانی کا ردعمل/ مجرمین کی شناخت اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے پر تاکید

    قندوز کی شیعہ مسجد میں حالیہ خونی دھماکے پر آیت اللہ رمضانی کا ردعمل/ مجرمین کی شناخت اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے پر تاکید

    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے افغانستان کے صوبہ قندوز کی شیعہ مسجد میں دھشتگردانہ دھماکے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحہ کے مجرمین کو سخت سے سخت سزا ملنا چاہیے۔
    انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بین الاقوامی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیاں اس طرح کے خوفناک واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کریں۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کے مذمتی بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    انا للہ و انا الیہ راجعون
    قندوز کی سید آباد مسجد میں داعش کے مجرم عناصر کے ہاتھوں ہوئے حالیہ دھشتگرانہ دھماکہ جس کی وجہ سے 200 سے زیادہ شیعہ نمازی شہید اور زخمی ہوئے، تمام مسلمانوں خصوصا شیعوں کے لیے شدید دکھ اور غم کا باعث بنا۔
    یہ واقعہ جو طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دھشتگردی کا سب سے بڑا واقعہ تھا ایسے حال میں رونما ہوا ہے کہ ملک میں امن کی فراہمی اور داعش کا مقابلہ طالبان کی جانب سے لوگوں اور عالمی معاشرے کو دئیے گئے وعدوں کا حصہ ہے۔
    لہذا ضروری ہے کہ اس ملک کے ذمہ داران اس وحشیانہ جرم کے مرتکب افراد کی سنجیدگی سے شناخت کریں اور انہیں ان کے کیفر کردار تک پہنچائیں اور ایسے واقعات کی تکرار کو روکیں۔
    دنیا کے تمام حق پرست، انسان دوست اور پیروکاران اہل بیت(ع) پر ضروری ہے کہ اس دردناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اپنا موقف ظاہر کریں۔
    نیز تمام انسانی حقوق اور انسداد دھشتگردی کی تنظیموں کو بھی ایسے واقعات کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی انٹیلی جنس اور سیکورٹی سروسز ان خوفناک اور افسوسناک واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کریں۔
    یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان اور دنیا بھر میں امدادی ایجنسیاں متاثرہ افراد کو خدمات فراہم کریں ، خاص طور پر ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان کی دستگیری کریں۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس دہشت گردانہ کاروائی کی شدید مذمت کرتی ہے اور شہداء کے اہل خانہ اور افغانستان کے لوگوں کو تعزیت اور تسلیت پیش کرتی ہے، نیز اس واقعے کے شہداء کے لیے الہی رحمت اور جنت جبکہ لواحقین کے لیے صبر جمیل صبر اور زخمیوں کے لیے شفائے کامل و عاجل کی دعا کرتی ہے۔

    رضا رمضانی

    سیکرٹری جنرل اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی

  • علامہ حسن زادہ آملی کے انتقال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا تعزیتی پیغام

    علامہ حسن زادہ آملی کے انتقال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا تعزیتی پیغام

    آیت اللہ حسن زادہ آملی کے انتقال پرملال پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے ایک تعزیتی پیغام دیا ہے۔
    آیت اللہ رمضانی کے پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛

    68fe29ba23cea48497edf2d82342681c_279.jpg


    بسم الله الرحمن الرحیم
    {يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَات}
    عالم ربانی، حکیم الہی، ذوالفنون علامہ آیت اللہ حسن زادہ آملی (قدس اللہ سرہ) کی رحلت نے مرحوم کے عقیدتمندوں، حق و حقیقت کے راہیوں اور اسلامی حکمت، عرفان اور معنویت کے متلاشیوں کو حزیں اور رنجیدہ کر دیا۔
    وہ ایک منفرد اور عقلی و نقلی علوم کی جامع شخصیت کے مالک تھے اور تفسیر، فقہ، اصول، حدیث، لغت، ادب، فلسفہ، کلام، اخلاق، عرفان، طب، ریاضیات، اعداد، الجبرا، فلکیات، افق، اور علوم غریبہ میں وہ ماہر تھے۔ وہ کئی زندہ زبانوں پر عبور رکھتے تھے، ان میں لکھتے اور شاعری کرتے تھے۔
    اس ممتاز عالم کا ان علوم پر غلبہ جو اس وقت مہجور ہو چکے ہیں اس قدر تھا کہ عصر حاضر میں ایسی کوئی جامع شخصیت مذکورہ علوم میں تلاش نہیں کی جا سکتی۔
    اس کے علاوہ، مرحوم علامہ حسن زادہ کو جس چیز نے مزید ممتاز بنایا وہ "علم و عمل کا مجموعہ" تھا۔ اور اسی خصوصیت نے نوجوان علماء اور طلباء کو اس عارف کی طرف راغب کیا۔ اور بہت بعید ہے کہ حوزہ ہائے علمیہ میں ایسی کوئی شخصیت اتنا جلدی پیدا ہو سکے۔
    البتہ مختلف علوم میں مرحوم کے متعدد اور متنوع آثار، ایک قیمتی ذخیرہ ہیں کہ ہر طالب علم اور مفکر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    امام خمینی(رہ) اور اسلامی انقلاب کے لیے ان کی حمایت، دفاع مقدس کے سالوں میں جنگی محاذوں پر ایک بسیجی کی صورت میں موجودگی، نیز ولایت فقیہ اور رہبر انقلاب اسلامی کی مسلسل حمایت، جہاد اکبر اور جہاد اصغر کے ساتھ علم اور دانش کے جلوے ان کے وجود میں موجود تھے۔
    میں اس ناقابل تلافی نقصان کو حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا لہ الفداء) اور رہبر انقلاب اسلامی، مراجع تقلید، حوزوی اور دانشگاہی مراکز، عرفان و علوم الہی کے عقیدمندوں، شہر آمل کے شہید پرور لوگوں، تمام شاگردوں، اور مرحوم کے پسماندگان خصوصا مرحوم کے اہل علم بیٹوں کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کرتا ہوں۔
    مرحوم حقیقت میں ائمہ طاہرین علیہم السلام کے دلدادہ تھے جس کی ایک مثال ایام فاطمیہ میں حضرت فاطمہ زہرا(س) کے تئیں آپ کی خاص محبت و عقیدت کے ساتھ اہتمام ہوا کرتا تھا۔
    لہذا اربعین حسینی کے موقع پر میں خداوند متعال سے دعا کرتا ہوں کہ مرحوم استاد علامہ حسن زادہ آملی کو اہل بیت(ع) عصمت و طہارت خصوصا مولا سید الشہداء علیہ السلام کے ساتھ محشور فرمائے، اور پسماندگان کو صبر و اجر عطا کرے۔
    وإنا لله وإنا إلیه راجعون
    رضا رمضانی
    سیکرٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

  • آیت اللہ رمضانی: اربعین تمام ادیان و مذاہب کے لیے ایک الہی اجتماع ہے/ امام حسین تمام بشریت سے متعلق ہیں

    آیت اللہ رمضانی: اربعین تمام ادیان و مذاہب کے لیے ایک الہی اجتماع ہے/ امام حسین تمام بشریت سے متعلق ہیں

    لاطینی امریکہ میں اربعین حسینی کی رسمی سرگرمیوں کی افتتاحی تقریب 19 ستمبر بروز اتوار کو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کی تقریر سے منعقد ہوئی۔
    آیت اللہ رمضانی نے اپنی تقریر کے دوران ایام اربعین کی مناسبت سے لاطینی امریکہ میں اس طرح کی تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور کہا: آپ نے یہ جو قیمتی کام انجام دیا ہے اور اربعین کے نام پر ایک مرکز قائم کیا ہے اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
    انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مرکز اربعین کو پورے سال فعال اور ایکٹو رہنا چاہیے یہ امید ظاہر کی کہ مرکز اربعین کے اراکین کو چاہیے کہ لاطینی امریکہ میں صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے باہمی طور پر افہام و تفہیم سے کام لیا جائے اور دوسروں کے ساتھ بات چیت کے لیے زمین فراہم کی جائے۔
    انہوں نے مزید کہا: مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع اربعین کے موقع پر ہوتا ہے امام حسین کا تمام اقوام و مذاہب سے تعلق ہے۔ آپ تمام حریت پسندوں کے معلم و مربی ہیں عدالت طلبی، ظلم و ستم کا مقابلہ، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کے اہم استباق ہیں۔
    آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: امام حسین صرف شیعوں کے نہیں ہیں، وہ تمام مسلمانوں بلکہ تمام ابراہیمی ادیان کے ماننے والوں بلکہ یوں کہوں کہ تمام بشریت کے ہیں اور یہ ایک بین الاقوامی اور عالمی صلاحیت ہے۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اربعین حسینی کے مختلف پہلووں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس صلاحیت کی پہچان بہت اہم ہے کہ جس پر غور اور تحقیق ہونا چاہیے۔ جب صلاحیتیں اور استعدادیں صحیح ڈھنگ سے پہچان لی جائیں تو پھر ہم ان صلاحیتوں سے مختصر وقت میں بہترین فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
    انہوں نے اربعین کی صلاحیتوں میں سے احساسات و جذبات کو ایک اہم صلاحیت قرار دیتے ہوئے کہا: عاشورا اور اس کے بعد 61 سن ہجری میں انجام پانے والے واقعات تاریخ کے جذباتی اور احساساتی ترین واقعات ہیں جن کی مثال تلاش نہیں کی جا سکتی اور یہ احساسات و جذبات نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں۔
    آیت اللہ رمضانی نے کہا: چودہ سو سال کے عرصے میں سید الشہداء کے قیام کی وجہ سے جو اندرونی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کے باعث لوگوں کے ایک بڑے اجتماع نے اپنی جان و مال کو اس قیام کے تحفظ پر صرف کیا اور عاشورا اور اربعین کو زندہ رکھا۔ لہذا یہ اربعین کی عظیم شان و شوکت سال بہ سال بڑھتی رہے گی۔
    انہوں نے کورونا بیماری کی وجہ سے اربعین کی پیدل مارچ کے محدود ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: انشاء اللہ پرورگار عالم اس بیماری کو جلد از جلد جڑ سے اکھاڑے گا اور امام حسین (ع) کے چاہنے والے پہلے کی طرح دوبارہ اربعین پر کربلا میں حاضر ہوں گے۔
    اربعین کے دیگر معنوی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: نجف و کربلا میں اربعین مارچ کے دوران بہت زیادہ معنویت نظر آتی ہے۔ عبادت، بندگی، ذکر خدا، مرثیہ خوانی، مناجات، اہداف امام حسین (ع) کی جانب توجہ، تعلیمات عاشورا اور بہت ساری دوسری چیزیں۔ خوبصورت ترین خدمات کا اربعین کے موقع پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
    آیت اللہ رمضانی نے اربعین سید الشہدا(ع) سے لیا جانے والا ایک سبق امید بھری زندگی، عدل و انصاف کا قیام اور سامراجی طاقتوں کے ظلم و ستم کی زنجیروں کو توڑنا قرار دیا اور کہا: اسلامی معاشرے کا فکری اور نظریاتی ڈھانچہ اسی امید پر استوار ہونا چاہیے۔
    انہوں نے زیارت اربعین کے اس جملے، "بذل مُهجتهُ فیک لیستنقذ عِبادک مِن الجهالة و حِیرهِ الضّلالة" کے بارے میں کہا: امام حسین علیہ السلام نے اپنا خون جگر راہ خدا میں دے دیا اور لوگوں کو جہالت اور گمراہی سے نجات دی۔ زیارت اربعین میں آیا ہے کہ خودخواہ، دنیا پرست اور مقام پرست افراد بہترین انسانوں کے مد مقابل کھڑے ہو گئے اور آخر کار نتیجہ یہ ہوا کہ امام وقت اور ولی خدا کا سر قلم کر کے نوک نیزہ پر بلند کر دیا۔ یہ ایسے حال میں ہوا کہ پیغمبر اکرم کی وفات کو تیس سال کا عرصہ نہیں گزرا تھا کہ قرآن صامت کو نیزوں پر بلند کر دیا اور پچاس سال کے بعد قرآن ناطق کا سر نوک نیزہ پر بلند کر دیا۔ یہ سب کیوں ہوا جہالت اور نادانی کی وجہ سے۔

ملحقہ مراکز اور ویب سائٹس

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
7*8=? سیکورٹی کوڈ