جناب ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار کے علمی آثار کا تعارف؛ / 3۔ زهرة الأدباء في شرح لامیة شیخ البطحاء

مذکورہ کتاب "زَهرَة الأدباء في شرح لاميّة شيخ البطحاء أبي طالب بن عبدالمطلب بن هاشم (عليهم السلام)" تالیف مرحوم علامہ شیخ جعفر نقدی عماری (متوفیٰ ۱۳۷۰ ھج) ایک تحقیقی شرح ہے جو قصیدہ لامیہ کے بارے میں لکھی گئی ہے اور اس کے تاریخی واقعات کو بھی قلمبند کیا گ
جناب ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار کے علمی آثار کا تعارف؛ / 3۔ زهرة الأدباء في شرح لامیة شیخ البطحاء

 جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس تین سال علمی، ادبی، ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں کے بعد آخر کار اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ہم خیال اداروں کے باہمی تعاون سے رواں سال فروری کے مہینے میں منعقد ہو رہی ہے۔
اس کانفرنس کی سرگرمیوں میں سے کچھ اہم سرگرمیاں جناب ابوطالب کے بارے میں تاریخی آثار کا احیاء، تحقیق، تصحیح اور ترجمہ ہیں نیز "پیغمبر اکرم(ص) کے نزدیک جناب ابوطالب کا مقام شیعہ سنی منابع میں" کے زیر عنوان رسالوں کی اشاعت ہے۔
"شرح قصیدہ لامیہ" مولف سردار کابلی کو پہلی قسط میں اور "ترجمہ "لامیہ حضرت ابوطالب (ع)" کو دوسری قسط میں متعارف کروانے کے بعد اب تیسری قسط میں تیسرے اثر کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے؛
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
3. زَهرَةُ الأدباء في شرح لاميّة شيخ البطحاء

* کتاب کا مکمل نام: زَهرَة الأدباء في شرح لاميّة شيخ البطحاء أبي طالب بن عبدالمطلب بن هاشم (عليهم السلام)

* زبـان: عربی

* تأليف: العلامة الشيخ جعفر النقدي العماري (المتوفی سنة 1370 هـ. ق.)

* تحقیق: محمد مهدی صباحی کاشانی

* ناشر: مؤسسه فرهنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب(ع)

* طبع اول: 1440 هـ. ق. - 2019 م.

* آئی ایس بی این: 9-0-95539-622-978

* صفحات کی تعداد: ۳۱۴

کتاب کی فصلیں
پہلی فصل
مولف کا زندگی نامہ، امیر المومنین اور اشعار ابوطالب، قصیدہ لامیہ، قصیدہ کا ترجمہ اور شرح، اس تحقیق کا مورد اعتماد نسخہ، شکریہ و قدردانی
دوسری فصل
مولف کا مقدمہ، جناب ابوطالب کا زندگی نامہ، قصیدہ لامیہ کہنے کی وجہ
تیسری فصل
قصیدہ لامیہ اور اس کی شرح
چوتھی فصل
ایمان ابوطالب کے بارے میں اہل بیت(ع) کا عقیدہ، خبر ضحضاح اور اس کے راوی مغیرہ بن شعبہ کا جائزہ، ابوطالب کی مدح میں "اردوبادی" کا قصیدہ، شیخ الحویری النجفی کے قصدیہ میں ابوطالب اور اسلام کے تئیں ان کی خدمات کا جائزہ، ابوطالب اور مولف کی حاجت روائی، مسک الختام
وضاحت
جناب ابوطالب(ع) قبل اسلام اور صدر اسلام کے معروف عرب شاعروں میں شمار ہوتے تھے ابن شہر آشوب (متوفی ۵۸۸) کے بقول آپ نے ۳۰۰۰ بیت اشعار کہے ہیں جو ان کے ایمان کی نشانی بھی ہے، تقریبا ۷۰۰ بیت اشعار رسول خدا اور صدر اسلام کے واقعات کے حوالے سے ہیں۔ جیسے اپنی قوم، یا بادشاہ حبشہ کو اسلام کی دعوت دینا یا دشمنان اسلام کی مذمت کرنا۔
آپ کا سب سے بڑا اور مضبوط قصیدہ "قصیدہ لامیہ" ہے کہ جو پیغمبر اکرم کی مدح میں لکھا گیا ہے اور شیعہ سنی علماء نے اسے نقل کیا ہے۔ یہ قصیدہ ایک ادبی شاہکار بھی شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ "قصیدہ لامیہ اس قدر فصیح و بلیغ ہے کہ خود شاعر کے علاوہ کوئی ایسا قصیدہ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا"۔
قصیدہ لامیہ پر طول تاریخ میں شیعہ سنی علماء نے کئی شرح لکھی ہیں منجملہ علی فھمی بوسنایی، علامہ شیخ جعفر نقدی عماری اور علامہ سردار کابلی۔
مذکورہ کتاب "زَهرَة الأدباء في شرح لاميّة شيخ البطحاء أبي طالب بن عبدالمطلب بن هاشم (عليهم السلام)"  تالیف مرحوم علامہ شیخ جعفر نقدی عماری (متوفیٰ ۱۳۷۰ ھج) ایک تحقیقی شرح ہے جو قصیدہ لامیہ کے بارے میں لکھی گئی ہے اور اس کے تاریخی واقعات کو بھی قلمبند کیا گیا ہے۔
حضرت ابوطالب (ع) تحقیقی سینٹر جو " حضرت ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم بین الاقوامی کانفرنس" کو منعقد کرنے والوں میں شامل ہے، نے اس کتاب کو دوبارہ زیور طبع سے آراستہ کیا ہے۔
جناب ابوطالب کے اشعار کے بارے میں امیر المومنین علی علیہ السلام کا نظریہ، شرح لکھنے والے کے حالات زندگی، اس قصیدہ پر لکھی گئی دیگر شروحات کا تعارف، نیز کتاب کے آخر میں متعدد فہرستیں، اس کتاب کی خوبیوں میں شامل ہیں جو جناب ابوطالب بین الاقوامی کانفرنس کی مناسبت سے منظر عام پر لائی گئی ہے۔
کتاب زَهرَةُ الأدباء في شرح لاميّة شيخ البطحاء  کی خصوصیات
۱۔ زھرۃ الادباء قصیدہ لامیہ پر پہلی وہ شرح ہے جو شیعہ دانشور کے ذریعے لکھی گئی ہے۔
۲۔ اس شرح میں ذکر کئے گئے اشعار اس زمانے تک قصیدہ لامیہ کی جامع ترین روایت شمار ہوتے تھے جن پر یہ شرح لکھی گئی ہے اس کو جمع کرنے والے عصر قاجار کے معروف ادیب "محمد تقی خان سپہر لقب "لسان الملک" ہیں جنہوں نے اس قصیدہ کو ۱۱۲ ابیات کی شکل میں جمع کر کے ناسخ التواریخ میں نقل کیا ہے۔
۳۔ زھرۃ الادباء ایک مختصر اور کسی حد تک مستدل شرح ہے۔
۴۔ شارح نے قصیدہ کو ۲۸ موضوعات میں تقسیم کر کے ہر ایک موضوع پر الگ الگ گفتگو کی ہے۔
۵۔ مذکورہ موضوعات کا ایک حصہ ۱۲ سے ۲۸ ابیات پر مشتمل ہے جن میں حضرت ابوطالب نے اس زمانے کے معاشرے کے مشترکات کو گنوایا ہےاور اپنے بھتیجے کے دین کے دفاع میں اپنی ثابت قدمی کا اظہار کیاہے۔
۶۔ ایک اور حصے میں رسول خدا کے ذاتی  صفات اور ان کے اخلاق کی طرف اشارہ کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ آپ کی خوبیاں منحصر بالفرد تھیں اور کوئی بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔

 

Odaba-UR.jpg


خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
6+5=? سیکورٹی کوڈ