خبریں

کابل کے سید الشہداء اسکول میں دھشتگردانہ حملے کی مذمت میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا بیان

کابل کے سید الشہداء اسکول میں دھشتگردانہ حملے کی مذمت میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا بیان

پیر, 10 مئی 2021

کابل کے سید الشہداء اسکول میں دھشتگردانہ حملے کے نتیجے میں ۸۵ افراد شہید اور ۱۴۷ زخمی ہوئے ہیں اس المناک سانحے کی مذمت میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
(مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا)
سوره مبارکه مائده، آیه 32
ایک مرتبہ پھر افغانستان کی سلامتی کے دشمن اور تکفیری دھشتگردوں نے کابل کے دشت برچی علاقے میں واقع سید الشہداء اسکول کی بے دفاع اور مظلوم طالبات کو خون میں لت پت کر دیا ہے۔
یہ دھشتگردانہ اور وحشیانہ حرکت جو ماہ رمضان میں دسیوں روزہ دار اور بے گناہ بچیوں کی شہادت اور زخمی ہونے کا باعث بنی ہے، افغانستان کو غیر محفوظ بنانے کی ایک مایوس کن کوشش ہے، نیز اس تکفیری گروہ کی حماقت، درندگی اور حیوانیت کی دلیل ہے۔
آج پہلے سے کہیں زیادہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ خالص اسلام کی عقلی، اخلاقی اور ظلم و جور سے دور تشریح اور تفسیر پیش کریں اور اس کی تبلیغ کریں، اور تعصب اور تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، اور تمام حریت پسند انسانوں خصوصا شیعہ سنی علماء اور عمائدین سے امید کی جاتی ہے کہ اس طرح کے واقعات پر سنجیدہ موقف اختیار کریں اور ان دھشتگرد جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کریں جو تمام اسلامی مذہب کے ماننے والوں کو بربریت کا نشانہ بناتے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس عظیم انسانی جرم کی پرزور مذمت کرتی ہے اور شہداء کے لواحقین اور افغانستان کے عوام اور حکومت کو تسلیت پیش کرتے ہوئے اس سانحے کے شہداء کے لیے پروردگار عالم سے رحمت اور مغفرت اور زخمیوں کے لیے شفائے کامل و عاجل جبکہ ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتی ہے۔
یہ اسمبلی حکومت افغانستان کے معزز عہدیداروں سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ اس المناک واقعہ کی وجوہات کی چھان بین اور تحقیقات کریں تاکہ ان سانحات و واقعات کا سد باب کیا جا سکے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
27 رمضان 1442
1400/02/20

حضرت ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی کاوشوں کا تعارف/ 5۔ عربی مقالات کی پہلی جلد

حضرت ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی کاوشوں کا تعارف/ 5۔ عربی مقالات کی پہلی جلد

پیر, 03 مئی 2021

 "حضرت ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار" - تین سالہ علمی، ادبی، تبلیغی اور ثقافتی فعالیتوں کے بعد -  اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام اور مختلف اداروں کے تعاون سے 9 مارچ 2021ء کو منعقد ہوا۔
اس سیمینار کی علمی سرگرمیوں میں "حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے ادبی ورثے کے سلسلے میں مرتبہ فاخر اور عمدہ کاوشوں پر تحقیق اور ان کے احیاء، تصحیح و تراجم کا اہتمام شامل ہے نیز شیعہ اور  حضرت ابو طالب(ع) کی منزلت و مرتبت کے بارے میں، سنی مصادر میں منقولہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ارشادات و آراء کی روشنی میں کچھ رسائل کی اشاعت سے عبارت ہے۔
محققین اور اہل قلم افراد کی ضرورت کے پیش نظر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی اس سیمینار سے متعلق تمام کاوشوں کو متعارف کروانے کی سعی کر رہی ہے۔
ہم نے حصہ اول میں قصیدہ لامیہ پر علامہ سردار کابلی کی شرح، دوسرے حصے میں حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے قصیدۂ لامیہ کے ترجمے، اور تیسرے حصے میں "زہرۃ الادباء فی شرح لامیۃ شیخ البطحاء" کا تعارف اور چوتھے حصے میں  "بلوغ المطالب في شرح لامية أبي طالب(ع)" کا تعارف پیش کیا اور پانچویں حصے میں سیمینار کو موصول ہونے والے مقالات کی پہلی جلد کا تعارف کرواتے ہیں:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
5۔ سیمینار کے عربی مقالات کی پہلی جلد
۔ کتاب کا نام: جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار کے مقالات کا مجموعہ
۔ جلد نمبر: 1
۔ زبان: عربی
۔ زیر اہتمام: سیمینار سیکرٹریٹ، شعبہ ثقافتی امور برائے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۔ ناشر: شعبہ نشر و اشاعت اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
۔ پہلی اشاعت: 1442 هـ. ق، 2021
۔ صفحات کی تعداد: 363
۔ اس جلد میں موجود مقالات کی فہرست:
 1. أبوطالب؛ الصحابي المفتری علیه/ الشهيد الدكتور «عز الدين سليم»
  2. أبوطالب؛ إيمان مطلق - سيرة وجهاد/ الأستاذ «عبدالأمير عزيز القريشي» (رئیس مرکز کربلا للبحوث والدراسات - العراق)
  3. أبوطالب.. بين التاريخ الطبقي والتدوين المذهبي/ الدکتور «علي أبو الخير» (جمهوریة مصر العربیة)
  4. أبوطالب حامي الإسلام/ العلامة «باقر شريف القرشي»
  5. أبوطالب.. ذرية بعضها من البعض/ الدكتور «مكي كشكول» (آسٹریلیا)
  6. مكانة القيم الاجتماعية في أساليب دفاع أبي طالب عن النبي(ص) من خلال ديوانه؛ قضايا النسب و القبيلة أنموذجاً/ الدکتور «محسن الويري» و«أحمد هاتف المفرجي»
  7. سيرة أبي طالب(ع) من خلال كتاب السيرة النبوية لابن هشام؛ دراسة نقدية تحليلية مقارنة/ الدكتور «شاكر مجيد كاظم» (أستاذ كليه الآداب لجامعة البصرة - العراق)
  8. أبوطالب(ع)/ الشيخ «طه العبيدي»
  9. أبوطالب سابق بني هاشم/ الدكتور «أحمد راسم النفيس» (جمهوریة مصر العربیة)

خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے 25، 26 اور 27 رجب المرجب 1442 کو جناب ابوطالب کے ایام وفات میں منعقد ہوا۔
"جناب ابوطالب ادبی میڈیا فیسٹیول، اور "جناب ابوطالب اطفال و نوجوان فیسٹیول" بھی اس سیمینار میں شامل تھے، نیز اس سیمینار کے سیکرٹریٹ نے سیمینار کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر متنوع پروگرام جیسے جناب ابوطالب (ع) کے لیے خطاطی، مشاعرہ وغیرہ کا بھی اہتمام کیا تھا۔
جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کی پانچ زبانوں فارسی، عربی، انگریزی، ترکی اور اردو پر مشتمل ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲

آیت اللہ رمضانی: حلال روزی کمانا عبادت ہے/ حقیقی عبادت اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر ہے

آیت اللہ رمضانی: حلال روزی کمانا عبادت ہے/ حقیقی عبادت اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر ہے

 آیت اللہ رمضانی نے ماہ مبارک رمضان کے حوالے سے اپنے سلسلہ گفتگو کے اٹھارہویں دن عالمی یوم مزدور کی مناسبت سے کہا: عبادت صرف نماز، روزہ، حج وغیرہ میں منحصر نہیں ہے بلکہ حلال روزی کما کر اہل خانہ کو دینا بھی عبادت ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے عبادت کے عام مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عبادت عام معنی میں ہر اس چیز کو شامل ہوتی ہے جو انسان کو خدا کی بندگی کے راستے میں قرار دے۔
انہوں نے واضح کیا: ہم اپنے ہر عمل کو عبادت شمار کر سکتے ہیں اگر وہ خدا کے حکم کے مطابق انجام پا رہا ہوں۔
آیت اللہ رمضانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ عبادت عام معنی میں قرآن اور روایات کے اندر بھی بیان ہوئی ہے، کہا: غور و فکر کرنا بھی ایک اہم ترین عبادت ہے اور امیر المومنین (ع) کے فرمان کے مطابق تفکر کے جیسی کوئی عبادت نہیں ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عبادت عبودیت اور بندگی کی راہ میں ہونا چاہیے کہا: حقیقی عبادت اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا ہے اور اہل اخلاص کی عبادت تفکر ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ کہ تفکر ایک اہم عبادت ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نماز و روزہ اور دیگر عبادات کو ترک کر دیں بلکہ وہ بھی اپنی جگہ فریضہ الہی ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: انسان اگر کمال کی چوٹیوں کو سر کرنا چاہتا ہے اور اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے تفکر کے علاوہ فرائض الہی کو بھی انجام دینا ہو گا۔
انہوں نے حلال رزق کمانے کو بھی عبادت شمار کرتے ہوئے کہا: حدیث معراج میں آیا ہے کہ عبادت کے دس جزء ہیں اور ۹ جزء حلال رزق کمانے میں ہیں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے کتاب

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے کتاب "تحریف سے قرآن کی حفاظت" نارویجین زبان میں شائع

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے کتاب "تحریف سے قرآن کی حفاظت" KORANENS IMMUNITET MOT FORVRENGING)) نارویجین زبان میں منظر عام پر لائی گئی ہے۔
یہ کتاب ان مجموعہ کتابوں میں سے ایک ہے جو عربی زبان میں "فی رحاب اھل البیت(ع) " کے عنوان سے چالیس جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں مذہب اہل بیت(ع) پر کئے گئے اہم شبہات کے جوابات دئیے گئے ہیں۔
جناب سید عبد الرحیم موسوی اور ابوالفضل اسلامی اس مجموعہ کے مولفین ہیں جبکہ جناب علی الحکیم نے اس کتاب کو ناروے کی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ دار الترجمہ کے زیر اہتمام اس کتاب کا ترجمہ کیا گیا اور اسمبلی کے شعبہ نشر و اشاعت کے ذریعے اسے منظر عام پر لایا گیا ہے۔

891c037738a83022587f1e07c88bd4fe_174.jpg


خیال رہے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور اس سے منسلک دنیا میں موجود اداروں کے ذریعے تاحال 2000عناوین پر مشتمل کتابیں دنیا کی 60 زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔
بعض کتابوں کی ڈیجیٹل فائلز حاصل کرنے کے لیے اسمبلی کی لائبریری کے اس لینک پر کلک کریں۔

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ امینی کی پہلی برسی پر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی جانب سے ورچوئل مجلس ترحیم کا انعقاد

تصویری رپورٹ/ آیت اللہ امینی کی پہلی برسی پر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی جانب سے ورچوئل مجلس ترحیم کا انعقاد

 امام خمینی (رہ) کے قدیم ساتھی، عالم مجاہد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی مجلس اعلیٰ کے سب سے پہلے سربراہ آیت اللہ ابراہیم امینی کی پہلی برسی کے موقع پر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی جانب سے وچوئل مجلس ترحیم کا اہتمام کیا گیا۔ اس مجلس ترحیم سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے سیکرٹری حجۃ الاسلام و المسلمین سید ابوالحسن نواب نے خطاب کیا اور الحاج حسن اسد اللہی نے مصائب اہل بیت(ع) کا ذکر کیا۔

۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کا مقصد پیروان اہل بیت(ع) کی قرآنی فعالیتوں کو متعارف کروانا ہے: ڈاکٹر زارعان

۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کا مقصد پیروان اہل بیت(ع) کی قرآنی فعالیتوں کو متعارف کروانا ہے: ڈاکٹر زارعان

 اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سے ایک بین الاقوامی فیسٹیول کی صورت میں ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کہ جو قرآن کریم کے ایک سو چودہ سوروں کے نام پر رکھا گیا ہے پوری دنیا میں پیروان اہل بیت(ع) کے دینی مراکز، مبلغین اور قرآنی فعال افراد کے درمیان منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یہ فیسٹیول تین حصوں؛ آرٹ میڈیا مصنوعات کی تیاری، آرٹ میڈیا مصنوعات کی نشر و اشاعت اور تبلیغی سرگرمیوں کی انجام دہی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اور ہر شرکت کرنے والا بغیر کسی قید و شرط کے اپنے آثار فیسٹیول کے کسی بھی حصے میں اس ایڈرس www.114award.ir پر ارسال کر سکتا ہے۔
فیسٹیول کی مشاورتی خدمات حاصل کرنے اور اپنی مصنوعات اندراج کرنے کی پہلی تاریخ ماہ رمضان کا آغاز ہے اور اپنی دستاویزات بھیجنے کی آخری تاریخ ۵ جون ہے ۲۲ جولائی کو انہیں فیصلہ کرنے کے لیے ریفری کے پاس بھیج دیا جائے گا ۲۳ جولائی کو ایران میں ورکشاپ کا آغاز ہو گا اور ۲۹ جولائی ۲۰۲۱ کو عید غدیر کے موقع پر فیسٹیول کی اختتامی تقریب منعقد ہو گی۔  
اس قرآنی فیسٹیول کے حوالے سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد جواد زارعان سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اسلام اور تعلیمات اہل بیت(ع) کے فروغ کے لیے اس فیسٹیول کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قرآن کے موضوع پر کام کرنا اس عنوان سے کہ وہ ثقلین کا حصہ ہے اور نبی مکرم (ص) نے اس کی تاکید کی ہے تمام مسلمانوں کے نزدیک بہت ضروری ہے، قرآن کریم پروردگار عالم کا کلام ہے اور رسول اسلام (ص) کا معجزہ ہے نیز انسان کے لیے کتاب ہدایت ہے لہذا ہر مسلمان، اہل بیت(ع) کے ہر پیروکار اور ہر شیعہ کے نزدیک قرآن کو اسلام کا بنیادی رکن سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: آج دشمنان اسلام کے پروپیگنڈوں میں سے ایک مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے انہیں قرآن کریم کی تعلیمات سے دور رکھنا ہے، اس طریقے سے کہ اہل سنت قرآن کو اختیار کر لیں اور شیعہ اہل بیت کو، جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے پیغمبر اکرم کی تاکید کے مطابق تمام مسلمانوں کو قرآن اور اہل بیت(ع) دونوں کا دامن تھامنا ہو گا۔
ڈاکٹر زارعان نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے اسلامی انقلاب اور شہداء کے خون کی برکت اور رہبر انقلاب اسلامی کی حسن تدبیر کے طفیل اسلامی جمہوریہ ایران میں قرآن کریم پر کافی کام ہوا ہے۔

قرآن کی بہار کے موسم میں فیسٹیول کا انعقاد
انہوں نے مزید کہا: ماہ رمضان قرآن کریم کی بہار کا موسم ہے، اس کی تلاوت، اس کی تفسیر اور اس پر غور و فکر کا مہینہ ہے، اسی وجہ سے ماہ رمضان کو اس فیسٹیول کے انعقاد کے لیے انتخاب کیا گیا ہے اور اس فرصت کو ہم نے غنیمت شمار کیا ہے۔ اور چونکہ پوری دنیا میں بھی پیروان اہل بیت (ع) قرآن کریم کے حوالے سے کام کر رہے ہیں ہمارا جو فی الحال اس فیسٹیول میں مقصد ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان سرگرمیوں کو متعارف کروائیں، ان کی حمایت کریں اور انہیں منظم کریں جو پہلے سے انجام پا رہی ہیں۔ ۱۱۴ عالمی فیسٹیل اسی مقصد کے پیش نظر منعقد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کا دیگر فیسٹیولز کے ساتھ فرق یہ ہے کہ یہ فیسٹیول خود اہل بیت(ع) سینٹرز کے ذریعے منعقد کیا جا رہا ہے یعنی ہم مخاطبین کو فعالیت انجام دینے کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ فعالیتیں انجام پا چکی ہیں یا انجام پا رہی ہیں اور ہمیں صرف انہیں متعارف کروانا ہے۔ اس وقت تو کورونا وائرس کی وجہ سے زیادہ تر فعالیتیں آنلاین ہیں۔
ڈاکٹر زارعان نے ۱۱۴ ورلڈ ایوارڈ کے ساتھ تعاون کے حوالے سے کہا: مختلف ادارے قرآنی فیلڈ میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ہمارا تعاون قبول کریں تاکہ اہل بیت(ع) سے وابستہ معاشرے کی فعالیتوں پر مبنی ایک قابل قدر فیسٹیول منعقد کیا جائے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ فیسٹیول کا پہلا دور قرآن کریم کے آرٹ میڈیا فعالیتوں پر منحصر ہے کہا: کورونا کے سخت حالات میں کئی ویب سائٹیں اور سافٹ ویئرز بنائے گئے ہیں یا ان میں وسعت لائی گئی ہے۔

ایکنا نیوز فیسٹیول کی خبروں کو شائع کرنے کا اہم ذریعہ
ڈاکٹر زارعان نے اس قرآنی فیسٹیول کے متعلق خبروں کو شائع کرنے کے لیے ایکنا نیوز ایجنسی کو بہترین ذرائع ابلاغ میں سے قرار دیا اور کہا: تمام خبررساں ادارے اور نیوز ایجنسیاں فیسٹیول کے اعلان کو مختلف زبانوں میں شائع کر کے ہمارا تعاون کریں۔ اس بات کے پیش نظر کہ یہ فیسٹیول اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے تمام فعالیتوں میں اہل بیت اطہار کو مرکزیت دی گئی ہے اور اس پہلے دور کے فیسٹیول کا ایجنڈا "اہل بیت(ع) وحی کے ترجمان" انتخاب کیا گیا ہے۔ اس معنی میں کہ رسول اسلام کے فرمان کے مطابق " انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی" ثقل اکبر قرآن اور ثقل اصغر اہل بیت(ع) کو کلام الہی کے ترجمان کے عنوان سے فیسٹیول کا موضوع قرار دیا گیا ہے۔
حجۃ الاسلام زارعان نے قرآنی امور میں مزید تشویق و ترغیب کی خاطر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے انعامات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس فیسٹیول میں مختلف شعبے پائے جاتے ہیں اور بہترین کاوشوں پر انعامات دئیے جائیں گے لیکن اس فیسٹیول کو موصول ہونے والی کاوشیں اہل بیت(ع) عالمی چینل کے اراکین اور دیگر مخاطبین کی رسائی میں قرار دئیے جائیں گے یعنی فیسٹیول کا بنیادی مقصد انعامات دینا نہیں ہے بلکہ وہ لوگ جو قرآنی میدان میں فعالیت انجام دیتے ہیں وہ بالکل انعام کے چکر میں نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے پروردگار سے انعام حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں ہمارا بنیادی مقصد ان کاوشوں کو متعارف کروانا، ان کی حمایت کرنا اور انہیں منظم کرنا ہے۔
انہوں نے اس فیسٹیول میں شرکت کی دعوت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک عالمی چینل پر مشتمل ہے جس میں علماء، مولفین اور دانشور مرد و زن شامل ہیں۔ پہلی نگاہ میں تقریبا اہک ہزار افراد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن ہیں جو مختلف ممالک میں مقیم ہیں اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی مختلف ممالک میں تین ہزار مبلغین کے ساتھ رابطے میں ہے اور تقریبا ۱۵۰ ممالک میں یہ مبلغین تبلیغی فعالیتوں میں سرگرم ہیں اور ان کے ایمیل ایڈرس اور فون نمبر ہمارے پاس موجود ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ساتھ دیگر اداروں کے تعاون کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سازمان فرہنگ و ارتباطات، مجمع تقریب مذاہب، جامعۃ المصطفیٰ، ایکنا نیوز ایجنسی اور دیگر بین الاقوامی سطح پر فعالیت کرنے والے ادارے اس فیسٹیول میں ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے 189 ویں اجلاس کا اختتامی بیان

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے 189 ویں اجلاس کا اختتامی بیان

 اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے اختتامی بیان میں نائیجیریا، کوموروس اور بحرین میں دینی رہنماؤں کو دھشتگردی کے ذریعے مٹانے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے عالم اسلام اور پیروان اہل بیت(ع) کو پہلے سے زیادہ ہوشیار ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے بیان کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن هدی للناس و بینات من الهدی و الفرقان ... (بقره/ 182)
پروردگار عالم کی توفیق اور امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی توجہ کے زیر سایہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا 189 واں اجلاس ماہ شعبان کے اخری ایام اور ماہ مبارک رمضان کے آستانہ میں حرم کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے جوار میں منعقد ہوا۔
یہ اہم اجلاس جو شمسی سال 1400 کے آغاز پر اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی تاسیس کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا اس میں سپریم کونسل کے ممبران نے عالم اسلام اور خصوصا عالم تشیع کے اہم ترین مسائل پر تبصرہ کیا اور نئے سال میں انجام پانے والے امور کی منصوبہ بندی میں اہم ترجیحات پر غور و خوض کیا۔
اس اجلاس کے آغاز میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کی اہم شخصیات جو گزشتہ ایک دو سال میں اس دار فانی سے چل بسیں جیسے آیت اللہ امینی، آیت اللہ مصباح یزدی اور آیت اللہ تسخیری، ان کی یاد کو تازہ کیا گیا اور ان کے آثار جو اسلام، شیعت، وحدت اور تقریب کی بولتی زبان تھے ان کی قدردانی کی گئی۔
اس اجلاس کے آخر میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے پیروان اہل بیت(ع) کے تازہ ترین واقعات کے حوالے سے درج ذیل نکات میں اپنا موقف بیان کیا:
۱۔ اسمبلی کی سپریم کونسل اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام پر مبنی رہبر انقلاب اسلامی کے نوروز کے بیان کی حمایت نیز اس نظام کو ماضی سے زیادہ مستقبل میں تحفظ فراہم کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کرنے کا اعلان کرتی ہے وہ بھی ایسے حالات میں جب ایران کے خلاف عالمی پابندیاں اپنے عروج پر ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ان تمام حالات میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی حقیقی اور مجازی فضا میں اہل بیت(ع) کی ثقافت اور تعلیمات کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے۔
۲۔ اسمبلی کی سپریم کونسل کے ممبران نے اسمبلی کی طویل المیعاد اور نظریاتی تبدیلی کی دستاویز کی تالیف اور منظوری کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی علاقائی اور عالمی حساس حالات میں پیروان اہل بیت(ع) کے عالمی سماج پر براہ راست گہرے اثرات ڈالنے کے لیے دائمی کردار ادا کرے۔
۳۔ سپریم کونسل کے ممبران ماہ مبارک رمضان کی آمد پر قرآن کریم کے عظیم مقام اور مرتبے نیز پیغمبر رحمت حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اور اہل بیت اطہار (ع) کی عظمت کو پہچنوانے میں کوشاں رہے جنہیں مغربی دنیا نے اس کے باوجود کہ دینی مقدسات کی بے حرمتی غیر قانونی ہے آزادی اظہار کے بہانے سے ہمیشہ حملے کا نشانہ بنایا، سپریم کونسل عالم اسلام اور پیروان اہل بیت (ع) سے اپیل کرتی ہے کہ پہلے سے زیادہ ہوشیاری اور بیداری کے ساتھ اپنے مقدسات کو تحفظ فراہم کریں۔
۴۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی بین الاقوامی میدان میں اپنی ثقافتی اور تبلیغی فعالیتوں کی چوتھی دہائی کے آغاز میں عقلانیت، معنویت، کرامت، عدالت، مزاحمت نیز وحدت اور اخوت کے مفاہیم پر زور دیتی ہے اور انہیں مسلمانوں کی ان مشکلات جو خالص محمدی اسلام کے رحمانی پہلو سے دوری اور جعلی، انحرافی اور بدعتوں سے لبریز اسلام کی پیروی کا نتیجہ ہیں کے حل میں کلیدی نکتہ سمجھتی ہے، نیز پیروان اہل بیت (ع) کو عترت رسول (ص) کے خوبصورت کلام سے آشنائی اور دیگر عوام کو بھی ان سے آشنا کرنے کی تاکید کرتی ہے۔
۵۔ سپریم کونسل کے ممبران پیروان اہل بیت(ع) کی حالیہ صورتحال، عالمی صہیونیت اور استعماری طاقتوں کے روز بروز بڑھتے دباؤ، کمزور اور مظلوم عوام خصوصا یمن، بحرین، شام، افغانستان، پاکستان، کشمیر، میانمار، نائیجیریا وغیرہ پر عبرانی، عربی اور وہابی جماعتوں کی حمایت سے ہونے والے ظلم و ستم کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی قانونی کمیشنوں خصوصا بین الاقوامی اسلامی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان ممالک کے شہریوں کے حقوق کی پامالی کو رکوانے کی کوشش کریں۔
۶۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل علماء، حوزات علمیہ اور اسلامی یونیورسٹیوں کے اساتید سے سنجیدہ توقع رکھتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ گہرائی اور گیرائی کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی فضا پیدا کرنے میں اہل بیت(ع) کے کردار کو بیان کریں اور اس میدان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی کاوشوں کو پیروان اہل بیت (ع) کے درمیان ایک علمی محوریت کے عنوان سے مورد توجہ قرار دیں۔
۷۔ اسمبلی کی سپریم کونسل طفل کش صہیونی ریاست کے اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کے منصوبوں کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور فلسطین کے طاقتور اور مظلوم عوام کی انتھک مزاحمت اور استقامت کے ساتھ اظہار حمایت کرتے ہوئے دنیا کے حریت پسندوں سے ان کی حمایت کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ بھی ایسے حالات میں جب نیتن یاہو کی فاسد اور ڈکٹیٹر حکومت سے خود اپنے عوام بھی بے حد ناراض ہیں اور مخالف سیاسی گروہوں نے ان کی ناک میں دم کر رکھا ہے اور ان کی کھوکھلی حکومت کے ستون لرزتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ انشاء اللہ پروردگارعالم کی مدد سے عالمی یوم القدس کے موقع پر تمام مسلمانوں اور دنیا کے حریت پسندوں کے ذریعے نکالی جانے والی ریلیوں سے غاصب ریاست کی نابودی مزید قریب ہو جائے گی۔
۸۔ سپریم کونسل کے ممبران عالمی سماج کو بحرین اور فلسطین کی جیلوں میں کورونا کی سنگین صورتحال کے ساتھ ساتھ یمن میں خوفناک اور دردناک غیر انسانی صورتحال اور سعودی اتحاد کی طرف سے جاری چھ سال کی وحشیانہ جارحیت کے بارے میں سختی سے متنبہ کرتے ہیں اور یمنی گروہوں کے مذاکرات اور معاہدوں کو نتیجۃ خیز بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
۹۔ اسمبلی کی سپریم کونسل آخر میں نائیجیریا، کوموروس، بحرین، سعودی عرب، پاکستان، تاجکستان اور دیگر ممالک میں مذہبی رہنماؤں کے بتدریج قتل اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کے جسموں کے خاتمے کے حوالے سے بین الاقوامی اور علاقائی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر ادیان کے علماء اور بزرگان سے اپیل کرتی ہے کہ عالمی امن اور صلح کے خلاف انجام دئیے جانے والے حملوں کے مقابلے میں خاموش نہ بیٹھیں اور مجرموں، ستمگروں اور ظالموں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کی غرض سے چارہ جوئی کریں۔
واللہ سمیع علیم
سپریم کونسل برائے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

114 قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کے سلسلے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا پیغام

114 قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کے سلسلے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کا پیغام

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے 114 پہلے قرآنی ورلڈ ایوارڈ کے انعقاد کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا: تمام مبلغین، اسمبلی کے قابل قدر اراکین، تمام کارکنان اور محترم ملازمین سے گزارش ہے کہ اس قرآنی مقابلے کے انعقاد میں بھرپور تعاون فرما کر دنیا میں پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان قرآنی ثقافت کو رواج دینے میں بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں۔   
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کے پیغام کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدُ للَّه و سُبحانَکَ؛ اللَّهُمَّ صلِّ علی محمدٍ و آلهِ مظاهر جمالِک و جلالِک و خزائنِ اسرارِ کتابِکَ الذی تجلّی فیه الأَحدیّةُ بِجمیعِ أسمائکَ حتّی المُسْتَأْثَرِ منها الّذی لا یَعْلَمُهُ غَیرُک؛
قالَ رسولُ اللَّه صلَّی اللَّه علیه و آله و سلَّم: *انّی تارکٌ فیکُمُ الثّقلَیْنِ کتابَ اللَّهِ و عترتی أهلَ بیتی؛ فإِنَّهُما لَنْ یَفْتَرِقا حَتّی‏ یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوضَ. پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی مبارک زندگی کے دوران اور خصوصا اپنی عمر کے آخری ایام میں مسلمانوں کو دو عظیم چیزوں کی طرف متوجہ کیا اور انہیں قرآن کریم اور اپنی عترت (اہل بیت) سے متمسک رہنے کی خاص سفارش کی اور فرمایا کہ انسان کی نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں کی پیروی میں رہے۔
آج ایسے دور میں جب دین اسلام کے احیاء کا دور ہے اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کو قرآن اور عترت سے دور کرنے یا ان کے مابین تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ایسے دور میں ان دوگرانقدر چیزوں یعنی قرآن اور اہل بیت(ع) سے تمسک کرنا انتہائی اہم اور ضروری ہے جس کی خود رسول اسلام نے بھی وصیت فرمائی ہے۔
امت اسلامیہ کی پرنشیب و فراز تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے ختمی مرتبت کی اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے ان دوگرانقدر چیزوں سے تمسک کیا اور انہیں اپنا مشعل راہ بنایا تو انہیں علمی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی ہر میدان میں فتوحات حاصل ہوئیں اور جب ان سے غفلت کا شکار ہوئے اور ان دو قیمتی چیزوں کو رہا کیا تو سوائے پشیمانی، جمود، ظلم کا غلبہ، غربت اور بدحالی کے کچھ نصیب نہیں ہوا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کو فخر ہے کہ اس نے ائمہ طاہرین علیہم السلام کہ جو کلام خدا کے حقیقی مفسر اور ترجمان ہیں اور انی تارک فیکم الثقلین کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم کی بقا کے لیے اپنی قربانیاں پیش کیں ان کے نورانی راستے کا اتباع کرتے ہوئے پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان قرآنی اقدار کو احیاء کرنے اور الہی تعلیمات کو عام کرنے میں بھرپور جدو جہد کر رہی ہے۔
لہذا ماہ مبارک رمضان کہ جو قرآن کی بہار ہے اس میں حقیقی معنی میں قرآنی ثقافت کو دنیا کے کونے کونے میں پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان عام ہونا چاہیے قرآن کریم کے حوالے سے متنوع اور دلچسپ پروگرام کی منصوبہ بندی کی جانا چاہیے تعلیم قرآن اور تحقیق سے لے کر مختلف قرآنی پروگراموں کو جوانوں اور نوجوانوں کے لیے پرکشش شکلوں میں قرآنی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جیسے آرٹ اور میڈیا پروڈکٹس کی تیاری، گھر اور معاشرے میں قرآنی حلقوں کا قیام، قرآن خوانی اور تلاوت کے جلسات کا انعقاد، مختلف مقابلے، قرآن پر مبنی تقاریر اور لکچرز وغیرہ، گھروں، مساجد، امام بارگاہوں، سوشل میڈیا اور دیگر اجتماعات میں انجام پانا چاہیے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی 114 ورلڈ ایوارڈ کہ پندرہ شعبان منجی عالم بشریت امام زمانہ (عج) کے یوم ولادت کے موقع پر جس کے آغاز کا اعلان کیا گیا اور عید غدیر پر اختتام پذیر ہو گا، اس کا اصلی مقصد دینی مراکز میں قرآنی فعالیتوں اور قرآنی مبلغین کی حمایت ہے تاکہ یہ نورانی اور قیمتی تحریک رونق پائے۔
معزز مبلغین، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے جملہ اراکین، نیز تمام کارکنان اور محترم ملازمین سے امید ہے کہ اس حماسہ قرآنی میں شرکت کر کے قرآنی ثقافت کو پیروان اہل بیت(ع) کے درمیان عام کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں تاکہ اس جد و جہد کے نتیجے میں پروردگار عالم اور ثقلین کی خشنودی حاصل ہو اور دنیا و آخرت میں سعادتمندی نصیب ہو۔
والسلام علیکم و رحمه الله و برکاته
رضا رمضانی
سیکرٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[12 3 4 5  >>  

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
8+4=? سیکورٹی کوڈ