موسوی تبریزی: جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک اور ادیان شناس تھے

اتوار, 14 مارچ 2021

موسوی تبریزی نے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے جناب عبد المطلب کو موحد، مومن اور خداپرست قرار دیا اور کہا: جناب عبد المطلب کہ جو جناب ابوطالب کے والد اور پیغمبر اکرم کے دادا تھے نے حالت احتضار کے وقت اپنے دس بیٹوں میں سے حضرت ابوطالب کا ہاتھ پکڑا اور اور وصیت کی کہ محمد (ص) جو اس وقت آٹھ سال کے تھے کی سرپرستی کریں، حضرت عبد المطلب کے اس انتخاب کی دلیل جناب ابوطالب کا ایمان اور توحید پر عقیدہ تھا۔

موسوی تبریزی: جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک اور ادیان شناس تھے

لبنان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب (ع) کے بارے میں تاریخ میں مختلف طرح کی باتیں نقل ہوئی ہیں۔ واضح ہے کہ ایسی شخصیت کے بارے میں اختلاف کی وجہ کیا چیز ہے، لیکن تاریخ نے یہ بھی واضح بیان کیا ہے کہ جناب ابوطالب نے لوگوں کو اسلام اور کلمہ توحید کی طرف دعوت دینے میں پیغمبر اکرم کا کتنا ساتھ دیا اور کتنی خدمات انجام دیں۔
حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب حامی پیغمبر اعظم بین الاقوامی سیمینار کہ جو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے منعقد ہوا اس کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب کے ذریعے پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت اور پشت پناہی آپ کی توحید اور اسلام سے وابستگی اور محبت کی علامت ہے۔
انہوں نے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے جناب عبد المطلب کو موحد، مومن اور خداپرست قرار دیا اور کہا: جناب عبد المطلب کہ جو جناب ابوطالب کے والد اور پیغمبر اکرم کے دادا تھے نے حالت احتضار کے وقت اپنے دس بیٹوں میں سے حضرت ابوطالب کا ہاتھ پکڑا اور اور وصیت کی کہ محمد (ص) جو اس وقت آٹھ سال کے تھے کی سرپرستی کریں، حضرت عبد المطلب کے اس انتخاب کی دلیل جناب ابوطالب کا ایمان اور توحید پر عقیدہ تھا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس سیمینار میں جناب ابوطالب کی شخصیت پر پیغمبر اکرم کے دنیا میں آنے سے پہلے اور بعد کے حالات پر گفتگو کرنا چاہیے نیز یہ مسئلہ بھی ضروری ہے کہ حضرت ابوطالب کی شخصیت کے بارے میں گفتگو ایمان یا عدم ایمان کی گفتگو میں خلاصہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب ایک بڑے عالم اور ادیب تھے اور عظیم شاعر بھی شمار ہوتے تھے کہ یہ چیز عربوں کے درمیان ایک بڑا امتیاز تھا لیکن ابھی تک آپ کے علم و دانش اور فصاحت و بلاغت کے بارے میں کوئی کام نہیں ہوا۔ وہ ایسے دانشمند تھے جو فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے مکہ کے قبائل اور بادشاہ روم کے ساتھ ان کے مضبوط تعلقات تھے۔ جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک تھے اور علماء و زعماء کے درمیان ان کا خاص مقام تھا۔
لبنان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نمائندے نے کہا: جناب ابوطالب کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی معرفت اور عرفان تھا جو آپ کے اشعار میں واضح نظر آتا ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم کی شان میں درج ذیل شعر میں ملاحظہ کریں:
وَاللَّهِ لَنْ یَصِلُوا اِلَیْکَ بِجَمْعِهِمْ  /  حَتَّی اُوَسَّدَ فِی التُّرَابِ دَفِیناً
فَاصْدَعْ بِاَمْرِکَ مَا عَلَیْکَ غَضَاضَةٌ  /  وَاَبْشِرْ وَقَرَّ بِذَاکَ مِنْکَ عُیُوناً
وَدَعَوْتَنِی وَ ذَکَرْتَ اَنَّکَ نَاصِحِی  /  فَلَقَدْ صدَقْتَ وَ کُنْتَ قَبْلُ اَمِیناً
وَ ذَکَرْتَ دِیناً قَدْ عَلِمْتُ بِاَنَّهُ  /  مِنْ خَیْرِ اَدْیَانِ الْبَرِیَّةِ دِینا

موسوی تبریزی نے مزید کہا: ان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ جناب ابوطالب گزشتہ ادیان سے بھی آشنائی رکھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: پیغمبر اکرم نے جناب ابوطالب کی تشییع جنازہ کی اور انہیں سپرد خاک کیا اور اس کے بعد بہت زیادہ گریہ کیا یہاں تک کہ قریش نے پیغمبر اکرم کے گریہ کی آوازیں سنی۔ اسی وجہ سے آںحضور نے اس سال کو عام الحزن کا نام دے دیا یعنی غم و اندوہ کا سال۔ پیغمبر اکرم کے اس اقدام کے بہت سارے معانی لیے جا سکتے ہیں۔ ابوطالب کی شخصیت کے تمام پہلوؤں پر توجہ کرنے اور انہیں دنیا میں پہچنوانے کی ضرورت ہے۔

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
8*8=? سیکورٹی کوڈ