حضرت ابوطالب(ع) سیمینار کا شعر و ادب کمیشن / 2۔ دیوان ابوطالب(ع) میں مدائح نبویہ کا جائزہ؛ پیشکش: حسین مہتدی

اتوار, 14 مارچ 2021
علوم دینیہ کے محقق جناب مہتدی نے کہا: مدح رسالت میں کہے گئے بعض اشعار "مدح خالص" کے زمرے میں آتے ہیں اور پیغمبر خدا(ص) کی اس خالص مدح کو ہم حضرت ابوطالب (ع) کی شاعری میں تلاش کرسکتے ہیں۔
حضرت ابوطالب(ع) سیمینار کا شعر و ادب کمیشن / 2۔ دیوان ابوطالب(ع) میں مدائح نبویہ کا جائزہ؛ پیشکش: حسین مہتدی

"حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کا تیسرے کمیشن بعنوان "شعر و ادب کمیشن" کا اجلاس بروز منگل بمورخہ 9 مارچ 2021ء، بمقام امام خمینی اعلی تعلیمی کمپلیکس کے شہید صدر آڈیٹوریم، منعقد ہؤا۔
یہ اجلاس آیت اللہ محمد سعید نعمانی کی صدارت میں منعقد ہؤا، تہران کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن ڈاکٹر باقر قربانی زرین نے بطور ریفری شرکت کی تھی اور حجت الاسلام و المسلمین ولی اللہ معدنی پور سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
نیز عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل و نائب سیکریٹری جنرل برائے ثقافتی امور حجت الاسلام و المسلمین احمد احمدی تبار اور اسمبلی کے تحقیقات امور کے ڈائریکٹر حجت الاسلام سید محمد رضا آل ایوب بھی اجلاس کے شرکاء میں شامل تھے۔
جناب حسین مہتدی نے اپنا مقالہ بعنوان "دیوان ابوطالب(ع) میں مدائح نبویہ کا جائزہ" اس اجلاس میں پیش کیا۔
انھوں نے رسول اللہ(ص) کی مداحی میں کہے گئے مختلف قسم کے منظوم کلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بعض اشعار اور نظمیں "نجاتِ جان" کے لئے تھیں، اور بعض دیگر محض مادی محرکات کی بنا پر تھیں؛ لیکن بعض رسول اللہ(ص) کی مداحی کے سلسلے میں کہے گئے بعض اشعار خالصانہ ہیں اور رسول خدا(ص) کی اس قسم کی خالصانہ مدح کو حضرت ابوطالب(ع) کی شاعری میں تلاش کرسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: کئی ایسے دیوان موجود ہیں جن میں حضرت ابوطالب(ع) کے اشعار نقل کئے گئے ہیں اور "دیوان علی بن حمزہ بصری" نے حضرت ابوطالب(ع) کے سب سے زیادہ اشعار نقل کئے ہیں۔
انھوں نے کہا: حضرت رسول اکرم(ص) کی مدح میں حضرت ابوطالب(ع) کے اشعار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: بعث رسول(ص) سے پہلے کے زمانے کے اشعار اور بعثت نبوی کے بعد کے اشعار۔ قبل از بعثت کی شاعری پر حضرت رسول(ص) کے حوالے سے ابوطالب(ع) کی پدرانہ نگاہ غالب ہے البتہ اس شاعری میں آپ(ع) نے رسول اللہ(ص) کے خلاف ہونے والی سازشوں کی طرف بھی اشارے کئے ہیں؛ جبکہ ابوطالب(ع) کی بعثت کے بعد کی شاعری میں رسول اللہ(ص) کی مدح کے ضمن میں، آپ(ص) کی رسالت و نبوت کا بیان ہے اور یہ شاعری مؤمن قریش کے ایمان راسخ کا ناقابل انکار ثبوت ہے،
جناب مہتدی نے رسول اللہ(ص) کے قبل از بعثت کے دور کے معجزے کی طرف اشارہ کرکے کہا: رسول اللہ(ص) نے لڑکپن کے دور میں اپنے چچا اور سرپرست جناب ابو طالب(ع) کے ساتھ مل کر شام کا سفر اختیار کیا اور اس سفر کے دوران بادل کا ایک ٹکڑا آپ کے سر پر سایہ فگن رہتا تھا؛ یہ صورت حال بُصریٰ کے علاقے میں سب کے لئے باعث حیرت بنی ہوئی تھی، "بُحَیرا" نامی راہب، جو اس علاقے میں مقیم تھا، نے اس معجزے کو دیکھ لیا اور حضرت ابوطالب(ع) سے کہا کہ یہ بزرگوار خاتم المرسلین ہیں، اور آپ جلدی سے یہاں سے واپس چلے جائیں کیونکہ آپ(ص) کے دشمن آپ کے قتل کی کوشش کریں گے۔ حضرت ابوطالب(ع) نے اپنی شاعری میں بعثت سے پہلے کے اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوکہ حضرت ابوطالب(ع) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے سرپرست اور حامی و محافظ تھے لیکن جب مشکل پڑتی تھی تو آپ(ع) رسول اکرم(ص) کی پناہ میں چلے جاتے تھے۔ مکہ قحط سے دوچار ہؤا تو ابوطالب(ع) آپ(ص) کو کعبہ کے پاس لے گئے اور آپ(ص) نے کعبہ کے پاس بارش کے لئے درگاہ باری تعالی سے التجا کی اور اتنی بارش ہوئی کہ مکیوں کے لئے کئی سال تک کافی تھی۔ [البتہ یہ بھی مروی ہے اور قصیدہ لامیہ سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ حضرت ابوطالب(ع) نے رسول اللہ(ص) کے وسیلے سے اللہ سے دعا مانگی تھی جس کے بعد قحط کا خاتمہ ہؤا تھا]۔ ابوطالب(ع) نے اس داستان کو بھی اپنی قبل از اسلام کی شاعری کے ضمن میں نقل کیا ہے۔
اس دینی محقق نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) نے بعد از بعثت اپنی شاعری میں صراحت کے ساتھ، آشکار طور پر، حضرت محمد(ص) کی رسالت و نبوت پر مہر تائید ثبت کی ہے اور جو لوگ خاص قسم کے تاریخی اور سیاسی شبہہ اندازی کرتے ہوئے حضرت ابوطالب(ع) کے ایمان پر انگلی اٹھاتے ہیں، ان اشعار کے ذریعے ان کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوطالب(ع) اپنی شاعری میں اپنے فرزندوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا ساتھ کسی وقت بھی نہ چھوڑیں اور آپ(ص) کی حمایت جاری رکھیں۔
انھوں نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) کی شاعری میں کہیں کوئی غزل نہیں ملتی، بلکہ آپ کی شاعری متعہد ادب (committed literature) کا مصداق اور اخلاقی اصولوں اور سماجی ہدایت اور اصلاح امور کے تقاضوں کے عین مطابق تھی۔
صدر کمیشن جناب آیت اللہ نعمانی نے، اجلاس کے آخر میں حضرت ابوطالب(ع) کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کہا: حضرت ابوطالب(ع) صاحب عقل و حکمت اور غیر معمولی اور منفرد شخصیت کے طور پر شہرت رکھتے تھے، اور آپ کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ مال دنیا کے حوالے سے نادار ہونے کے باوجود سید بطحاء اور سید القریش سمجھے جاتے تھے۔ حضرت ابوطالب(ع) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اپنے فرزندوں پر مقدم رکھتے تھے اور خطرے کے مقامات پر اپنے بیٹوں کو آگے بھیج دیتے تھے چنانچہ توجہ و اعتناء کی یہ کیفیت نسبی یا سببی رشتوں سے کہیں بالاتر اور محض عقیدے اور ایمان کی گواہی دیتی ہے۔
انھوں نے کہا: علماء کہلوانے والے بعض غیر منصف اور متعصب قلم کاروں نے لکھا ہے کہ حضرت ابوطالب(ع) خاندانی قرابت کی بنا پر رسول اللہ(ص) کی حمایت کرتے تھے۔ یہ حضرات درحقیقت قلم اور کتابت پر جفا کرنے والے اور تاریخ کے ساتھ خیانت کرنے والے لوگ ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ابوطالب (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت سے لے کر اپنے وصال تک رسول اللہ(ص) پر خاص نظر رکھتے تھے [اور آپ(ص) کی خاطر اپنے آپ اور اپنے بچوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے تھے اور اگر خاندانی تعصب کی بات ہوتی تو آپ(ص) کے تحفظ کے لئے اپنے بیٹوں کو خطرے کے منہ میں نہ دھکیلتے اور اگر مشرکین کے ہاں خاندانی رشتے دینی رشتوں پر مقدم ہوتے تو ابولہب بھی رسول اللہ(ص) کا حامی ہوتا]۔
واضح رہے کہ "حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) سیمینار"، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، کے زیر اہتمام اور "حضرت ابوطالب(ع) ثقافتی ادارہ برائے تحقیق و اشاعت"، "عالمی تقریب مذاہب اسمبلی"، "دفتر تبلیغات اسلامی"، حوزات علمیہ"، "جامعۃ المصطفی العالمیہ"، "حوزات علمیہ کے زبان سیکھنے کے مرکز"، "بین الاقوامی اہل بیبت یونیورسٹی"، "میراث نبوی ثقافتی انسٹی ٹیوٹ"، "جامعۃ الزہراء(س)"، "الذریۃ النبویہ انسٹی ٹیوٹ"، "قاسم بن الحسن(ع) ثقافتی-مذہبی انسٹی ٹیوٹ"، "ابناء الرسول(ص) ثقافتی-ہنری انسٹی ٹیوٹ" اور بعض دیگر دینی اور ثقافتی اداروں کے تعاون سے، حضرت ابو طالب(ع) کے ایام وفات کے موافق  25، 26، 27 رجب المرجب 1442ھ (9 سے 11 مارچ 2021ء تک) منعقد ہوا ہے۔

"حضرت ابوطالب(ع) کے حوالے سے شاعری کی ملک گیر کانفرنس"، "حضرت ابوطالب(ع) ادبی-ابلاغی میلہ"، اور "حضرت ابوطالب(ع) کے سلسلے میں بچوں اور نونہالوں کا میلہ"، اس سیمینار کے موقع پر منعقدہ دوسرے پروگرامات ہیں۔ نیز اس سیمینار کے سیکریٹریٹ نے سیمینار کے انعقاد کے موقع پر، دوسرے ثقافتی پروگراموں کا اہتمام کیا ہے جن میں "حضرت ابوطالب(ع) کے لئے خطاطوں کی ہم نویسی" اور "تکریم ابوطالب(ع) کے لئے محفل مشاعرہ"، جیسے پروگرام شامل ہیں۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
9-6=? سیکورٹی کوڈ