سیمینار نیوز

  • جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء کو سرٹیفیکیٹ دینے کا اعلان

    جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء کو سرٹیفیکیٹ دینے کا اعلان

    اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کے سیکریٹریٹ نے ایک اعلانیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو سیمینار کے سیکریٹریٹ کی جانب سے سرٹیفیکیٹ دی جائے گی جنہوں نے سیمینار کو علمی مقالے ارسال کئے۔
    سیکریٹریٹ کی جانب سے دیا گیا اعلانیہ؛

    75608eaaf31e096048a39eeca391b90b_952.jpg


    بسمہ تعالی
    جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار میں تمام شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس علمی و ثقافتی پروگرام کو رونق افروز بنانے کے لیے محترم اساتید، مضامین کے مولفین اور تعاون کرنے والے مراکز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سیمینار میں مورد قبول علمی آثار پیش کرنے والوں، خصوصا وہ افراد جن کی کاوشیں منتخب واقع ہوئیں نیز وہ افراد جنہوں نے اپنے مقالے سیمینار کی علمی نشستوں میں پیش کئے سب کے لیے سیمینار کے سیکریٹریٹ کی جانب سے سرٹیفیکیٹ جاری کئے گئے ہیں۔
    لہذا مذکورہ سیمینار میں علمی کاوشیں پیش کرنے والے تمام حضرات سے گزارش ہے کہ وہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور واقع قم المقدس ( ایڈرس ؛ قم، ابتدای بلوار جمهوری اسلامی، نبش کوچه شش، مجمع جهانی اهل بیت علیهم السلام، طبقه سوم) میں تشریف لا کر اپنی سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔
    سیکریٹریٹ سیمینار جناب ابوطالب(س) حامی پیغمبر اعظم (ص)
    شوال ۱۴۴۲

  • حضرت ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی کاوشوں کا تعارف/ 5۔ عربی مقالات کی پہلی جلد

    حضرت ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی کاوشوں کا تعارف/ 5۔ عربی مقالات کی پہلی جلد

     "حضرت ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار" - تین سالہ علمی، ادبی، تبلیغی اور ثقافتی فعالیتوں کے بعد -  اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام اور مختلف اداروں کے تعاون سے 9 مارچ 2021ء کو منعقد ہوا۔
    اس سیمینار کی علمی سرگرمیوں میں "حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے ادبی ورثے کے سلسلے میں مرتبہ فاخر اور عمدہ کاوشوں پر تحقیق اور ان کے احیاء، تصحیح و تراجم کا اہتمام شامل ہے نیز شیعہ اور  حضرت ابو طالب(ع) کی منزلت و مرتبت کے بارے میں، سنی مصادر میں منقولہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ارشادات و آراء کی روشنی میں کچھ رسائل کی اشاعت سے عبارت ہے۔
    محققین اور اہل قلم افراد کی ضرورت کے پیش نظر اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی اس سیمینار سے متعلق تمام کاوشوں کو متعارف کروانے کی سعی کر رہی ہے۔
    ہم نے حصہ اول میں قصیدہ لامیہ پر علامہ سردار کابلی کی شرح، دوسرے حصے میں حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے قصیدۂ لامیہ کے ترجمے، اور تیسرے حصے میں "زہرۃ الادباء فی شرح لامیۃ شیخ البطحاء" کا تعارف اور چوتھے حصے میں  "بلوغ المطالب في شرح لامية أبي طالب(ع)" کا تعارف پیش کیا اور پانچویں حصے میں سیمینار کو موصول ہونے والے مقالات کی پہلی جلد کا تعارف کرواتے ہیں:
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    5۔ سیمینار کے عربی مقالات کی پہلی جلد
    ۔ کتاب کا نام: جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار کے مقالات کا مجموعہ
    ۔ جلد نمبر: 1
    ۔ زبان: عربی
    ۔ زیر اہتمام: سیمینار سیکرٹریٹ، شعبہ ثقافتی امور برائے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
    ۔ ناشر: شعبہ نشر و اشاعت اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
    ۔ پہلی اشاعت: 1442 هـ. ق، 2021
    ۔ صفحات کی تعداد: 363
    ۔ اس جلد میں موجود مقالات کی فہرست:
     1. أبوطالب؛ الصحابي المفتری علیه/ الشهيد الدكتور «عز الدين سليم»
      2. أبوطالب؛ إيمان مطلق - سيرة وجهاد/ الأستاذ «عبدالأمير عزيز القريشي» (رئیس مرکز کربلا للبحوث والدراسات - العراق)
      3. أبوطالب.. بين التاريخ الطبقي والتدوين المذهبي/ الدکتور «علي أبو الخير» (جمهوریة مصر العربیة)
      4. أبوطالب حامي الإسلام/ العلامة «باقر شريف القرشي»
      5. أبوطالب.. ذرية بعضها من البعض/ الدكتور «مكي كشكول» (آسٹریلیا)
      6. مكانة القيم الاجتماعية في أساليب دفاع أبي طالب عن النبي(ص) من خلال ديوانه؛ قضايا النسب و القبيلة أنموذجاً/ الدکتور «محسن الويري» و«أحمد هاتف المفرجي»
      7. سيرة أبي طالب(ع) من خلال كتاب السيرة النبوية لابن هشام؛ دراسة نقدية تحليلية مقارنة/ الدكتور «شاكر مجيد كاظم» (أستاذ كليه الآداب لجامعة البصرة - العراق)
      8. أبوطالب(ع)/ الشيخ «طه العبيدي»
      9. أبوطالب سابق بني هاشم/ الدكتور «أحمد راسم النفيس» (جمهوریة مصر العربیة)

    خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے 25، 26 اور 27 رجب المرجب 1442 کو جناب ابوطالب کے ایام وفات میں منعقد ہوا۔
    "جناب ابوطالب ادبی میڈیا فیسٹیول، اور "جناب ابوطالب اطفال و نوجوان فیسٹیول" بھی اس سیمینار میں شامل تھے، نیز اس سیمینار کے سیکرٹریٹ نے سیمینار کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر متنوع پروگرام جیسے جناب ابوطالب (ع) کے لیے خطاطی، مشاعرہ وغیرہ کا بھی اہتمام کیا تھا۔
    جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کی پانچ زبانوں فارسی، عربی، انگریزی، ترکی اور اردو پر مشتمل ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۲۴۲

  • تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کی نمائش

    تصویری رپورٹ/ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کی نمائش

    جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے فن پاروں کو قم کی روڈ صفائیہ پر نمائش میں لگایا گیا۔

  • جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

    جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

    جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب ۱۱ مارچ بروز جمعرات عید بعثت کے دن منعقد ہوئی اس میں تین سالہ علمی کاوشوں؛ کتابوں، مقالات، تراجم اور قیمتی تحقیقات نیز ۴۲ علمی نشستوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔
    سیمینار کی اختتامی تقریب کے اصلی مقرر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی تھے جنہوں نے بعثت پیغمبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف اور اس کے آثار و برکات کو بیان کیا۔
    پیغمبر اکرم کی بعثت اور انسان کا مقام
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے بعثت کی برکتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بعثت کے بعض آثار و برکات یہ تھے کہ لوگوں کو مادی زندگی سے معنوی زندگی کی طرف مائل کرے، اور انسان کو وحی الہی کی نگاہ سے پہچنوائے۔ نیز خدا انسان کا معلم ہو اور انسان تعلیم حق کا متعلم۔
    انہوں نے مزید کہا: بعثت ان پابندیوں اور زنجیروں سے چھٹکارا دیتی ہے جن میں انسان خود کو جھکڑتا ہے۔ بعثت کا اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ بشریت عظمت اور وقار کی راہ پر حرکت کرے اور لوگ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کمال کی راہ پر چلیں۔
    آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: خداوند عالم نے قرآن کریم میں خود کو "اکرم" پہچنوایا ہے، اس کے فرشتے بھی کرامت کی منزل پر فائز ہیں اور اس کی کتاب بھی کرامت کی صفات کی مالک ہے، اس کا پیغمبر بھی کریم ہے لہذا یقینی طور پر اگر انسان خدائے اکرم کی تعلیمات سے مستفیذ ہوں گے تو ان میں بھی کرامت اور بزرگی پیدا ہو گی۔
    اس اسلامی اسکالر نے مزید کہا: مکارم اور محاسن میں فرق یہ ہے کہ محاسن دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے حاصل ہوتے ہیں لیکن کرامت خود انسان کے اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے کہ اس کا نفس کیسے تربیت پاتا ہے۔ اگر انسان کی روح کریمانہ ہو گی تو اس کے نفس میں وسعت پیدا ہو گی۔
    جناب ابوطالب سیمینار کے لیے کئی سال جد وجہد
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیمینار میں علمی مقالات پیش کرنے اور کتب تحریر کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا سیمینار کے منتظمین، اسمبلی کے کارکنان اور خصوصا مراجع تقلید کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد کا پلان ۲۰۱۷ کے اواخر میں میں طے پایا اور گزشتہ سال یہ سیمینار منعقد ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔
    آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: بعض مشکلات کے باوجود یہ ارادہ بنا لیا گیا کہ یہ بین الاقوامی سیمینار اسی سال فیزیکلی اور ویرچوئل طریقے سے منعقد کیا جائے اور مزید اس میں تاخیر نہ ڈالی جائے۔
    انہوں نے ابوطالب انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین صباحی کاشانی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا: اس سلسلے میں قابل قدر کام بعض اہم شخصیات کے ذریعے انجام پائے ہیں نیز وافر مقدار میں علمی نشستیں بھی منعقد ہوئی ہیں اور ان میں اچھی گفتگو بھی کی گئی ہے۔ ان کے فوائد مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
    جناب ابوطالب سیمینار کے اہداف
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا: اسمبلی کے مقاصد میں سے ایک جناب ابوطالب جیسی شخصیت کو متعارف کروانا ہے۔ لہذا اس سیمینار کے انعقاد کا ایک اہم مقصد اس شخصیت کو دنیا میں پہچنوانا ہے اور اس شخصیت کے بارے میں دقیق مطالعہ اور تحقیق ہے جس کا ماحصل دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
    آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: جب تاریخ اسلام کو دیکھتے ہیں تو جناب ابوطالب کا کردار بعثت کے دور میں سب سے نمایاں نظر آتا ہے، البتہ جناب خدیجہ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا یا اسلام کے سب سے پہلے شہدا جناب یاسر اور ان کی بیوی سمیہ اور دیگر افراد بھی اپنی جگہ قابل اہمیت ہیں۔ لیکن بعثت کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں جناب ابوطالب کا کردار سب سے زیادہ اہم اور ممتاز ہے۔
    انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کی بڑی شخصیات پہچاننا چاہیے کہا: مسلمانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ جناب ابوطالب اسلام کے لیے باعث عزت و سربلندی تھے۔
    انہوں نے مزید کہا: ابوطالب صدر اسلام کی مظلوم شخصیات میں سے ایک ہیں اور انہیں گہرائی سے پہچنوانے کی ضرورت ہے ان سے زیادہ مظلوم بعثت کے زمانے میں کوئی نظر نہیں آئے گا۔
    جناب ابوطالب سیمینار کے سربراہ نے شکوک و شبہات کو دور کرنا سیمینار کا دوسرا مقصد بیان کیا اور کہا: آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی سے جب ہم نے اس سلسلے میں ملاقات کی اور جناب ابوطالب کے بارے میں ایک فلم بنانے کا منصوبہ پیش کیا تو انہوں نے اس کام کو اہم اور قابل قدر قرار دیا۔
    انہوں نے مزید کہا: نیز آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے بھی اس سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا اور رہنمائی فرمائی۔
    جناب ابوطالب کے اوصاف
    آیت اللہ رمضانی نے تاریخ اور روایات کی نگاہ سے جناب ابوطالب کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب "موحد"، "مسلمان"، "مومن"، ایمان کے بالاترین درجہ کے فائز، مستجاب الدعوۃ، ولی اللہ، ہدایت یافتہ، گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے، طاہر، مطہر، انبیاء اور اوصیاء الہی کے فرزند، بت پرستی کے دشمن، اہل کرامت، آئندہ حادثات کی نسبت پیش گوئی کرنے والے، حکیم، شجاع، عربوں کے درمیان مقبول، ضعیفوں کے حامی، حد سے زیادہ بخشش کرنے والے، صابر، امانتدار، حکیم، عالم، سیادت سقایت اور قضاوت کے مناصب پر فائز، سید البطحاء ، شیخ الاباطح اور سردار مکہ تھے۔
    انہوں نے مزید کہا: گویا عبد المطلب، ابوطالب اور جناب خدیجہ اللہ کی طرف سے پیغمبر اکرم کی جان کی حفاظت کے لیے مامور ہوئے تھے۔ ابوطالب حقیقی معنی میں مربی تھے اور اس عظیم امانت کے تئیں وہ خود کو امین سمجھتے تھے۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب کی پیغمبر اکرم کی نسبت حمایتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: شعب ابی طالب کے دشوارترین اور کٹھن حالات اور سماجی اور معیشتی محاصرے کے دوران کفار چاہتے تھے کہ ابوطالب پیغمبر اکرم کو ان کے حوالے کر دیں، جناب ابوطالب نے قصیدہ لامیہ پڑھا اور اس کے ذریعے اپنے عقائد کو کفار کے لیے بیان کر دیا۔ اگر ہم اس قصیدہ پر نگاہ ڈالیں تو آپ کے ایمان کی بلندیوں کا ادراک کر سکتے ہیں۔ ابوطالب اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں: " سب یہ جان لیں کہ محمد کو ہم جھٹلا نہیں سکتے اور ہم باطل افراد کی باتوں پر کان نہیں دھر سکتے"۔
    آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: اس قصیدہ کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "قصیدہ لامیہ کو حفظ کرو اور اسے اپنے بچوں کو سکھاؤ" یہ قصیدہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب ابوطالب علم و دانش کے مالک تھے مظلوم کا دفاع کرتے تھے اور حق کی پیروی کرتے تھے۔
    ابوطالب استقامت و پائیداری کے مصداق اور صبر کے پیکر
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: جناب ابوطالب (ع) خود خواہ اور خود پسند لوگوں کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور ان کے مطالبات کو قبول نہیں کیا۔
    انہوں نے روز بعثت کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر "تواصی بالحق و الصبر" کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ابوطالب نے حق کا دفاع کیا، اور دفاع کی راہ میں صبر و استقامت سے کام لیا، وہ استقامت، پائیداری اور صبر کے واضح مصداق تھے۔ ابوطالب نے ظالموں کے مقابلے میں حق پر بھروسہ کیا اور آسمان ہدایت میں ایک درخشان ستارے میں تبدیل ہو گئے۔
    حوزہ علمیہ میں بھی حضرت ابوطالب (ع) کو پہچنوایا نہیں گیا!
    آیت اللہ رمضانی نے حضرت ابوطالب کی مظلومیت کے بارے میں کہا: اتنے عظیم صفات کے مالک ہونے اور بے نظیر اثرات کے حامل ہونے کے باوجود حتیٰ حوزہ ہائے علمیہ میں بھی جناب ابوطالب کو پہچنوایا نہیں گیا چہ رسد عام مسلمان پہچان سکیں، لہذا بعض مراجع کا کہنا تھا کہ اس کام میں خود ہم مقصر رہے ہیں۔
    انہوں نے اس مظلومیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم جب آٹھ سال کے تھے تو جناب عبد المطلب دنیا سے رخصت ہوئے اور پچاس سال کی عمر تک یعنی ۴۲ سال جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی سرپرستی اور حمایت کی۔ لیکن ان کی مظلومیت یہ ہے کہ لوگ پھر بھی ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں۔
    انہوں نے مزید کہا: اس سے بڑی مظلومیت یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو خاندانی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے اتنے بڑے مقام پر فائز ہو اور اوصیاء و اولیائے الہی میں سے شمار ہوتا ہو اس پر کفر کی تہمت لگائی جائے۔ ابوطالب وہ شخص ہیں جنہوں نے ۴۲ سال پیغمبر اکرم کی حمایت سے کوئی دریغ نہیں کیا اور خود کو اور اپنے گھر والوں کو پیغمبر اکرم پر قربان کیا۔
    جناب ابوطالب(ع) سیمینار اور وحدت اسلامی
    آیت اللہ رمضانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں میں وحدت اسلامی پر مبنی زاویہ نگاہ پر زور دیتے ہوئے کہا: اس سیمینار کا ایک مقصد تاریخ اسلام کا احیاء ہے، لہذا یہ اقدام کسی قوم و مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس سیمینار کے ذریعے ہم نے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ ابوطالب جو عالم اسلام کی عظیم شخصیت ہیں اور مذہب تشیع سے مخصوص نہیں ہیں کو بہتر انداز میں پہچانا جائے۔
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: اس سیمینار کے اندر خود اتحاد اور ہمدلی کی فضا پائی جاتی ہے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس سیمینار میں علمائے اسلام چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی ہوں نے اپنا تعاون پیش کیا اس لیے کہ جناب ابوطالب کا تعلق ان شخصیتوں میں سے ہے جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں کسی خاص مذہب سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
    جناب ابوطالب اور آج کا معاشرہ
    اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صدر اسلام میں جناب ابوطالب سے زیادہ بانفوذ کوئی شخصیت نہیں تھی کہا: ہمیں چاہیے کہ ہم آج اپنے معاشرے اور اسلامی انقلاب کے لیے آپ سے درس حاصل کریں۔
    انہوں نے کہا: جس طریقے سے انہوں نے بعثت اور پیغمبر اکرم کے مقاصد کے لیے اپنی عزت کو داؤ پر لگایا ہمیں بھی اسلامی انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھانے کی راہ میں اپنی عزت و آبرو کو داؤ پر لگانے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
    آیت اللہ رمضانی نے مزاحمت کو عالم اسلام کے لیے جناب ابوطالب کی حیات سے اہم درس قرار دیتے ہوئے کہا: ابوطالب نے ۴۲ سال مزاحمت کی تاکہ پیغمبر اکرم (ص) کی تحریک ثمربخش ثابت ہو سکے، ہمیں بھی سامراج کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے اور اس راہ میں مزاحمت کرنا چاہیے۔

  • موسوی تبریزی: جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک اور ادیان شناس تھے

    موسوی تبریزی: جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک اور ادیان شناس تھے

    لبنان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب (ع) کے بارے میں تاریخ میں مختلف طرح کی باتیں نقل ہوئی ہیں۔ واضح ہے کہ ایسی شخصیت کے بارے میں اختلاف کی وجہ کیا چیز ہے، لیکن تاریخ نے یہ بھی واضح بیان کیا ہے کہ جناب ابوطالب نے لوگوں کو اسلام اور کلمہ توحید کی طرف دعوت دینے میں پیغمبر اکرم کا کتنا ساتھ دیا اور کتنی خدمات انجام دیں۔
    حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب حامی پیغمبر اعظم بین الاقوامی سیمینار کہ جو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے منعقد ہوا اس کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب کے ذریعے پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت اور پشت پناہی آپ کی توحید اور اسلام سے وابستگی اور محبت کی علامت ہے۔
    انہوں نے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے جناب عبد المطلب کو موحد، مومن اور خداپرست قرار دیا اور کہا: جناب عبد المطلب کہ جو جناب ابوطالب کے والد اور پیغمبر اکرم کے دادا تھے نے حالت احتضار کے وقت اپنے دس بیٹوں میں سے حضرت ابوطالب کا ہاتھ پکڑا اور اور وصیت کی کہ محمد (ص) جو اس وقت آٹھ سال کے تھے کی سرپرستی کریں، حضرت عبد المطلب کے اس انتخاب کی دلیل جناب ابوطالب کا ایمان اور توحید پر عقیدہ تھا۔
    حجۃ الاسلام و المسلمین موسوی تبریزی نے جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس سیمینار میں جناب ابوطالب کی شخصیت پر پیغمبر اکرم کے دنیا میں آنے سے پہلے اور بعد کے حالات پر گفتگو کرنا چاہیے نیز یہ مسئلہ بھی ضروری ہے کہ حضرت ابوطالب کی شخصیت کے بارے میں گفتگو ایمان یا عدم ایمان کی گفتگو میں خلاصہ نہیں ہونا چاہیے۔
    انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب ایک بڑے عالم اور ادیب تھے اور عظیم شاعر بھی شمار ہوتے تھے کہ یہ چیز عربوں کے درمیان ایک بڑا امتیاز تھا لیکن ابھی تک آپ کے علم و دانش اور فصاحت و بلاغت کے بارے میں کوئی کام نہیں ہوا۔ وہ ایسے دانشمند تھے جو فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے مکہ کے قبائل اور بادشاہ روم کے ساتھ ان کے مضبوط تعلقات تھے۔ جناب ابوطالب ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک تھے اور علماء و زعماء کے درمیان ان کا خاص مقام تھا۔
    لبنان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نمائندے نے کہا: جناب ابوطالب کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی معرفت اور عرفان تھا جو آپ کے اشعار میں واضح نظر آتا ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم کی شان میں درج ذیل شعر میں ملاحظہ کریں:
    وَاللَّهِ لَنْ یَصِلُوا اِلَیْکَ بِجَمْعِهِمْ  /  حَتَّی اُوَسَّدَ فِی التُّرَابِ دَفِیناً
    فَاصْدَعْ بِاَمْرِکَ مَا عَلَیْکَ غَضَاضَةٌ  /  وَاَبْشِرْ وَقَرَّ بِذَاکَ مِنْکَ عُیُوناً
    وَدَعَوْتَنِی وَ ذَکَرْتَ اَنَّکَ نَاصِحِی  /  فَلَقَدْ صدَقْتَ وَ کُنْتَ قَبْلُ اَمِیناً
    وَ ذَکَرْتَ دِیناً قَدْ عَلِمْتُ بِاَنَّهُ  /  مِنْ خَیْرِ اَدْیَانِ الْبَرِیَّةِ دِینا

    موسوی تبریزی نے مزید کہا: ان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ جناب ابوطالب گزشتہ ادیان سے بھی آشنائی رکھتے تھے۔
    انہوں نے مزید کہا: پیغمبر اکرم نے جناب ابوطالب کی تشییع جنازہ کی اور انہیں سپرد خاک کیا اور اس کے بعد بہت زیادہ گریہ کیا یہاں تک کہ قریش نے پیغمبر اکرم کے گریہ کی آوازیں سنی۔ اسی وجہ سے آںحضور نے اس سال کو عام الحزن کا نام دے دیا یعنی غم و اندوہ کا سال۔ پیغمبر اکرم کے اس اقدام کے بہت سارے معانی لیے جا سکتے ہیں۔ ابوطالب کی شخصیت کے تمام پہلوؤں پر توجہ کرنے اور انہیں دنیا میں پہچنوانے کی ضرورت ہے۔

Leave a comment

You are commenting as guest.

عالمی اہل بیت اسمبلی

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی، ایک عالمی اور غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے، عالم اسلام کی ممتاز شخصیات کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کو مرکز فعالیت اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات میں قرآن کریم کے ہمراہ، اہل بیت اطہار علیہم السلام ایک مقدس مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کا آئین نامہ آٹھ فصلوں اور تینتیس شقوں پر مشتمل ہے۔

  • ایران - تهران - بلوارکشاورز - نبش خیابان قدس - پلاک 246
  • 888950827 (0098-21)
  • 888950827 (0098-21)

ہم سے رابطہ کریں

موضوع
دوستوں کوارسال کریں
خط
8-7=? سیکورٹی کوڈ